GB News

گلگت بلتستان کو فی الفور آئینی حقوق دیئے جائیں ورنہ بھول جائیں کہ سی پیک اور دیگر منصوبے کا میاب ہو ں گے، ڈاکٹر اقبال

Share Button

سکردو ( محمد اسحاق جلال ) وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر اقبال نے کہاہے کہ آئینی حیثیت کے معاملے پر ہم بہت ہی پریشان ہیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے والے ہی تھے کہ انہیں نااہل کر دیا گیا نواز شریف جب وزیر اعظم تھے تو آئینی حیثیت کے تعین کی بڑی امید نظر آرہی تھی مگر موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ابھی تک ہماری کوئی تفصیلی ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے ایسے میں ہم اپنے آئینی معاملے پر نہایت ہی فکر مند ہو رہے ہیں کیونکہ آئینی مسئلے پر کیا پیش رفت ہو رہی ہے ہمیں کچھ بھی علم نہیں کے پی این کو دیئے گئے انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں ہر جگہ جا کر یہی کہہ رہے ہیں کہ سی پیک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو گلگت بلتستان کو فی الفور آئینی حقوق دیئے جائیں ورنہ بھول جائیں کہ سی پیک اور دیگر منصوبے کا میاب ہو ں گے گلگت بلتستان پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے بہت ضروری ہے جب تک ہمیں آئینی حقوق نہیں ملیں گے تب تک سی پیک سمیت دیگر بڑے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے آئینی حیثیت کا تعین نہ ہوا تو سی پیک ہمیشہ متنازعہ رہے گا بہت سارے لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ آئینی حیثیت کا تعین نہ ہوا تو آپ لوگ مستعفیٰ کیوں نہیں ہوتے آپ لوگ استعفے پیش کریں ہمارے اوپر شدید عوامی دباؤ ہے ہم عوام کو سمجھا رہے ہیںکہ آئینی حیثیت کے تعین کیلئے ہماری جدوجہد 70سال پر محیط ہے 70سال میں مسئلہ حل نہیں ہوا ہے تو اب ایک دم سے مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟ انہوں نے کہاکہ آئینی حیثیت کا مسئلہ تمام لوگوں کا مشترکہ مسئلہ ہے تمام مسالک کے لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں سینٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی ملے اسمبلی نے آئینی صوبے کے حق میں متعدد قرارداد یں منظور کی ہیں اے سی پی نے اسمبلی کی قراردادوں کی توثیق کرتے ہوئے وفاق سے گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا مگر ابھی تک آئینی معاملے پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آرہی ہے ہم ہر جگہ آئینی حقوق کے معاملے پر لڑرہے ہیں ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم وفاق اور دیگر جگہوں پر اپوزیشن کاکردار ادا کر رہے ہیں ہم نے کشمیریوں پربھی یہ بات واضح کر دی ہے کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی راہ میں انہوں نے رکاوٹ ڈالی تو کشمیر کا ز کو نقصان پہنچے گا اس لئے وہ روڑے نہ اٹکائیں انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ جلد واپس ہو جائے گا کیونکہ ٹیکسوں کے نفاز کے فیصلے کو واپس لینے کا اعلان وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا ہے وزیر اعظم کے اعلان پر عملدآمد نہ ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوگا انجمن تاجران ہڑتال کرنے میں جلد بازی نہ کرے کیونکہ ان کا مسئلہ جلد ہی حل ہو رہا ہے ہڑتال کرنے سے نقصان عوام کا ہوگا ہڑتال کسی کے مفاد میں نہیں انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی سیاسی یتیم ہوگئی ہے وہ اس وقت تنہائی کا شکار ہے اس لئے یہ جماعت عوام کو احتجاج اور ہڑتال پر اکسا رہی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کو اپنا مستقبل بہت ہی تاریک نظر آرہا ہے ٹیکس پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈ ووکیٹ اور دیگر سابق اراکین کونسل کی مشاورت پر لگایا گیا ہے ہم ٹیکسوں کے نفاذکے فیصلے کو واپس لے رہے ہیں عوام پیپلزپارٹی کی باتوں میں نہ آئیں ہم پیپلزپارٹی جیسی کرپٹ جماعتوں کو کھیل تماشہ کرنے نہیں دیں گے پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پیپلزپارٹی کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے ۔

Facebook Comments
Share Button