GB News

ٹیکسوں کی معطلی کے بعد ہڑتال کا اعلان :چہ معنی دارد

Share Button

صوبائی وزیر قانون و تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال اور پارلیمانی سیکرٹری قانون و انصاف اورنگ زیب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ کے فیصلے کو واپس لینے کے باقاعدہ احکامات جاری کردیئے ہیں پیر کے روز سے تمام بینکوں میں ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی نہیں ہوگی اگر کسی بینک نے کسی بھی صارف سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں کسی بھی قسم کی کٹوتی کی تو ہم ذمہ دار ہیں’تمام محکموں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی روک دیں گلگت بلتستان کونسل کے ذریعے تحریری ہدایات ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو مل چکے ہیں اورتمام بینکوں کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کے بعد فنانس بل 2015-16کی شق 236-Pکو گلگت بلتستان کی حد تک معطل کیاگیا ہے جس کے بعد اس شق کے تحت گلگت بلتستان میں لگنے والے تمام ٹیکسز معطل ہوگئے ہیں ۔پیر سے ہم خود ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھیں گے اور کسی صارف کو کوئی شکایت ہوگی تو اس شکایت کو اسی وقت دور کیا جائیگا۔حکومت کی طرف سے بروقت اقدامات سے ٹیکسوں کا مسئلہ حل ہوگیا ہے اس لئے اب احتجاج کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔گلگت بلتستان میں ٹیکسوں کے نفاذ کا معاملہ کافی عرصے سے زیر بحث ہے گزشتہ حکومت میں بھی یہ مسئلہ سر اٹھاتا رہا لیکن ہنوز اس حوالے سے کوئی حل نہیں نکالا جا سکا اب موجودہ حکومت نے وزیراعظم پاکستان سے بات کر کے ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کو معطل کرانے میں کامیابی حاصل کی’گزشتہ روز بھیپارلیمانی سیکرٹری برائے قانون اورنگ زیب ایڈووکیٹ نے کہا تھا کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے گلگت بلتستان کونسل کے اجلاس کے منٹس آف میٹنگ کی منظوری دے دی ہے جس سے گلگت بلتستان میں بینکوں میں رقوم پر ہونے والی کٹوتی ختم ہو جائیگی’ ٹیکسوں کے نفاذ کے مسائل اور دیگر مسائل آئندہ چند روز میں حل ہوجائیں گے ٹیکسوں کے نفاذ پرہم نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ ہم اس مسئلے کو حل کریں گے اورہم نے اس مسئلے کو اب حل کردیا ہے اب ایک بار پھر حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جو یقینا مثبت پیشرفت ہے اس اعلان کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹیکسوں کے نفاذ پر احتجاج کی کال دینے والے اپنے مطالبات کی تکمیل پر احتجاج کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کرتے لیکن انہوں نے اس کے باوجود ہڑتال کرنے کا اعلان کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں’جب بنیادی مسئلہ ہی حل ہو گیا ہے جس کی بنا پر احتجاج کی کال دی گئی تھی تو اس احتجاج کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہتا حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب حکومت نے ان کے مطالبات کے حوالے سے مقدور بھر سعی کرتے ہوئے انہیں من و عن تسلیم کر لیا ہے تو احتجاج کر کے لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے کیا مقاصد ہیں’یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ احتجاج سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ماضی اس بات کا شاہد ہے کہ بلاجواز ہٹ دھری اور ضد کا نقصان عام آدمی ہی کو ہوتا ہے ہڑتالیں کرنے’جلوس نکالنے اور دھرنے دینے سے نہ صرف خطے کی معیشت کو نقصان پہنچے گا بلکہ عام آدمی جس کے روزگار کا انحصار روزانہ کی مزدوری پر ہے وہ کیسے اپنی ضرورتوں کو پوراکرے گا احتجاج کا جواز اس صورت میں تو تھا کہ ان کے مطالبات پر کان نہیں دھرے گئے لیکن جب حکومت بااصرار یہ کہہ رہی ہے کہ نہ صرف ٹیکس معطل کر دیے گئے ہیں بلکہ وہ اس فیصلے پہ عملدرآمد کی نگرانی بھی خود کریں گے’سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت نے انجمن تاجران اورعوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کومذاکرا ت کی دعوت دی تو انہوں نے مذاکرات میں شرکت سے کیوں انکار کیا حالانکہ بڑے سے بڑا مسئلہ بالاآخر مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتا ہے’جب حکومتی اراکین یہ ذمہ داری لے رہے ہیں کہ کسی بھی قسم کے ٹیکس کی کٹوتی کے وہ ذمہ دار ہیں تو اس یقین دہانی پہ یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں چنانچہ ہڑتال کا اعلان بے چینی’اضطراب اورافراتفری پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے’اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ بلاوجہ ہڑتال کی بجائے اگر مذکورہ احکامات کے سلسلے میں کوئی ابہام پایا جاتا ہے تو اسے گفت و شنید کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے مذاکرات سے معاملات حل ہونے کے بعد راہ فرار اختیار کرنا قطعا درست نہیں ہے ‘یہ حقیقت تسلیم کر لی جانی چاہیے کہ گلگت بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہونے کے باعث ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے اگر اسے ہڑتالوں واحتجاجوں کا مرکز بنا لیا گیا تو اس کی ترقی کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی ہوں گی اور یہ آگے بڑھنے کی بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہوتا چلا جائے گا لہذا بحیثیت مجموعی یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرنے کی راہیں اختیار کرنے کی بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جو اس کی ترقی کے ضامن ہوں اور جن سے عوام و خطے کی بہتری کو ممکن بنایا جا سکے۔

Facebook Comments
Share Button