GB News

آئینی حقوق:کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

Share Button

وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر اقبال نے کہاہے کہ آئینی حیثیت کے معاملے پر ہم بہت ہی پریشان ہیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے والے ہی تھے کہ انہیں نااہل کر دیا گیا نواز شریف جب وزیر اعظم تھے تو آئینی حیثیت کے تعین کی بڑی امید نظر آرہی تھی مگر موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ابھی تک ہماری کوئی تفصیلی ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے ایسے میں ہم اپنے آئینی معاملے پر نہایت ہی فکر مند ہو رہے ہیں کیونکہ آئینی مسئلے پر کیا پیش رفت ہو رہی ہے ہمیں کچھ بھی علم نہیں’ ہم ملک میں ہر جگہ جا کر یہی کہہ رہے ہیں کہ سی پیک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو گلگت بلتستان کو فی الفور آئینی حقوق دیئے جائیں ورنہ بھول جائیں کہ سی پیک اور دیگر منصوبے کا میاب ہو ں گے گلگت بلتستان پاکستان کی بقا اور سلامتی کیلئے بہت ضروری ہے جب تک ہمیں آئینی حقوق نہیں ملیں گے تب تک سی پیک سمیت دیگر بڑے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے آئینی حیثیت کا تعین نہ ہوا تو سی پیک ہمیشہ متنازعہ رہے گا؟آئینی حیثیت کے حوالے سے واقعتا گلگت بلتستان کے عوام کے صبر کو داد دینا پڑتی ہے کہ وہ ستر سالوں سے اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں مختلف حکومتیں آئیں اور انہوں نے حقوق فراہم کرنے کے وعدے کیے لیکن یہ وعدے ایفا نہ ہو سکے ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے کہ خطے کے عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے موجودہ حکومت کے اقتدار کو چار سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن تمام تر وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود آئینی حقوق کا معاملہ ہنوز حل طلب ہے اور اس ضمن میں مثبت پیشرفت کے کوئی آثار فی الحال دکھائی نہیں دیتے’ ہم بارہا یہ عرض کر چکے ہیں کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ حل نہ کیا جا سکے یہاں کے لوگ اپنی شناخت چاہتے ہیں اور کسی آئین ‘قانون اور اخلاقیات کے تحت انہیں اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا یہ سوچا جانا چاہیے کہ ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو سکتا ہے سوال یہ ہے کہ وہ کونسی وجوہات اسباب وعلل اور محرکات ہیں جن کی بنا پر آئینی کمیٹی تاحال حقوق کے معاملے میں ایسی سفارشات مرتب نہیں کر سکی جو خطے سے اٹھنے والی آوازوں کی تکمیل اور عوام کی امنگوں و خواہشات کی بجا آوری کا موجب بن سکیں’ ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی بھی مسئلہ حقوق کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے مسئلہ کشمیر کے ساتھ گلگت بلتستان کو کسی صورت منسلک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہاں کے عوام نے اپنی قوت بازو پہ ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کر کے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط طور پر الحاق کا اعلان کیا ایسے میں ضرورت اس بات کی تھی کہ یہاں کے عوام کو بلاتاخیر ان کے حقوق دے دیے جاتے لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے اس معاملے کو بے جا طور پر طول دیا جا رہا ہے جو کسی صورت مناسب نہیں اگر یہاں کے عوام کو حقوق دے دیے جاتے تو دنیا جو آج یہ اعتراض اٹھا رہی ہے کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ سی پیک ایک متنازعہ خطے سے گزر رہا ہے اسے اس علاقے کو متنازعہ باور کرانے کی جرات نہ ہوتی’اگرسابقہ وزیراعظم نواز شریف اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے تھے تو موجودہ وزیراعظم جو آج بھی یہ کہتے ہیں کہ ان کے وزیراعظم نواز شریف ہی ہیں تو وہ کیوں اس معاملے کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ اس ضمن میں موجودہ وزیراعظم نے کوئی پیشرفت نہیں کی یہاں کے عوام کا مسئلہ سبسڈیز برقرار رکھنا’ٹیکسوں کا خاتمہ اور مختلف النوع مالیاتی پیکجز نہیں ہیں بلکہ وہ ہر صورت آئینی حقوق چاہتے ہیں لیکن انہیں پیکجز دے کر بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس اہم ترین مسئلے کو اولیت دے کر پہلی فرصت میں حل کرنے کی کوشش کریں’آئینی کمیٹی سے یہ استفسار کریں کہ وہ کونسی ایسی سفارشات ہیں جو ابھی تک تیار نہیں ہو سکیں یہ مسئلہ فیثا غورث نہیں حالانکہ اس کا حل بھی نکالا جا چکا ہے پھر آئینی کمیٹی جسے تشکیل پائے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہے وہ کیوں اتنی تاخیر کے باوجود یہ طے نہیں کر سکی کہ اس ضمن میں کیا’ کیا جانا ہے’کمیٹی کی اس سے زیادہ ناہلی وغفلت اور کیا ہو گی کہ وہ اس اہم ترین مسئلے کی بابت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے اگر اتنا سادہ وآسان ترین معاملہ بھی طے نہیں کیا جا سکتا تو ارباب بست وکشاد ملکی اہمیت کے حامل پیچیدہ معاملات کو کیسے حل کر سکتے ہیں؟اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے کو آئینی حقوق دینے کے حوالے سے جلد ازجلد فیصلہ کر لیا جائے تاکہ ان کے احساس محرومی میں اضافہ نہ ہو وہ ملک کے محب وطن شہری ہونے کے ناتے یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں قومی اسمبلی سینیٹ ‘ملک کے مقتدر اداروں اور فیصلہ سازی میں نمائندگی دی جائے’ ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نون لیگ کے ایجنڈے پہ بتائے گئے اس اہم مسئلے کے حوالے سے اپنے قائد کے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھیں گے ۔

Facebook Comments
Share Button