تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عین ممکن ہے کہ خود عمران خان نے ہی شیخ رشید کو کہا ہو کہ وہ انہیں میڈیا پر جمائما سے شادی کا مشورہ دیں،رحمان ملک شیخ رشید احمد کے عمران خان سے جمائما کی شادی سے متعلق بیان ... مزید-حکومت کے موثر اقدامات اور آپریشن ضرب عضب سے ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی، یہ جنگ دہشت گردوں نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے،وزیراعلیٰ بلوچستان ... مزید-وزیراعلیٰ بلوچستان کا سول ہسپتال کوئٹہ اور زرغون روڈ چرچ کا دورہ ، زخمیوں کی عیادت کی-ریحام خان نے عمران خان اور ان کے درمیان طلاق کی وجہ بھی علیم خان کو قرار دے دیا-گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کاسول ہسپتال ٹراما سینٹر کا دورہ ، چرچ حملے میں زخمی مریضوں کی عیادت کی-وزیر اعلی بلوچستان کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اعلی سطح اجلاس اجلاس میں دہشت گردوں اور شر پسند عناصر کے خلاف مزید مئوثر اور نتیجہ ... مزید-سپر یم کورٹ نے نوازشر یف کیساتھ ہاتھ ہولا رکھا ہے ‘ حدیبیہ پیپر مل کیس میں شریف خاندان کو چھوٹ ملی‘اعتز از احسن جہانگیر ترین نے سپریم کورٹ میں ساری منی ٹریل دی لیکن ... مزید-شہباز شریف نااہل ہو جاتے تو پھرپنجاب میں میرا میچ کس سے پڑتا ،عمران خان اسحاق ڈار نے بستر پر تصویر کھنچوا کو آسکر ایوارڈ کی کارکردگی دکھائی ،سیاسی استحکام کیلئے قبل ... مزید-مناسب نہیں جج شفافیت کے دلائل دیں جبکہ عدلیہ کو وضاحتیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں‘ عاصمہ جہانگیر یہ کہنا چاہئے تھا قانون کی بالادستی اور جمہوریت ساتھ ساتھ چلتی ہے یہ ... مزید-مر یم نواز شر یف کا عوام رابط مہم کیلئے ملک گیر جلسے کر نے کا فیصلہ ‘آغاز رواں ماہ رحیم یا ر خان سے کیا جائیگا پاکستان تحریک انصاف اپنی مرضی سے نہیں بلکہ کسی اور کے احکامات ... مزید

GB News

نیشنل ایکشن پلان کاسب سے زیادہ فائدہ گلگت بلتستان کوہوا،وزیر اعلیٰ

Share Button

گلگت (نزاکت علی+عارف حسین)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ گلگت بلتستان میں ماضی میں ایف سی آر کے خاتمے کے بعد متبادل نظام کے طورپر ناردرن ایریازکونسل متعارف کرایاگیا بدقسمتی سے ناردرن ایریاز کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے جس سے علاقے میں فرقہ واریت کو فرو غ ملا لوگوں نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے فرقہ واریت کا سہارا لیا ااس عرصے میں ایسے واقعات دیکھنے کو ملے کہ جب لوگوں نے اپنے ہی فرقے کے خلاف وال چاکنگ کرا کے مخالف فرقے کے لوگوں پر الزامات لگائے تاکہ الیکشن میں مخالف فرقے کے امیدوار کو ایک ووٹ بھی نہ مل سکے اور یہ سلسلہ 1994تک جاری رہا انہوںنے منگل کے روزقراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ”تشدد و انتہا پسندی اور امن کے قیام میں میڈیا کے کردار”کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1994میں پہلی بار سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے گلگت بلتستان میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے بدقسمتی سے اس وقت بھی وفاقی پارٹیاں گلگت بلتستان میں آکے فرقہ پرست جماعتیں بن گئیں سیاسی مفادات کے حصول کیلئے مسجدوں کا سہارالیا گیا سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی نامزدگیاں انجمنوں کے ذریعے ہونا شروع ہوا یہ وہ صورتحال ہے جس سے گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کوفرو غ ملا ۔انہوںنے کہا کہ جنگ آزادی گلگت بلتستان اور ڈوگروںکے خلاف بغاوت میں علاقے کے عوام ایک قوم تھے اور کوئی فرقہ وارانہ سوچ کا تصور نہ تھا مگر سیاسی مفادات نے علاقے کو فرقہ واریت کے منہ میں دھکیل دیاگیا انہوںنے کہا کہ 2009میں گلگت بلتستان کو دیاگیا نظام ماضی کے تمام نظاموں کی نسبت بہترین اور موزوں تھا لیکن نااہل حکمرانوںنے علاقے کے مسائل معلوم کئے بغیر پانچ سالہ حکومت کی مدت پوری کرنے میں توجہ دی جس کی وجہ سے علاقے میں ایک بار فرقہ واریت کو فرو غ ملا علاقے میں نو گو ایریاز بن گئے مگر گلگت بلتستان میں مسلم لیگ(ن) کے برسر اقتدار آنے کے بعد صوبائی حکومت نے علاقے کے بنیادی حقائق اور علاقائی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کی تشکیل نو کی جس میں تمام مسالک کے لوگوں کو نمائندگی دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور امن میں دلچسپی رکھتے ہیں۔گلگت بلتستان سے فرقہ واریت ،انتہاء پسندی کے خاتمے اور ترقی کیلئے مسلم لیگ ن میں تمام علاقوں کی نمائندگی اور تمام فرقوں کی نمائندہ جماعت بنانے کیلئے ہدایات دیئے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی قیادت نے اپنے قائد کے احکامات کے مطابق مسلم لیگ ن میں تمام علاقوں اور فرقوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی پالیسی اورویژن کے دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام نے علاقائی اور مذہبی تعصبات سے بالاتر ہوکر مسلم لیگ ن کو دو تہائی اکثریت سے کامیاب کیا۔ آج حکومت میں تمام علاقوں اور فرقوں کی نمائندگی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح کیلئے جزاء و سزاء کا نظام ناگزیر ہے ہماری حکومت نے جزاء و سزاء کا نظام متعارف کرایا جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ ملک سے دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا جس سے سب سے زیادہ فائدہ گلگت بلتستان کوہوا۔ اداروں کے مابین روابط کا فقدان پایا جاتا تھا جس کو دور کیا گیا۔ گلگت بلتستان میں باقاعدگی سے ایپکس کمیٹی کے اجلاس ہوتے ہیںجس میں صوبے کی سیاسی اور عسکری قیادت مل کر علاقے میں امن و امان اور ترقی کیلئے فیصلے کرتی اور ان فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کرایاجاتا ہے ۔ کسی بھی صوبے میں امن وامان کیلئے محکمہ پولیس کا کلیدی کردار ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ سابقہ دور حکومت میں پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ جس کی وجہ سے پولیس ہر چیز میں محتاج تھی اور مختلف حصوں میں تقسیم کی مگر ہم نے بر سر اقتدار آتے ہی گلگت بلتستان پولیس کو ہر قسم کے سیاسی دبائو سے آزاد کیا گیا ہے۔ محکمہ پولیس میںاصلاحات متعارف کرائے گئے ہیں اورپولیس کے ادارے کو درکار وسائل فراہم کئے گئے پولیس کی ٹریننگ جدید طرز پرکرائی گئی۔جس کی وجہ سے پولیس کی کارکر دگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا اور عوام کا سو فیصد اعتما د بھی بحال ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف تین شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ ہیں پاکستان میں اسلام آباد اور لاہور کے بعد گلگت میں جرائم پر قابو پانے کیلئے سیف سٹی پروجیکٹ کا قیام مختصر مدت میں عمل میں لایا گیا جس کی وجہ سے دو سال میں کوئی دہشتگردی کا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صوبے میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں۔ مقامی زبانوں کی تحفظ اور ثقافت کو فروغ دینے کیلئے کام کیا جارہاہے۔ گزشتہ دنوں لٹریچر فیسٹول منعقد کر وایا گیا ۔ جس میں ریجنل لینگویجز کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا کمیٹی کی ان تھک کاوشوں سے اگلے سال سے مقامی زبانوں کو آپشنل مضامین کے طور پر نصاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں رونما ہونے والے واقعات کے اثرات گلگت بلتستان پر بھی مرتب ہوتے ہیں بدقسمتی سے مذہب کا غلط استعمال ہوتا رہاہے۔ مختلف مذاہب کے مابین زیادہ تر غلط فہمیاںپائی جاتی ہیں مل بیٹھنے سے یہ ان غلط فہمیوں کا خاتمہ ممکن ہے اسلام کے روح اور تعلیمات سے ہٹ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کو زوال ہوا ہے۔ آبادی اور چھوٹے یونٹس کے لحاظ سے گلگت بلتستان انتہائی موزوں صوبہ ہے گلگت بلتستان میں اصلاحات آسانی سے کئے جاسکتے ہیں یہاں پر کوئی طبقاتی نظام موجود نہیں ہے حافظ حفیظ الرحمان نے گلگت بلتستان میں امن وامان کے حوالے سے پرنٹ میڈیا کا کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پرنٹ میڈیا نے گلگت بلتستان میں ایسے خبروں کی اشاعت پر خودساختہ پابندی عائد کی تھی جن کی وجہ سے امن خراب ہوسکتا تھا جو مقامی میڈیا کی ذمہ داری کا ثبو ت ہے۔موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک چیلنج بن چکا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے سائبر کرائم ایکٹ کو لاگو کیا گیا ہے اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے اور حفاظتی اقدامات بھی کئے جارہے ہیںاس سے قبل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر محمد اقبال ،صوبائی وزیر اطلاعات و پلاننگ اقبال حسن نے کہا کہ فرقہ واریت ،شدت پسندی،دہشت گردی کے لعنت سے نجات حاصل کرنے کا واحد راستہ اتحاد ووحدت میں ہے ہم ایک ہونگے تو یہ سب مسائل خود بہ خود ختم ہو جائینگے گروہوں میں تقسیم ہوجائینگے تو مسائل کم ہونے کی بجائے اضافہ ہوگا انہوںنے کہا کہ ایک قوم بننے میں ہی ہم سب کی فلاح ہے لہذا ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے اس سے قبل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کے آئی یو کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد نے کہاکہ اظہاررائے کی آزادی ہر فرد کا حق ہے جیسے کوئی نہیں روک سکتاہے ۔جن معاشروں میں آزادی رائے و خیال ہوتاہے وہی معاشرے ترقی کے منازل طے کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کے آئی یو طلباء کے صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے خوشگوار ماحول فراہم کررہاہے جہاں طلباء اپنی صلاحیتوں کو کھل کر دیکھاسکیں ۔آج کا یہ سیمینار بھی اسی کی کڑی ہے ۔انہوںنے کہاکہ یونیورسٹی وقتہً فوقتہً طلباء کے لیے سیمینارزاور ورکشاپ کا انعقاد کررہی ہے ۔اس سے قبل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس صابر احمد نے کہا کہ پاکستان کی بقاء صرف اور صر ف جمہوریت میں پنہاں ہے ،جمہوریت ہی کے اندر ترقی ،امن اور خوشحالی ہے ۔اس سے قبل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خورشیدندیم اینکرپرسن ،سینئر صحافی و کالم نگار،مطیع اللہ جان اینکر پرسن و سینئر صحافی و کالم نگار،سبوق سید اینکر پرسن، رفت عالم نے کہاکہ کے آئی یو علم کی روشنیاں اور امن و محبت پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کررہی ہے ۔جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں امن و امان قائم ہوااور لاکھوں کی تعداد میں سیاح آئے ۔اس کے علاوہ کے آئی یو صحافت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار اد ا کررہاہے ۔آخر میں سیمینا ر کے شرکاء اور سیمیناز کے رضاکاروں میں شیلڈز او ر سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کئے گئے ۔

 

Facebook Comments
Share Button