GB News

حکومتی نوٹیفکیشن کو مذاق قرار، انجمن تاجران کا ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان

Share Button

سکردو+گلگت(چیف رپورٹر+ نمائندہ خصوصی) مرکزی انجمن تاجران اورعوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتی نوٹیفکیشن کو مذاق قرار دیکر ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیاہے کورکمیٹی کا اجلاس گلگت کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں مرکزی انجمن تاجران کے صدر محمد ابراہیم ،جنرل سیکریٹری مسعود الرحمن سمیت کورکمیٹی کے ممبران راجہ ناصر ،میرباز علی ایڈووکیٹ ،فروس احمد ،سیدیعسف الدین ،حاجی دلدار حسین ،حاجی غلام حسین ،عزیز احمد ،میرنواز میر سمیت دیگر ممبران اور تاجروں نے شرکت کی اجلاس میں گزشتہ روز کی ہڑتال کا جائزہ بھی لیا گیا اور کامیاب ترین مثالی ہڑتال کہاگیا اسکے ساتھ ساتھ گلگت سے گرفتار ہونے والے تاجروں کی گرفتاری پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا اجلاس میں حکومت کی جانب سے جاری ون پوائنٹ نوٹیفکیشن پر غور کیا اور اس نوٹیفکیشن کو مذاق قرار دیکر یکسر مسترد کرتے ہوئے شٹر ڈائون ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔اجلاس میں کہاگیا کہ حکومت لالی پاپ دینے کی کوشش نہ کرے تمام ٹیکسز کو ختم کرنے کا مطالبہ لیکر ہڑتال شروع کی گئی ہے کسی ایک ٹیکس پر ہم نے کبھی بات نہیں کی ہے حکومتی ذمہ داروں کی طرف سے جھوٹ پے جھوٹ بولا جارہاہے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ٹیکس آرڈننس 2013 اور گلگت بلتستان سے ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو فی الفور ختم کیاجائے ۔ ادھر جنرل سیکرٹری مرکزی انجمن تاجران گلگت بلتستان مسعود الرحمن نے کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے گلگت بلتستان کونسل سے جاری نوٹیفکیشن کو مسترد کردیا ہے اورہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے انہوںنے کہا کہ مرکزی انجمن تاجران،آل پارٹیز کور کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مشاورت کے بعد حکومتی نوٹیفکیشن کو مسترد کردیا ہے یہ محض ایک دھوکہ ہے اس نوٹیفکیشن کے ذریعے جی بی کے عوام اورتاجران کو لالی پاپ دینے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ مرکزی انجمن تاجران اور جی بی کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں اور وکلاء برادری سمیت تمام دیگر تنظیموں کا یہ واضح متفقہ اور مشترکہ مطالبہ ہے کہ جی بی میں لاگو تمام ٹیکس کے نفاذ سے متعلق 2013میں جاری کئے گئے وفاقی حکومت کے آرڈر کو مکمل طورپر واپس لیاجائے ہماری یہ ہڑتال ود ہولڈنگ سمیت ان تمام ٹیکسز کے واپسی کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے تک جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد بار حکومتی عہدیداروں اور وزراء کے ساتھ مذاکرات بھی کئے تاکہ ہمارا یہ مطالبہ خوش اسلوبی اور پر امن طریقے سے حل ہو مگر ہم سے ہر بار جھوٹ بولا گیا اور ہمارے ساتھ دھوکہ کیاگیا جس کے بعد شٹر ڈائون ہڑتال اور احتجاج کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔انہوںنے کہا کہ جی بی کی آئینی حیثیت کے تعین اور ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل سہولیات اور حقوق مہیا کئے بغیر یہاں پر کسی بھی طرح کے ٹیکس کے نفاذ کا کوئی قانونی اور اخلاقی جوازنہیں اور یہ تمام ٹیکسز غنڈہ ٹیکسزکے زمرے میں آتے ہیں جن کے نفاذ کے خلاف اب گلگت بلتستان کی تاجر برادری اور تمام کے تمام طبقات بلا رنگ نسل و مذہب متحد ہو چکے ہیں اور اپنے خلاف ہونے والی اس ناانصافی اورزیادتی پر سراپا احتجاج ہے جس کا عملی مظاہرہ پیر کے روز گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں ہونے والی انتہائی منظم اور موثر ہڑتال کے ذریعے کیاگیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم کسی قسم کا تشدد یا امن و امان میں خلل ڈالنے کے ہرگز تیار نہیں لیکن بعض مقامات پر پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں کے طرز عمل کے ذریعے تاجروں کو بدامنی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوںنے پیر کے روز دوران ہڑتال کشروٹ کے علاقے میں نو پرامن ہڑتالی تاجروں کو بلا جواز گرفتاری کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ گرفتار شدہ گان کو فوراً رہانہ کیا گیا تو اس زیادتی کے خلاف پورے جی بی کے تاجر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ ادھر انجمن تاجران کی کال پر آج منگل کو بھی سکردو میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہو گی یادگار چوک پر بڑا احتجاجی مظاہر ہو گا جس میں ضلع بھر کے تاجر اور عوام شرکت کریں گے شرکائے جلسہ کو کھانے پینے کی سہولت دینے کیلئے شہر میںتاجروں نے چندہ مہم شروع کر دی ہے تاجروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس وقت تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت ہٹ دھرمی ترک نہیں کرے گی اور اب تک عائد کئے گئے تمام ٹیکسز ختم نہیں کئے جائیں گے انجمن تاجران نے مطلع کیا ہے کہ عوام حکومتی چمچوں کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور منگل کے روز ہڑتال کو دوبارہ کامیاب کرائیں بعض حکومتی نمک خوار ہڑتال کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور منفی پروپیگنڈے کر رہے ہیں ۔ادھر انجمن تاجران کے صدر غلام حسین اطہرنے کہاہے کہ ہم صرف ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف نہیں ہیں بلکہ تمام ٹیکسز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جب تک تمام ٹیکسز ختم نہیں کئے جائیں گے تب تک ہم اپنی ہڑتال ختم نہیں کریں گے حکومت بنکوں میں رقوم کی منتقلی پر عائد ٹیکس ختم کر کے ہماری ہڑتال ختم کرانا چاہتی ہے تو یہ اس کی بھول ہے ہم اس وقت تک دکانیں نہیں کھولیں گے جب تک گلگت بلتستان میں عائد کئے گئے تمام غیر قانونی و غیر آئینی ٹیکسز واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوگا ہم ڈٹ گئے ہیں حقوق لیں گے یا اپنی جان دیں گے بہت برداشت کیا اب برداشت کی انتہا ء ہو گئی جب آئینی طورپر ہم پاکستان کا حصہ ہی نہیں ہیں تو ہم پر کس قانون کے تحت ٹیکس لگایا جارہا ہے اب تک ہم پاکستان پاکستان کا نعرہ لگارہے ہیں لیکن حکمرانوں نے ہمیشہ ہماری قربانیاں فراموش کی ہیں ہم کل بھی محب وطن تھے اور آج بھی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم حکمرانوں کے غلط فیصلوں کو قبول کریں اگر حکمران ٹیکس لگانے کا شوق رکھتے ہیں تو ہمیں آئینی حقوق دیئے جائیں یادگار چوک پر احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں سو سے زائد اشیاء پر ٹیکس عائد کئے گئے ہیں مزید کئی اشیاء پر ٹیکس لگانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں بلاک بنانے ، ریت بجری نکالنے والوں پر بھی ٹیکس لگانے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے جب تک یہاں سے ایف بی آر کے دفتر کو ختم نہیں کیا جائے گا ہم خاموش نہیں رہیں گے مظاہرین سے دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔

 

Facebook Comments
Share Button