تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس کئی گھنٹوں سے جاری ہر ایک وزارت کو عملدرآمد کیلئے پانچ سالوں پر محیط مخصوص سٹرٹیجک پلان کی تیاری کا ہدف دیا ... مزید-منگنی کسی سے شادی کسی سے ،لڑکی نے منگیتر کو سبق سکھا دیا لڑکی نے بے وفائی پر حملہ کر کے منگیتر، اُس کی بیوی اور والدہ کو زخمی کردیا-مرکز میں نیاپاکستان بناہے،اقتصادی طورپرملک کی صورتحال ابتر ہے، آفتاب شیرپاؤ حکومت کی 100دن کی کارکردگی نظرنہیں آرہی،خیبر پشتوخوا اور بلوچستان میں لا پتہ افراد کا مسئلہ ... مزید-بیرون ممالک پاکستان کا موجودہ حکومت پر اعتماد کا اظہار جولائی سے نومبر کے درمیان بیرون ممالک سے 9 ارب ڈالرز سے زائد ترسیلات زر بھیج دیں-بدعنوان عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جانی چاہئے ، علی امین خان گنڈا پور اپوزیشن احتساب سے بچنے کیلئے حکومت پر بلاوجہ تنقید کر رہی ہے،پی ٹی آئی کسی بدعنوان کو معاف ... مزید-سپیکر قومی اسمبلی کا راجہ ریاض کی جانب سے (ن) لیگ کی قیادت کیخلاف نازیبا الفاظ کے استعمال پر انتباہ جاری آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے ... مزید-نوجوان قوم کا قیمتی سر مایہ ہیں انہوں نے ہی مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی حکومت بلوچستان میں نئے تعلیمی ادارے خصوصا ٹیکنیکل تعلیم ادارے ... مزید-کسی کا نام ناجائز طور پر ای سی ایل میں ڈالنا اور پرامن احتجاج سے روکنا درست اقدام نہیں ہے ،ْشیریں مزاری-آرمی چیف سے چین کے نائب وزیرخارجہ کی ملاقات علاقائی سیکیورٹی صورتحال ،باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت-پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں‘ شاہ محمود قریشی پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے‘ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ... مزید

GB News

قائدحزب اختلاف کی نامزدگی ، تین ممبران اسمبلی کی رکنیت خطرے میں پڑ گئی

Share Button

گلگت(خصوصی رپورٹ)قائدحزب اختلاف کی نامزدگی کی دو الگ الگ ریکوزیشن پر دستخط کرنے پر تین ممبران اسمبلی کی رکنیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں بارہ اکتوبر 2017کو رول آف پروسیجر کی ترامیم کی منظوری کے بعدپی پی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے بطور قائد حزب اختلاف نامزدگی کی ریکوزیشن پر ممبران اسمبلی کے دستخط حاصل کرنے شروع کردیا اس دوران اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی کیپٹن(ر) شفیع خان نے سات ممبران کے دستخطوں سے اپنی ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی جبکہ چند دنوں بعد پی پی کے جاوید حسین نے بھی چھے ممبران کے دستخط حاصل کر کے ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی دلچسپ بات یہ ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے تین ممبران حاجی رضوان علی،کاچو امتیاز حیدر خان اور نواز خان ناجی نے جاوید حسین اور کیپٹن (ر) شفیع دونوں کی ریکوزیشن پر دستخط کئے ہیں،اور تینوں ممبران اسمبلی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے دونوں ریکوزیشن پر دستخط کئے ہیں ذرائع کے مطابق حاجی رضوان علی اور کاچو امتیازحیدر نے پہلے جاوید حسین کی ریکوزیشن پر دستخط کئے بعد میں کیپٹن(ر) شفیع خان کی ریکوزیشن پر دستخط کئے اس طرح نواز خان ناجی نے پہلے کیپٹن(ر) شفیع خان کی ریکوزیشن پر دستخط کئے بعد میں جاوید حسین کی ریکوزیشن پر دستخط کئے ہیں،قانونی ماہرین کے مطابق اب سپیکر ان تینوں ممبران اسمبلی کو اپنے چیمبر میں بلائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ ان کے دستخط کو کس ریکوزیشن پر شمار کریں گے ان ممبران کی نشاندہی پر سپیکر ان کے ووٹ کو شمار کریگا ذرائع کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کیلئے بیک وقت دو امیدواروں نے ریکوزیشن جمع کرادی ہو اس حوالے سے گورننس آرڈر بھی خاموش ہے اور اس حوالے سے سپیکر قانون سازاسمبلی نے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ان تینوں ممبران نے دونوں ریکوزیشن پر دستخط کر کے اپنی رکنیت خطرے میں ڈالی ہے اور اس خطرے کا احساس کرتے ہی نواز خان ناجی نے اعلان کیا ہے کہ وہ قائد حزب اختلاف کے دونوں امیدواروں میں سے کسی کے حق میں بھی اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کریںگے قانونی ماہرین کے مطابق کوئی بھی رکن اسمبلی یا کوئی بھی شہری الیکشن کمیشن میں درخواست دے سکتا ہے کہ ان تینوں ممبران اسمبلی نے دونوں جگہ دستخط کر کے دھوکہ دہی کے مرتکب ہوئے ہیں اور صادق اور امین نہیں رہے ہیں اس لئے باسٹھ ترسیٹھ کے تحت ان کی رکنیت منسوخ کی جائے قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ قائد حزب اختلاف بھی الیکشن کمیشن سے رجوع کرسکتا ہے کہ ان تینوں ممبران نے دونوں ریکوزیشن پر دستخط کر کے دھوکہ دہی کے مرتکب ہوئے ہیں اور صادق اور امین نہیں رہے ہیں اس لئے ان ممبران کی رکنیت منسوخ کی جائے ذرائع کے مطابق اگر ایسی کوئی درخواست الیکشن کمیشن کے پاس جمع ہوتی ہے تو یہ حکومت کے فائدے میں ہوگی اور صوبائی حکومت کی بھی خواہش اور کوشش ہوگی کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ان تینوں ممبران کی رکنیت منسوخ ہوتا کہ ضمنی الیکشن میں حکومتی پارٹی کے ممبران کامیاب ہوسکیں۔

Facebook Comments
Share Button