تازہ ترین

Marquee xml rss feed

لڑکی کو ہراساں کرنے والے ڈرائیور کا بیان سامنے آ گیا لڑکی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تھی کیسے ہراساں کر سکتا تھا؟ حلفیہ کہتا ہوں کہ لڑکی کو ہراساں نہیں کیا-جمائما کا شادی کے بعد عمران خان کے ساتھ رہنے والے گھر کو فروخت کرنے کا فیصلہ جمائما گولڈ سمتھ نے پہلی بار اپنے عالیشان گھر کی تصاویر شئیر کر دیں-مشہور کارٹون کیریکٹر ٹام اینڈ جیری اب لائیو ایکشن میں نظر آئیں گے وارنر بروز کی تخلیق کردہ ٹام اینڈ جیری کارٹون کو لائیو ایکشن میں بنانے کی تیاریاں شروع کی جاچکی ہیں-گلوکاری اور اداکاری کے بعد فرحان سعید کی فلم انڈسٹری میں انٹری سکرپٹ کے مراحل مکمل ‘فلم کی عکس بندی کا آغاز رواں برس دسمبر سے کیا جائے گا-اداکارہ ماہ نور کلین اینڈ گرین مہم کا حصہ بن گئیں بحریہ ٹائون میں اپنے گھرکے باہر پودا لگایا اور سٹرک پر جھاڑو بھی دیا-اداکارہ ساکشی تنورنے بچی گود لے لی یہ بچی میری دعاؤں کا انعام ہے جسے پاکر میں بے انتہا خوش ہوں‘اداکارہ-لوک ورثہ فیسٹیول2نومبر کوشکر پڑیاں میں شروع ہوگا-شلپا شندے نے ریب سے متعلق انکشاف کر کے سب کو حیران کردیا شوبز انڈسٹری میں سمجھوتے کے تحت کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر چیزیں ہوتی ہیں شوبز میں ریپ یا زبردستی نہیں بلکہ سب ... مزید-اداکار فیصل قریشی نے فلم بنانے کا اعلان کر دیا یہ فلم 2019 میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی-میںہر نئی فلم کو اپنی پہلی فلم سمجھتا ہوں، ایوشمان کھرانہ میری 3 فلمیں ناکام رہیں جو میری زندگی کا سیکھنے کا بہترین تجربہ تھا، بالی ووڈ اداکار

GB News

گلگت بلتستان پولیس میں اصلاحات

Share Button

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کسی بھی صوبے میں امن وامان کیلئے محکمہ پولیس کا کلیدی کردار ہوتا ہے سابقہ دور حکومت میں پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ جس کی وجہ سے پولیس ہر چیز میں محتاج تھی اور مختلف حصوں میں تقسیم بھی مگر ہم نے بر سر اقتدار آتے ہی گلگت بلتستان پولیس کو ہر قسم کے سیاسی دبائو سے آزاد کیا۔ محکمہ پولیس میںاصلاحات متعارف کرائیں اورپولیس کے ادارے کو درکار وسائل فراہم کئے گئے پولیس کی ٹریننگ جدید طرز پرکرائی گئی۔جس کی وجہ سے پولیس کی کارکر دگی میں نمایاں اضافہ ہوا عوام کا سو فیصد اعتما د بھی بحال ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف تین شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ ہیں پاکستان میں اسلام آباد اور لاہور کے بعد گلگت میں جرائم پر قابو پانے کیلئے سیف سٹی پروجیکٹ کا قیام مختصر مدت میں عمل میں لایا گیا جس کی وجہ سے دو سال میں کوئی دہشتگردی کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔کسی بھی معاشرے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے تدارک کیلئے محکمہ پولیس کی فعالیت ازبس ضروری ہے’اگر ہم تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو پولیس کا نظام ویسے تو بہت قدیم ہے قدیم رومیوں، مصریوں اور یونانیوں کے ہاں پولیس کا نظام رائج تھا مگر ہندوستان میں سلاطینِ دہلی نے فوج کے ذریعے اس نظام کو چلایا۔ اکبر نے کوتوالِ شہر کا ایک موثر عہدہ قائم کیا۔ مغلوں کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کا انتظام سنبھالا۔ پولیس کا جدید نظام کارنوالس نے شروع کیا۔پاک و ہند میں پولیس ایکٹ 1861 کے تحت پولیس کا نظام چلایا گیا۔ یہ فرسودہ نظام ابھی تک چل رہا ہے۔ صدیاں بیت گئیں پولیس کا وہی نظام چلتا رہا ہے۔البتہ جنرل پرویز مشرف نے اس میں کچھ تبدیلیاں کیں اور تفتیش کا شعبہ الگ کردیا۔ دورِ جدید کے ایک مغربی سکالر کے مطابق کئی ممالک میں پولیس کی تاریخ ظلم کی تاریخ ہے۔پاکستان میں پولیس کی وردی دہشت اور خوف کی علامت ہے۔ عوام پولیس سے خوفزدہ رہتے ہیں۔کیونکہ اول آج کل کی پولیس سیاسی پریشر کے تحت کام کررہی ہے۔ دوم عدلیہ کا ادارہ بھی تنزل کا شکار ہے۔پاکستان کے حوالے سے ہمیں اپنی پولیس کو سیاست سے الگ رکھنا ہوگا تاکہ قانون کی بالا دستی ہو۔ اس طرح جرائم کی بیخ کنی ہو۔ہم پولیس سے انسانی اور غیر انسانی رویوں کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم اسے خود ہی رشوت دیتے ہیں اور خود ہی اسے راشی کہتے ہیں۔ہمیں پولیس کے رویے کو بدلنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی بدلنا ہوگا۔ہم کیوں پولیس کو رشوت دیتے ہیں؟ اِسی طرح دورِ جدید میں اس وقت تک جرائم کی روک تھام ممکن نہیں جب تک ہم پولیس کو جدید اسلحہ اور جدید طریقہ ہائے تفتیش سے نہ لیس کرلیں۔پولیس فورس کو جدید سائنسی طریقہ ہائے تفتیش سے روشناس کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔دورِ جدید میں پولیس کو معاشی جرائم مثلا کمپنیوں وغیرہ میں جرائم کیلئے سپیشل ٹریننگ اور سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کو زیرک ہونا چاہیے اور اپنے علاقوں میں طریقہ ہائے واردات سے واقفیت حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان میں بھی ان خطوط پر ہمیں اپنی پولیس کو چلانا ہوگا تاکہ جرائم کم ہوں اور فوری تفتیش ہو۔بڑھتے ہوئے جرائم اس حقیقت کی غمازی کررہے ہیں کہ ہمیں اپنی پولیس کی تنظیمِ نو کرنا ہوگی اور جرائم کے معاشی و معاشرتی اسباب کو ختم کرنا ہوگا۔اس لیے پولیس کے نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پولیس کی بنیادی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا حکومت کا فرض ہے تاکہ یہ فورس بطرزِ احسن کام کرسکے۔اگرچہ تھانوں، پٹوار خانوں بلکہ ایوانوں، عدالتوں اور زندگی کے ہر شعبے میں انصاف کی ضرورت ہے۔ لیکن پولیس کی کار کردگی میں سیاسی مداخلت بند کی جائے توانصاف کا خون روکا جا سکتا ہے ۔پولیس کی تنخواہیں بڑھائی جائیں اور انہیں موثر بنایا جائے۔اگر عوام الناس کے حقوق کی پاسبانی درکار ہے اور امن عامہ کا تحفظ درکار ہے تو ہمیں اپنی پولیس میں انقلابی اصلاحات لانا ہوں گی۔ہماری تاریخ میں دیگر ریاستی اداروں کی طرح پولیس کا نظام بھی ہمیشہ تنقید، الزامات، بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کی زد میں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور پولیس کے مابین اعتماد اور نیک نیتی کی فضا بری طرح متاثر ہوئی ‘یکے بعد دیگرے فوجی اور سویلین حکومتیں قانون پر اثر انداز ہوئیں اور ریاستی مشینری کا ناجائز استعمال کرتی رہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس کبھی بھی اپنے حقیقی فرائض انجام نہ دے پائی اور ہمارا ریاستی نظام متاثر ہوتا رہا۔پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح قانون کی حکمرانی اور جمہوریت قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نظام جہاں انتظامیہ مکمل طور ہر غیر جانبدار اور اس کے ساتھ ساتھ فوج، عدلیہ اور انتظامیہ تینوں اپنے اپنے دائرہ کار میں علیحدہ علیحدہ کام کریں۔1947 میں نئی ریاست کے قیام کے بعد محمد علی جناح نے کراچی میں میٹرو پولیٹن پولیس کے ماڈل کے قیام کا فیصلہ کیا یہ ویسا ہی ماڈل تھا جیسا کہ تاج برطانیہ نے1856 کلکتہ، مدراس اور بمبئی میں اور1939 کو حیدر آباد میں قائم کیا تھا۔ بد قسمتی سے ستمبر 1948 میں قائد اعظم کی وفات کے بعد افسر شاہی نے کراچی میں پیشہ وارانہ پولیس قائم نہ ہونے دی اور پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ بعد میں آنے والی سیاسی قیادت نے بھی پاکستان کو قائد اعظم کے خواب کے مطابق نہیں ڈھالا۔ایوب خان کے دور میں جب مارشل لا لگایا گیا تو اس میں ایسا نظام وضع کیا گیا جس میں پولیس کو افسر شاہی کے ماتحت لایا گیا۔ بعد ازاں کافی عرصہ تک پولیس فوج کے ماتحت کام کرتی رہی اور اسی کے عشرے میں جب کچھ عرصہ کے لئے محمد خان جونیجو وزیراعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو کی سربراہی میں پولیس افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا کام پولیس کے نظم و نسق میں اصلاحات لانا تھا۔ کمیٹی نے انڈین پولیس کمیشن سے متاثر ہو کر اس بات کی سفارش کی کہ تمام صوبائی دارلخلافوں اور اسلام آباد میں میٹرو پولیٹن ماڈل کو اپنایا جائے۔ یہ نظام بھارت کے تمام 26 بڑے شہروں میں قائم پولیس کمشنر نظام اور بنگلہ دیش کے تین بڑے شہروں کے نظام سے ملتا جلتا تھا۔ بعد ازاں بے نظیر دور حکومت میں پاکستان پولیس سروس کے عشایے میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی طرف سے تمام صوبائی دارالخلافوں اور اسلام آباد میں میٹرو پولیٹن ماڈل کو اختیار کرنے کی منظوری دی۔ مگر 1948 میں قائد اعظم کے فیصلے کی طرح بے نظیر بھٹو کے فیصلے پر بھی 1990تک عملدر آمد نہ کیا گیا۔نوے کی دہائی میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو یکے بعد دیگرے اقتدار میں آئے مگر وہ اصلاحات کو بھول کر اقتدار کی بھول بھلیوں میں کھو گئے اور کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ مفاد پرست نہیں چاہتے تھے کہ ایسا نظام قائم ہو جس میں عوام کی فلاح اور سسٹم کی بہتری شامل ہو۔ پرویز مشرف کے ابتدائی اصلاحاتی اقدامات میں سے ایک پولیس آڈر2002 کا نفاذ بھی تھا۔ اس آرڈر کا مقصد سیاسی طور پر غیر جانبدار، جوابدہ، خود مختار اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی حامل پولیس فورس قائم کرنا تھا۔ اس نئے قانون کے کئی اہم مقاصد تھے۔ یعنی ایک طرف اختیارات کا ناجائز استعمال روکنا اور سیاسی مداخلت کو روکنا تو دوسری طرف پولیس فورس کو بد عنوانیوں سے پاک کر کے ایک با ضابطہ اور موثر فورس بناناتھا۔مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا’گلگت بلتستان میں اگر پولیس اصلاحات میں کامیابی حاصل کر لی جاتی ہے تو اسے مثبت پیشرفت قراردیا جا سکتا ہے’ کہا جاتا ہے کہ یہ محکمہ اب ناقابل اصلاح ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر صرف اس محکمے کا قبلہ درست کردیا جائے تو معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

Facebook Comments
Share Button