تازہ ترین

Marquee xml rss feed

گوجرانوالہ میں پاک فوج اور عدلیہ کے حق میں ریلی ، نعرے بھی لگائے گئے-حکمران عوام کی حالت زار بدلنے کے معاملے پر ڈنگ ٹپائو پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ‘ مسرت چیمہ عوام نے موقع دیا تو صحت اور تعلیم سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی اولین ترجیح ہو ... مزید-عروج کے دنوں میں شوبز کو چھوڑنا میرے لیے باعث فخر ہے ‘ اداکارہ زاریہ بٹ-کسی بھی فلم کی کامیابی کیلئے سکرپٹ کا اچھا اور معیاری ہونا لازمی ہے‘ صائمہ نور-گلوکارہ حمیرا چنا سیرو تفریح کے لئے دبئی روانہ-عالمی شہرت یافتہ اداکار وکمپیئر معین اختر کی ساتویں برسی (آج )منائی جائے گی-اداکارہ شیزہ بٹ پر فیصل آباد میں قاتلانہ حملے کے ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے پولیس کی پراسرار خاموشی /پاکستان میں فن اور فنکاروں کی جان و مال کی کوئی قدر نہیں‘ شیزہ ... مزید-انعامی بانڈ زپر ٹیکس کی شرح کم کی جائے ‘ پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی میں قرارداد-حکومتی پالیسیوں سے آئی سی یو میں پڑی معیشت کی سانسیں بحال ہو ئی ہیں‘ (ن) لیگ ٹریڈرز ونگ تاجروں نے نا مساعد حالات کے باوجود ٹیکسز کی ادائیگی کر کے معیشت میں کلیدی کردار کو ... مزید-ملک کو مثبت سمت میں آگے لیجانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پر ہونا نا گزیر ہے ‘آل پاکستان انجمن تاجران معیشت کو درپیش مسائل کے حل ،قومی معاملات میں اتفاق رائے کیلئے ... مزید

GB News

ویدرپالیسی سے چھوٹے ملازمین خوش ہیں، صرف کرپٹ مافیا شور مچارہا ہے، وزیراعلیٰ

Share Button

وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ صوبائی حکومت کی ہاٹ اینڈ کولڈ پالیسی سے چھوٹے ملازمین خوش ہیں البتہ اس پالیسی سے کرپٹ مافیا کو نقصان پہنچاہے اس لئے وہ شور مچارہے ہیں انہوںنے جمعرات کے روز قانون سازاسمبلی میں قائد حزب اختلاف کیپٹن(ر) شفیع خان کے ایک توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں ایوان کوبتایا کہ صوبائی کابینہ کے اعلان کردہ ہاٹ اینڈ کولڈ پالیسی سے گریڈ ون سے گریڈ دس تک کے پینتیس ہزار ملازمین خوش ہیں اور اس پالیسی کو سراہ رہے ہیں انہوںنے کہا کہ اس پالیسی سے گریڈ 17سے گریڈ بائیس تک کے ملازمین کو تھوڑا نقصان پہنچا ہے ہم نے گلگت بلتستان کی اشرافیہ سے پیسے کاٹ کر چھوٹے ملازمین کو فائد پہنچایا ہے انہوںنے کہا کہ اس پالیسی سے قبل محکمہ پولیس کے ایک سپاہی کو ہاٹ اینڈ کولڈ پالیسی کے تحت صرف بارہ سو روپے ملتے تھے اب بارہ ہزار روپے ملیں گے محکمہ تعمیرات عامہ کے ملازمین کوصرف ایک ہزار روپے ملتے تھے اب بارہ ہزار روپے ملیں گے انہوںنے کہاکہ اس سے قبل سرکاری ملازمین اور آفیسرز اپنی لکڑی کی پرچی لے کر لکڑی ٹال والے کے پاس جاتے تھے ٹال مالک چالیس فیصد رقم کی کٹوتی کر کے باقی رقم دیتا تھا ہماری نئی پالیسی سے ملازمین کو فائدہ ہوا ہے البتہ کئی لوگوں کے مفادات کو زک ضروری پہنچی ہے ۔انہوںنے کہا کہ یہ پالیسی ستر سال قبل انگریزوں نے بنائی تھی اس وقت ڈیزل کی گاڑیاں گرم کئے بغیر سٹارٹ نہیں ہوتی تھیں اس لئے ڈرائیوروں کو گاڑی گرم کرنے کیلئے اضافی لکڑی دی جاتی تھی مگر اب ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر علاقے کے مفاد میں کوئی کام ہورہاہو کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی کام ہورہاہے امتیازی سلوک کو ختم کرنے کیلئے کوئی کام ہورہاہے تو اس پر تنقید کرنے سے قبل اپوزیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مکمل معلومات حاصل کریں انہوںنے کہا کہ حکومت کی نئی پالیسی سے گلگت بلتستان کے ملازمین کی اکثریت خوش ہے البتہ سول سیکرٹریٹ ،گورنر سیکرٹریٹ اوراسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کے کچھ تحفظات ہیں ہم مذاکرات کر کے ان ملازمین کے تحفظات بھی دورکریں گے انہوںنے کہاکہ سابقہ پالیسی کو برقراررکھنے کا مطلب لوگوں کو جنگلات کی کٹائی کی ترغیب دینے کے مترادف ہے ۔انہوںنے کہاکہ میرے اپنے حلقے کے سئی جگلوٹ میں 1992سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہورہی ہے اس دوران سات حکومتیں آئیں مگر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی اس علاقے سے مجھے پچاس فیصد ووٹ ملے ہم جنگلات کی کٹائی روکنے کیلئے جگلوٹ کے لوگوں سے بات چیت کی اور ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی جس کے بعد ہم نے تمام ریاستی اداروں کو وہاں بھیجا فورس کے ذریعے لکڑی ضبط کی اور ایک سو ستر لوگوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا انہوںنے اس موقع پر وزیر قانون اورنگ زیب ایڈووکیٹ کو ہدایت کی کہ وہ بعض سیکرٹیز کو ساتھ لے کر اپوزیشن ممبران کوبریفنگ دیں اور ان کے خدشات کو دورکریں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے ایوان کوبتایا کہ ملازمین کو لکڑی دینے کی پالیسی انگریزوں کی بنائی ہوئی تھی اس وقت علاقے میں بجلی نہیں تھی لکڑی جلانے کے علاوہ کوئی متبادل آپشن نہیں تھا اب دفتروں میں اے سی لگا ہوا ہے ہیٹرز لگے ہوئے ہیں اس وقت لوگوں میں درخت کاٹنے کے نقصانات کا شعور نہیں تھا اگرہم حکومت میں ہوتے ہوئے لوگوں کو درخت کاٹنے کی ترغیب دیں تو پھر ہم میں اور ڈونلڈ ٹرمپ میں کیا فرق رہ جائیگا۔انہوںنے کہاکہ سرکاری ملازمین کو لکڑی دینے کی پالیسی کی وجہ سے بہت سے مافیا بن چکے تھے لکڑی کے ٹال والے اورمحکمے کے ڈی ڈی اوز مافیا بن چکے تھے ڈی ڈی اوز ملازمین کو ہزار بارہ سو روپے دے کر باقی رقم اپنی جیب میں ڈالتے تھے ان مافیاز کو ختم کرنے کیلئے یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے اگر اس کے باوجود کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو ہم بات چیت کیلئے تیارہیںپبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کیپٹن سکندر علی نے کہا کہ ملازمین شکایت کرتے تھے کہ بڑے آفیسران فنڈز ہڑپ کرتے ہیں ہمیں کچھ نہیں ملتا ہے یہ ایک بہت اچھی پالیسی ہے اس سے تمام چھوٹے ملازمین خوش ہیں اس سے قبل قائد حزب اختلاف کیپٹن(ر) محمد شفیع نے ایک توجہ دلائو نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ صوبائی کابینہ نے گیارہ دسمبر کے اجلاس میں سرکاری ملازمین کو موسم سرما میں مہیا کی جانے والی لکڑی کے حوالے سے جو فیصلہ ہوا ہے وہ نہ صرف غیرقانونی و غیر آئینی ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو بھی پورانہیں کرتا اور اس نئی پالیسی پر نظر ثانی کی صورت ہے اورسابقہ پالیسی کے تحت ملازمین کو لکڑی فراہم کی جائے ۔

Facebook Comments
Share Button