تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

آٹومیٹک ہتھیاروں کے لائسنس کی معطلی

Share Button

وفاقی حکومت نے آٹومیٹک ہتھیاروں کے لائسنسوں کومعطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے اسلحہ لائسنس ہولڈرز کودواختیارات دئیے جائیں گے۔ پہلے آپشن کے تحت آٹومیٹک لائسنس کو سیمی آٹومیٹک میں تبدیل کرواجاسکے گا،جس کیلئے پندرہ جنوری 2018تک متعلقہ ڈی پی او آفس سے تصدیق کروانا ہوگی۔ دوسرے آپشن کے تحت لائسنس ہولڈرز اپنا آٹومیٹک اسلحہ واپس کرسکتے ہیں جس کے عوض حکومت انہیں پچاس ہزار روپے دے گی۔اسلحہ لائسنس یافتہ افراد ڈپٹی کمشنرز اورپولیٹیکل ایجنٹس کے دفاتر میں اپنا اسلحہ واپس کرسکتے ہیں۔آٹومیٹک ہتھیاروں کے لائسنس کی معطلی کو موجودہ صورتحال میں انتہائی اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے’یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اس سہولت کی آڑ میں جرائم پیشہ عناصر بھی اسلحے کے لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس اسلحے کے ناجائز استعمال نے صورتحال کے بگاڑ میں اہم کردار ادا کیا یہ درست ہے کہ ملکی حالات کے پیش نظر لوگوں کو اپنے دفاع کیلئے حفاظتی اقدامات پر مجبور ہونا پڑا لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جن لوگوں کو حفاظت کی ضرورت ہے وہ تو اسلحہ خریدنے اور محافظ رکھنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے لیکن وہ عناصر جنہوں نے یہ اسلحہ حاصل کیا انہوں نے اسے اپنی طاقت کی نمائش کاوتیرہ بنا لیا تاکہ دوسروں پہ رعب و دبدبہ قائم کیا جا سکے’اس فیصلے پر بلا امتیاز عملدرآمد سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کچھ لوگوں کو تو اس سے مستثنی قرار دے دیا جائے اور باقیوں پہ اس کا پورے طور پر اطلاق کرتے ہوئے ان سے یہ اسلحہ واپس لے لیا جائے’ آٹومیٹک ہتھیار صرف اور صرف حکومتی اہلکاروں اور اداروں ہی کے پاس ہونے چاہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کا اطلاق گلگت بلتستان پربھی کیا جائے کیونکہ یہ حساس علاقہ ہے اور یہاں بھی بڑی تعداد میں آٹو میٹک اسلحہ موجود ہے’اس علاقے کی حساسیت کے پیش نظر تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ اسے مکمل طور آٹو میٹک اسلحے سے پاک کر دیا جائے اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ حالیہ فیصلے کا اطلاق بلاتاخیر گلگت بلتستان پر بھی کیا جائے گا ۔

Facebook Comments
Share Button