تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خیبرکالج آف ڈینسٹری کی کوآرڈینیشن کونسل کااجلاس-جامعہ پشاور میں الیکٹرانک میڈیا تربیتی کورس اختتام پذیر-عوام 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں گے ،سیدعمران-صوابی،سپورٹس گالا میں جاری بیڈ منٹن اوروالی بال مقابلے اختتام پذیر-جے ٹی آئی شیخ الہند پابینی یونٹ صوابی کی کابینہ تشکیل-اداکارہ کاجول پہلی بار ایک گلوکارہ کے روپ میں نظر آئیں گی اداکارہ بہت جلد اپنے شوہر اجے دیوگن کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’ایلا‘‘ کی شوٹنگ کاآغاز کریں گی-سنجے لیلا کی درخواست پر اکشے نے فلم کی نمائش موخر کر دی اب فلم پیڈمین 25 جنوری کے بجائے 9 فروری کو پیش کی جائیگی-جدید سنیما گھروں کے قیام سے فلم انڈسٹری میں نئی جان پڑی ہے، قرة العین عینی انڈسٹری کی طرف ویلکم کہنے اور پہلی فلم پر لوگوں کی طرف سے ملنے والے رسپانس کا سوچا بھی نہیں تھا‘انٹرویو-عامر خان چین میں اپنی ایک اور فلم کیساتھ بڑی کامیابی حاصل کرنے کیلئے تیار عامر خان کی فلمز ’دھوم 3‘، ’پی کے‘ اور ’دنگل‘ بھی چین میں نمائش کے لیے پیش کی جاچکی ہیں-کرن جوہر نے مس ورلڈ مانوشی کو اپنی فلم میں کام دینے کی تردید کردی کرن نے مانوشی کو اپنی فلم ’’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر2‘‘میں کام کرنے کی پیشکش کی ہے، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

GB News

بیت المقدس پرٹرمپ کے فیصلے کیخلاف دنیابھرمیں احتجاجی مظاہرے

Share Button

تل ابیب/مقبوضہ بیت المقدس(آئی این پی)مشرق وسطی سمیت دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس(یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارت خانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف پر تشدد مظاہروں کی نئی لہر کا آغاز ہوگیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر کے فیصلے پر ترقیافتہ ممالک نے بھی سخت تنقید کی۔ترکی کے صدررجب طیب اردوگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جہاں بچوں کا قتل عام ہوتا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوگان نے فلسیطن کے معاملے پر ٹرمپ کے فیصلے کو دنیا میں امن تباہ کرنے کی سازش بھی قرار دیا۔خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے حالیہ یورپی دورے میں فرانسیسی صدر سے پیرس اور یورپین یونین کے وزرا سے برسلز میں ملاقاتیں کیں ہیں۔دوسری جانب امریکی فیصلے کے خلاف پاکستان، ترکی، ملائیشیا، اردن، لبنان، انڈونیشا اور مصر سمیت دیگر ممالک میں سیکڑوں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔لبنان میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ٹرمپ مخالف نعرے لگائے اور امریکی صدر کا پتلہ بھی نذرآتش کیا۔مظاہرین کی جانب سے سفارتخانے میں داخلے کی کوشش پر لبنانی فورسز نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے۔ادھر جکارتہ میں تقریبا 5 ہزار انڈونیشائی باشندوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی میں امریکی سفارتحانے کے سامنے احتجاج کیا۔قاہرہ کی درسگاہ جامعہ الازہر کے ہزاروں اساتذہ اور طالب علموں نے امریکی فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور جامعہ الازہر کے ترجمان نے بتایا کہ قاہرہ کی دیگر 2 درسگاہوں میں بھی طلبہ نے احتجاج کیا۔فلسطین کے وزیر صحت نے بتایا کہ العرب پناہ گزین کیمپ میں پرتشدد احتجاج میں ربر کی گولی لگنے سے ایک فلسطینی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔واضح رہے کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کا 20 دسمبر کو مشرق وسطی کا دورہ متوقع ہے تاہم فلسطینی صدر محمود عباس نے ان سے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ واپس لیں۔مصر میں عیسائیوں کے پیشوا پاپ ٹاواڈورس نے بھی امریکی نائب صدر سے ملاقات سے انکار کردیا ہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے فیصلے سے لاکھوں عربوں کے جذبات کو ٹھس پہنچی ہے۔عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرے جو بین الاقوامی قراردادوں کے منافی ہے۔ہنگامی اجلاس میں کہا گیا کہ مذکورہ فیصلے سے امریکا کی اپنی حیثیت قابضین کی ہو چکی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کے بیت المقدس کے بارے میں اشتعال انگیز اعلان کے بعد فلسطینی تیسرے روز بھی سراپا احتجاج رہے جبکہ 24 گھنٹوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 8 ہوچکی ہے۔دوسری جانب فرانس نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے انکارکردیا۔امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے پہلے دورے پر یورپ پہنچے جہاں پیرس میں انھوں نے فرانس کے صدر سے ملاقات کی۔ بعدازاں فرانسیسی صدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم پر واضح کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی صدر کا یکطرفہ فیصلہ خطے کے امن کیلئے خطرناک ہے جس کی فرانس مخالفت کرتا ہے۔فرانسیسی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی آباد کاری کے منصوبوں کو فوری روکا جائے۔

Facebook Comments
Share Button