تازہ ترین

Marquee xml rss feed

لڑکی کو ہراساں کرنے والے ڈرائیور کا بیان سامنے آ گیا لڑکی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تھی کیسے ہراساں کر سکتا تھا؟ حلفیہ کہتا ہوں کہ لڑکی کو ہراساں نہیں کیا-جمائما کا شادی کے بعد عمران خان کے ساتھ رہنے والے گھر کو فروخت کرنے کا فیصلہ جمائما گولڈ سمتھ نے پہلی بار اپنے عالیشان گھر کی تصاویر شئیر کر دیں-مشہور کارٹون کیریکٹر ٹام اینڈ جیری اب لائیو ایکشن میں نظر آئیں گے وارنر بروز کی تخلیق کردہ ٹام اینڈ جیری کارٹون کو لائیو ایکشن میں بنانے کی تیاریاں شروع کی جاچکی ہیں-گلوکاری اور اداکاری کے بعد فرحان سعید کی فلم انڈسٹری میں انٹری سکرپٹ کے مراحل مکمل ‘فلم کی عکس بندی کا آغاز رواں برس دسمبر سے کیا جائے گا-اداکارہ ماہ نور کلین اینڈ گرین مہم کا حصہ بن گئیں بحریہ ٹائون میں اپنے گھرکے باہر پودا لگایا اور سٹرک پر جھاڑو بھی دیا-اداکارہ ساکشی تنورنے بچی گود لے لی یہ بچی میری دعاؤں کا انعام ہے جسے پاکر میں بے انتہا خوش ہوں‘اداکارہ-لوک ورثہ فیسٹیول2نومبر کوشکر پڑیاں میں شروع ہوگا-شلپا شندے نے ریب سے متعلق انکشاف کر کے سب کو حیران کردیا شوبز انڈسٹری میں سمجھوتے کے تحت کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر چیزیں ہوتی ہیں شوبز میں ریپ یا زبردستی نہیں بلکہ سب ... مزید-اداکار فیصل قریشی نے فلم بنانے کا اعلان کر دیا یہ فلم 2019 میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی-میںہر نئی فلم کو اپنی پہلی فلم سمجھتا ہوں، ایوشمان کھرانہ میری 3 فلمیں ناکام رہیں جو میری زندگی کا سیکھنے کا بہترین تجربہ تھا، بالی ووڈ اداکار

GB News

محسن انسانیت کاجشن ولادت

Share Button

آج ساری کائنات محسن انسانیت،خاتم پیغمبراں،رحمتِ ہرجہاں ،انیس بیکراں،آقائے دوجہاں سرورکائنات، فخرموجودات،نبی اکرم،شاہ بنی آدم،نورمجسم، سروردوعالم، جناب احمدمجتبیٰ محمدمصطفیۖ کا جشن ولادت نہایت عقیدت و احترام سے منا رہی ہے۔اللہ پاک کا یہ احسان عظیم ہے آپ ۖ کی دنیا میں تشریف آوری سے قبل دنیا جہنم بنی ہوئی تھی۔اہل عرب بت پرستی ‘بتوں کے پاس مجاور بن کر بیٹھتے ان کی پناہ ڈھونڈتے انہیں زور زور سے پکارتے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے ان سے فریاد اور التجائیں کرتے ان کو اللہ کے آگے سفارشی سمجھتے ۔بتوں کا حج و طواف کرتے ان کے سامنے عجز و نیاز سے پیش آتے اور انہیں سجدہ کرتے بتوں کے لئے نذرانے اور قربانیاں پیش کرتے بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے’نجومیوں اور کاہنوں کی باتوں پر ایمان لاتے تھے آپس کی سالہا سال سے جاری لڑائیوں میں قبائلی عصبیت غرور و تکبر اور نسلی تفاخر’جھوٹ’غیبت’چوری’ دھوکہ دہی مکروفریب منافقت تھی ‘بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے’بچوں کو فقر و فاقہ کے ڈر سے قتل کرتے’غرض کوئی ایسی اخلاقی بیماری نہیں تھی جو عربوں میں موجود نہ تھی۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب حضرت آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا، حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا اور ان سے ایک ایسا نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی طرح صفا و پاکیزگی، حضرت نوح علیہ السلام کی طرح نرمی و سادگی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح حلت و محبت، حضرت اسمعیل علیہ السلام کی طرح رضا و خوشنودی، حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح حسن و زیبائی اور حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح کرامت و بزرگواری، سب کچھ آپ میں موجود ہے۔خالق کائنات،مالک ِ ارض وسماوات اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپۖکو تمام جہانوں کیلئے باعث ِرحمت بناکربھیجا آپۖوجہ تخلیق کائنات ہیں اورآپۖہی کے ذکرسے یہ دنیاآبادہے آپۖکاذکر ایساافضل ترین ذکرہے جوخالق کائنات خوداپنے نورانی فرشتوں کے ساتھ ملکرفرماتاہے۔آپۖکی ذات بابرکات پر کثرت سے درودشریف پڑھنے سے دکھوں سے نجات ملتی ہے اورروحانی درجات بلندہوتے ہیں ۔آج کے پُرفتن دورمیںنفرتوں ،کدورتوں کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ محبت رسولۖکے دیپ روشن کیے جائیں ۔آپۖسے محبت کاتقاضا ہے کہ ہم سیرت مصطفیۖاورتعلیمات مصطفیۖکواپنااوڑھنابچھونابنائیں۔عشق مصطفیۖکاعملی ثبوت دینے کے لئے یہ لازم ہے کہ ہم آپۖکے لائے ہوئے نظام ِزندگی کواپنے اوپرنافذکریں تاکہ دین دنیاوآخرت میں کامیاب ہوسکیں۔ اسلام ہمیںاخوت اوربھائی چارے کادرس دیتاہے ۔حقوق اللہ اورحقوق العباد اداکرنے کاحکم دیتاہے ۔آج کے پُرفتن دورمیں یہودی لابی طاغوتی اسلام دشمن قوتیں متحدہوکردینِ اسلام،قرآن اورمسلمانوں کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔استعماری سازشوں کے باوجوددنیابھرمیں دین اسلام کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے ۔آپۖنے اپنی حیات ِ مبارکہ میں تمام کام اپنے ہاتھ اورہمیشہ محنت ومشقت سے سرانجام دیے ہیں۔اللہ کے محبوبۖنے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کام کرنے میں عارمحسوس نہیں کی توآج ہم کلمہ پڑھنے والے امتی کیوں عارمحسوس کرتے ہیں۔ہمیںاپنی زندگیوں کوبدل کرتعلیمات مصطفیۖکے سانچے میں ڈھالنا ہوگاآپۖپھٹے پرانے کپڑوں کوخودپیوندلگالیتے’ بازارسے خودسوداسلف خریدلاتے’خدام اورغلاموں کے ساتھ اچھاسلوک کرتے یہاں تک کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پربیٹھ کرکھاناتناول فرماتے اوریہی حکم دیتے کہ جوخود کھاتے ہووہ انہیں بھی کھلائو،جیسالباس خودپہنتے ہوویساہی انہیں پہنائو،ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئوان کی غلطیوں کومعاف کرنے کی تلقین فرمائی۔آپۖ فرماتے ہیں میں اسے ناپسندکرتا ہوں کہ میں تم سے ممتازوجدا رہوں اورتمہارے درمیان متمیزہوکربیٹھارہوں ۔اللہ تعالیٰ اسے ناپسندفرماتاہے کہ کوئی بندہ اپنے ساتھیوں کے درمیان ممتاز ہوکربیٹھے۔میں پسندکرتاہوں کہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائوں اوربیشک اللہ کے پیغمبردائودعلیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔آپۖدشمنوں سے انتقام لینے کی بجائے انہیں معاف کردیتے ۔رسول ِخداۖ نے کبھی بھی اپنے ذاتی معاملہ اورمال ودولت کے سلسلہ میں کسی سے انتقام نہ لیامگراس شخص سے جس نے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کاارتکاب کیاتواس سے اللہ کے لئے بدلہ لیا۔آپۖکی قوت وبرداشت اورضبط وتحمل مثالی تھاآپۖکی پوری حیات مبارکہ عفودرگرز،رحمت ورافت،حلم وتحمل،صبروضبط،رحم وترحم اوربرداشت ورواداری سے عبارت ہے ۔صبر،بردباری اوردرگزرکرنے کی عظیم صفت نبوت کی عظیم صفتوں میں سے ہے ان صفتوں کی قوت کے بغیربارِنبوت نہیں اٹھایا جاسکتا۔آپۖکاسب سے زیادہ اشدوسخت صبرغزوہ احدکے موقع پرتھاجب کفار نے آپۖکے ساتھ جنگ ومقابلہ کیااورآپۖکوشدیدترین رنج والم پہنچایامگرآپۖنے ان پرنہ صرف صبروعفوپرہی اکتفاکیابلکہ ان پرشفقت ورحمت فرماتے ہوئے ان کواسی جہل وظلم میں معذورگردانااور فرمایااے میرے اللہ!میری قوم کوراہِ ہدایت پرلاکیونکہ وہ جانتے نہیں اے اللہ انہیں معاف فرمادے صحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کیایارسول اللہۖکاش آپ ان کے لئے بددعافرماتے کہ وہ ہلاک ہوجاتے ۔ آپۖ نے فرمایامیں لعنت کے لئے مبعوث نہیں ہوابلکہ میں حق کی دعوت اوجہان کے لئے رحمت بن کرمبعوث ہواہوں۔رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے کوجومخلص مسلمان تھے اپنے باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کاحکم فرمایاتھا۔جب وہ مرگیاتوحضورۖ نے اپناپیرہن مبارک جسم اطہرسے اُتارکراس کوکفن بنایااورنمازِ جنازہ پڑھنے کاارادہ کیاتب سورة التوبہ کی 84نمبریہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔اے محبوبۖآپ کسی منافق کی موت پرکبھی نمازنہ پڑھیں اورنہ ہی اس کی قبرپرکھڑے ہوں۔آپۖاپنی ازواج مطہرات کے ساتھ بہت بہترسلوک فرماتے ان کی پاسداری کرتے۔اسی طرح دیہاتیوں میںایک شخص جس کانام ”زاہر”تھاوہ کبھی کبھی آپۖکی بارگاہ اقدس میں دیہات کی ایسی ترکاریاں ہدیہ میں لایاکرتاتھاجوحضورۖ کوپسندتھیں اورحضورۖاس کی واپسی پرشہرکی چیزیںکپڑاوغیرہ عنایت فرمایاکرتے تھے ۔آپۖاس کودوست رکھتے تھے اورفرمایاکرتے تھے کہ زاہرسے ہمارادوستانہ ہے۔ہم اس کے شہری وہ ہمارادیہاتی دوست ہے۔ایک مرتبہ آپۖبازارتشریف لے گئے توحضرت زاہرکووہاں موجود دیکھا آپۖنے اس کی پشت سے اپنادست ِ مبارک اس کی آنکھوں پر رکھااوراپنی جانب کھینچااورلپٹالیااپناسینہ مبارک اس کی پشت سے ملادیاوہ آپۖکونہیں دیکھ سکاتھاکہنے لگایہ کون ہے؟جب آپۖ کوپہچان لیاتواس نے اپنی پشت کوحضورۖکے سینہ مبارک سے اورملادیااورنہیں چاہاکہ وہ جداہوں ۔پھرآپۖنے فرمایاکہ کوئی ہے جواس غلام کوخریدے ۔زاہر نے عرض کیایارسول اللہۖ!آپ نے مجھے کھوٹااورکم قیمت مال تصورکرلیاہے ۔ آپۖنے فرمایاتم خداکے نزدیک گراں بہاہو۔آپۖکے حیاء کی یہ شان تھی کہ کسی کے چہرے پربھرپورنظرنہ ڈالتے تھے۔آپۖلوگوں کی دلجوئی فرماتے ۔جوکوئی آپۖکادستِ مبارک تھام لیتا توآپۖاپنادست مبارک ڈھیلاچھوڑدیتے ۔آپۖکی قوت وبرداشت ،ضبط وتحمل ، عفودرگرز،رحمت ورافت،حلم وتحمل،صبروضبط،رحم وترحم اوربرداشت ورواداری سے سیرت طیبہ کادامن بھراپڑاہے۔

Facebook Comments
Share Button