تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خیبرکالج آف ڈینسٹری کی کوآرڈینیشن کونسل کااجلاس-جامعہ پشاور میں الیکٹرانک میڈیا تربیتی کورس اختتام پذیر-عوام 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں گے ،سیدعمران-صوابی،سپورٹس گالا میں جاری بیڈ منٹن اوروالی بال مقابلے اختتام پذیر-جے ٹی آئی شیخ الہند پابینی یونٹ صوابی کی کابینہ تشکیل-اداکارہ کاجول پہلی بار ایک گلوکارہ کے روپ میں نظر آئیں گی اداکارہ بہت جلد اپنے شوہر اجے دیوگن کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’ایلا‘‘ کی شوٹنگ کاآغاز کریں گی-سنجے لیلا کی درخواست پر اکشے نے فلم کی نمائش موخر کر دی اب فلم پیڈمین 25 جنوری کے بجائے 9 فروری کو پیش کی جائیگی-جدید سنیما گھروں کے قیام سے فلم انڈسٹری میں نئی جان پڑی ہے، قرة العین عینی انڈسٹری کی طرف ویلکم کہنے اور پہلی فلم پر لوگوں کی طرف سے ملنے والے رسپانس کا سوچا بھی نہیں تھا‘انٹرویو-عامر خان چین میں اپنی ایک اور فلم کیساتھ بڑی کامیابی حاصل کرنے کیلئے تیار عامر خان کی فلمز ’دھوم 3‘، ’پی کے‘ اور ’دنگل‘ بھی چین میں نمائش کے لیے پیش کی جاچکی ہیں-کرن جوہر نے مس ورلڈ مانوشی کو اپنی فلم میں کام دینے کی تردید کردی کرن نے مانوشی کو اپنی فلم ’’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر2‘‘میں کام کرنے کی پیشکش کی ہے، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

GB News

چیف ایڈیٹرکا پیغام

Share Button

قارئین کرام اسلام علیکم !!
روزنامہ کے ٹو کی عمر 24سال ہو چکی ہے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ چوبیس سال کے اس سفر میں روزنامہ کے ٹو نے کبھی بھی عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی یہی وجہ ہے کہ چوبیس سال سے روزنامہ کے ٹو اور قارئین کا رشتہ نہ صرف برقرار ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہاہے ۔کے ٹو شروع میں ہفت روزہ کی شکل میں شروع ہوا ہفت روزہ کے ٹوراولپنڈی میں پرنٹ ہو کے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں ایک روز بعد پہنچتا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ہفت روزہ کے ٹو گلگت بلتستان کے عوام کی ایک توانا آواز بن گیا لیکن یہ کچھ لوگوں کو پسند نہ آئی اور اس آواز کو دبانے کی سازشیں شروع ہوئیں پہلے اخبار کے ٹو کا ڈیکلریشن منسوخ کیا گیا پھر اخبار کے بانی اورمیرے بابا راجہ حسین خان مقپون (مرحوم)کو پابند سلاسل کیاگیا مگر پھر بھی میرے بابا نے ہمت نہیں ہاری اور د و تین ماہ کے تعطل کے بعد اخبار دوبارہ شروع کیا اورایوانوں میں گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل پہنچاتے رہے ان دنوں ہفت روزہ کے ٹو کے ساتھ ساتھ دیگر دو ہفت روزہ اخبارات سعادت علی مجاہد صاحب کا اخبار ہفت روزہ وادی اور سید مہدی صاحب (مرحوم)کا اخبار ہفت روزہ نقارہ بھی باقاعدہ سے شائع ہوتے تھے میرے بابا کو اس بات کا احساس تھا کہ اگر تینوں اخبارات ایک ادارے میں ضم ہوں تو گلگت بلتستان کے عوام کی آواز بہتر انداز میں اقتدار کے ایوانوں میں پہنچائی جاسکتی ہے جس کے بعد میرے ابو راجہ حسین خان مقپون نے سید مہدی صاحب اور سعادت علی مجاہد صاحب سے بات کی اور تینوں نے قراقرم پبلشنگ نیٹ ورک کی بنیاد رکھی اور اس ادارے سے تینوں اخبارات ہر دو دن بعد شائع ہوتے تھے اور ایک دن بعد گلگت بلتستان پہنچتے تھے مگر کچھ عرصے بعد اس ادارے نے احساس کیا کہ گلگت بلتستان کے مسائل کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے کیلئے تینوں اخبارات میں سے ایک اخبار کو روزانہ کی بنیاد پر شائع کیا جائے جس کے بعد ہفت روزہ کے ٹو کو روزنامہ کی شکل دی گئی مگر اس کے باوجود گلگت بلتستان کے قارئین کو اخبار ایک دن کی تاخیر سے ملتا تھا اور گلگت بلتستان کے قارئین ایک دن پرانا اخبار پڑھنے پر مجبور تھے گلگت بلتستان کے قارئین کو تازہ اخبار فراہم کرنے کی خاطر گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید ترین فور کلر پرنٹنگ مشین گلگت میں نصب کی گئی اور تاریخ میں پہلی بار قارئین کو تازہ ترین اخبار فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور ساتھ ساتھ اسلام آباد راولپنڈی کے قارئین کے لئے روزنامہ کے ٹو کا راولپنڈی ایڈیشن جبکہ کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے عوام کو باخبر رکھنے کیلئے روزنامہ کے ٹو کا کراچی ایڈیشن شروع کیا گیاچونکہ ہماری نیت صاف تھی اس لئے منزل آسان ہوگئی اور روزنامہ کے ٹو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور قارئین کی بے لوث محبت کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی
بلندیوں پر پہنچ گیا اور گلگت بلتستان کے عوام کی ایک توانا آوازبن گیا اور روزنامہ کے ٹو نے گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی ،سماجی اور مذہبی جماعتوں کی آواز پہلے سے بہتر انداز میں ایوانوں تک پہنچانے لگا اور اسی توانا آواز کی وجہ سے 2009میں پی پی کی حکومت نے گلگت بلتستان کیلئے گورننس آرڈر 2009کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں باقاعدہ انتظامی سیٹ اپ کا قیام عمل میں لایا گیا اور وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ کی حکومت قائم ہوئی اس وقت کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ سے ہمارے قریبی تعلقات تھے مگر کچھ عرصے بعد ہی احساس ہوا کہ مہدی شاہ حکومت میرٹ پر عمل نہیں کررہی ہے اور من پسند لوگوں کو نواز رہی ہے ہم تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی آواز بن گئے حکومت نے انتقامی کارروائی شروع کی اشتہارات بند کرائے اور ادارے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا ہم نے کروڑوں کا نقصان برداشت کیا مگر حق اورسچ کا ساتھ نہیں چھوڑا اس مشکل وقت میں 26فروری 2012کو روزنامہ کے ٹو کے بانی میرے والد اورادارے کے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے راجہ حسین خان مقپون ایک حادثے میں ہم سے بچھڑے گئے اس وقت کئی لوگوںنے یہ غلط اندازے لگانے شروع کئے کہ اب اس ادارے کا برقرا رہناممکن نہیں ہے اس وقت نہ صرف میں زیرتعلیم تھا بلکہ میرے چچا راجہ شاہ سلطان مقپون بھی زیرتعلیم تھے اس ادارے کے روح رواں انکل سید مہدی نے نہ صرف ادارے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ادارے کی ساکھ بھی برقرار رکھی اور ادارے کو برقرارکھنے کیلئے میرے چچا راجہ شاہ سلطان نے بھی ادارے کیلئے وقت دینا شروع کردیااس دوران گلگت بلتستان میں حکومت مدت پوری کر کے چلی گئی نگران حکومت قائم ہوئی انتخابات ہوئے مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی اور حافظ حفیظ الرحمن وزیراعلیٰ بن گئے چونکہ حفیظ الرحمن جب اپوزیشن میں تھے تو ہمیشہ روزنامہ کے ٹو کی بڑی تعریف کرتے تھے اس لئے ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ روزنامہ کے ٹو کی مشکلات کا دورختم ہوا ہے مگر کچھ عرصے بعد ہی اندازہ ہوا کہ تاریخ میں سچ کسی بھی حکمران کو کبھی بھی پسند نہیں آیا ہے اور حکمران جو کوئی بھی ہو سچ سننا اور پڑھنا پسند نہیں کرتے حفیظ الرحمن کی حکومت بھی سابقہ حکومت کی ڈگر پر چلنے لگی تو ہم نے اصل حقائق عوام کو دکھانے شروع کیے گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات اور دیگر سیاسی جماعتوں کی آوا زکو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا شروع کیا تو ادارے کیخلاف طرح طرح کی حکومتی سازشیں شروع ہوگئیں ،ن لیگ کی حکومت کی سازشوں سے تنگ آکر تاریخ میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں تمام اخبارات ایک ہفتے سے زائد بند رہے ،اسلام آباد میں ملک بھر کے صحافیوں نے حفیظ الرحمن اور ان کی حکومت کیخلاف پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا،سچ کی قیمت مہنگی پڑگئی اور ادارے کی مشکلات میں اضافہ ہوا مگر اس کے باوجود ہم نے قارئین کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی اور حکمرانوں کے سامنے سچ کہنے اور لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا یہی وجہ ہے کہ اس وقت روزنامہ کے ٹو گلگت بلتستان کے ہر گھر میں پڑھا جاتا ہے اور کے ٹو کی خبروں پر اعتماد کیا جاتا ہے ۔اس عرصے میں رواں برس اگست کے مہینے میں ادارے کو ایک اور سانحہ برداشت کرناپڑا اور ادارے کے روح رواں انکل سید مہدی جو ادارے کے لئے ایک تناور درخت کی حیثیت رکھتے تھے ہم سے بچھڑ گئے جس کے بعد ادارے کی ذمہ داریاں مجھے سنبھالنا پڑی بحیثیت چیف ایڈیٹر قارئین کو ادارے کی مختصر تاریخ بیان کرنے کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ قارئین کو حقائق سے آگاہ رکھنے کیلئے میرے والد مرحوم راجہ حسین مقپون اور انکل سید مہدی مرحوم نے بڑی قربانیاں دی ہیں میں ان کے مشن کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کروں گا اورقارئین کو حقائق سے باخبر رکھنے کا سلسلہ جاری رہے گا چاہے اس کیلئے کتنی بھی قیمت کیوں نہ چکانا پڑے روزنامہ کے ٹو نے گزشتہ چوبیس سال کے عرصے میں قارئین اور عوام کو کبھی مایوس نہیں کیا انشاء اللہ آئندہ بھی مایوس نہیں کریگا البتہ قارئین سے اتنی گزارش ضرورہے کہ روزنامہ کے ٹو سے اپنا رشتہ اورسرپرستی حسب سابق برقرار رکھیں اور ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کاسلسلہ جاری رکھ سکیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق پر چلنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عنایت فرما۔آمین
والسلام
راجہ کاشف حسین مقپون
ایڈیٹر انچیف روزنامہ کے ٹو

Facebook Comments
Share Button