GB News

سعودی عرب میں 15نومبر سے غیر قانونی تارکین کیخلاف مکمل مہم شروع

Share Button

ریاض:سعودی وزارت داخلہ 26صفر 1439 ءمطابق 15نومبر 2017 ءسے مملکت کے تمام علاقوں میں اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ کیلئے مشترکہ فیلڈ مہم شروع کریگی۔

تفصیلات کے مطابق اس مہم سے کسی بھی ملک کے تارکین مستثنیٰ نہیں ہونگے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جامع سیکیورٹی مہم کی منظوری دیدی۔انھوں نے یکم رجب 1438ھ مطابق 28مارچ 2017ءکو اقامہ و محنت و سرحدی سلامتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنےوالوں کو 90روزہ مہلت دی تھی۔پھر یکم شوال 1438ھ مطابق 25جون 2017ءکو تمام ممالک کے غیرقانونی تارکین کے لئے مہلت میں توسیع کردی گئی تھی۔

اس کے تحت غیر قانونی تارکین کو موقع دیا گیاتھا کہ اپنے خرچ پر ازخود مملکت سے وطن واپس چلے جائیں۔ ایسا کرنے والوں کو قید و جرمانے کی سزاﺅں اور فنگر پرنٹس کے منفی اثرات سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔مہلت سے فائدہ اٹھاکر جانے والوں کو یہ رعایت بھی دی گئی تھی کہ وہ قانونی طریقے سے مملکت ملازمت کے ویزے پر دوبارہ آسکتے ہیں۔

سعودی ایوان شاہی نے مہلت میں مزید توسیع 25صفر 1439ھ مطابق 14نومبر 2017ءتک کردی تھی اب جبکہ14نومبر کو مہلت کا آخری دن ہے لہذا وزارت داخلہ اور اسکے ماتحت تمام متعلقہ سرکاری ادارے غیر قانونی تارکین کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ 26صفر 1439ھ مطابق 15نومبر 2017ءسے اقامہ و محنت اور سرحدی سلامتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردینگے۔ایسے سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیو ں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جو غیر قانونی تارکین کو آمد ورفت کی سہولت دینگے یا انہیں روزگار مہیا کرینگے یا انکے لئے رہائش کا بندوبست کرینگے۔ ہر ایک کو مقررہ سزا دی جائیگی۔

وزارت داخلہ نے سعودی شہریوں اور قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اقامہ و محنت و سرحدی سلامتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ معاملات پر عائد پابندی کے قوانین و ضوابط کا احترام کریں۔ کوئی بھی شہری اور کوئی بھی قانونی طور پر مقیم غیر ملکی انہیں چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ انہیں کہیں بھی آمد ورفت کی سہولت نہ دے انہیں روزگار مہیا نہ کرے۔ کسی بھی طرح سے انکا تعاون نہ کرے۔ وزارت داخلہ نے پرزو راپیل کی ہے کہ اگر کسی سعودی شہری یامقیم غیر ملکی کو غیر قانونی تارکین کی موجودگی کا علم ہو یا کوئی انکا تعاون کررہا ہو تو اس کی رپورٹ 999پر کرے اور قومی مہم  کے ساتھ تعاون کرے۔

Facebook Comments
Share Button