GB News

سیاسی تبدیلیاں

Share Button

ملک میں بہت تیزی سے سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن سے ملکی سیاست کا رخ بدلتا دکھائی دے رہا ہے’ بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ پرویز مشرف آئندہ سیاست میں فعال ہو سکتے ہیں حالانکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ دائر ہے اور اس مقدمے سے ان کی گلو خلاصی آسان نہیں ہے مقدمے کی موجودگی میں ان کی سیاست بہت مشکل ہے۔ دوسری طرف قومی سیاست میں نواز شریف کا عدلیہ کے خلاف لب و لہجہ مزید سخت ہورہا ہے انہوں نے غالباً یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ عدلیہ کے مزید فیصلے ان کے خلاف آئیں گے اس لئے انہیں اس کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا چاہیے عدلیہ زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتی ہے ان کے خلاف توہین عدالت کا ایک اور مقدمہ شروع کرائے ‘ان کی پارٹی صدارت کے خلاف تحریک انصاف کی طرف سے درخواست دائر کی گئی ہے اگرچہ حزب اختلاف نے سینٹ میں ایک بل منظور کروایا ہے جس کے تحت نااہل فرد پارٹی صدارت پر فائز نہیں رہ سکتا مگر قومی اسمبلی سے اس کی منظوری تاحال نہیں ہوسکی اس کے برعکس حکومت نے دونوں ایوانوں سے جو بل منظور کروایا وہ صدر مملکت کے دستخطوں سے نافذ ہوچکا ہے اپوزیشن اچھی طرح جانتی ہے کہ قومی اسمبلی سے وہ بل منظور نہ کروا سکے گی اس لئے اس نے آئینی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رابطوں کو اہمیت نہ دینے اور نواز شریف کے ساتھ ملاقات سے انکار کے بعد نواز شریف کا رویہ ان کے خلاف سخت ہورہا ہے یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کی ایک نمایاں تعداد پارٹی سے بغاوت اختیار کررہی ہے اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے غیر حاضر رہتی ہے بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ میاں نواز شریف دانستہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب نہیں کررہے کہ اس طرح باغیوں کی تعداد کے بارے میں ان کے مخالفین کو بھی معلوم ہوجائے گا جس سے ان کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے سردست اپوزیشن کی طرف سے چالیس سے ساٹھ ارکان کی بغاوت کے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان ان دعوئوں کی تردید کررہے ہیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تینوں انتخابات تک نرم رویہ اختیار کرنے اور حکومت کی بہتر کارکردگی دکھانے کے خواہاں ہیں ان کا موقف ہے کہ محاذ آرائی حکومت اور پارٹی دونوں کیلئے نقصان دہ ہے۔

Facebook Comments
Share Button