تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلیٰ پنجاب کا گجرات میں طالبات پر تیزاب پھینکنے کے واقعہ کا نوٹس،ملزمان کی گرفتاری کا حکم-وزیراعلیٰ پنجاب سے دانش سکولز سے فارغ التحصیل ہوکراعلی تعلیمی اداروں میںتعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی ملاقات دانش سکول پر تنقید کرنے والے سیاسی لیڈروںنے اپنے ... مزید-سپریم کورٹ کی سفارش پر قائم کمیٹی نے سندھ اور بلوچستان کے اکیس غیر معیاری نجی اور سرکاری لاء کالجز بند کرنے کی سفارش کر دی-چیف جسٹس نے پنجاب میں 600 سے زائد بچوں کے اغوا کی میڈیا رپورٹس کا نوٹس لے لیا-وزیراعلیٰ پنجاب کا پیپلز پارٹی کے رہنما جہانگیر بدر مرحوم کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت-وزیراعلیٰ پنجاب سے سندھ کے شیرازی برادران کی ملاقات شیرازی برادران کا عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے بے مثال اقدامات پر شہبازشریف کو خراج تحسین عوام کی خدمت کا ... مزید-فیس بک کے لوگو کا رنگ نیلا کیوں ہے،ایسا انکشاف جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا-لاہور، ملک کے وزیر اعظم عمران خان ہونگے،اعجازاحمد چوہدری نواز شریف اور زرداری ٹولہ نے اقتدار میں آ کر صرف عوام کا خون چونسا ہے اور اپنی جیبیں بھری ہے ملک کے تباہی کے ... مزید-پشاور، بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے پر صوبائی کابینہ کو بریفننگ واحد منصوبہ ہے جو قلیل عرصے اور کم لاگت سے مکمل ہوگا،پرویز خٹک مجموعی لاگت میں بسوں کی خریداری، اراضی، کمرشل ... مزید-عوام کی عدم دلچسپی کے باعث سندھ گیمز کی افتتاحی تقریب نا کامی کا شکار ہوئی ہے ، سید صفدر حسین شاہ

GB News

گلگت بلتستان کا پہلا کارڈیک ہسپتال

Share Button

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صوبے کے پہلے کارڈیک ہسپتال کے ٹینڈر ڈاکومنٹس جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارڈیک ہسپتال انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے ۔ جون2019 تک جدید کارڈک ہسپتال کی تعمیر کو ہرصورت یقینی بنایا جائے اور کارڈیک ہسپتال کیلئے درکار جدید طبی آلات کی خریداری کیلئے بھی ضروری کاغذی کارروائی کو مکمل کیا جائے۔ کارڈیک ہسپتال گلگت بلتستان کے عوام کیلئے مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کی جانب سے ایک تحفہ ہے۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنے دور حکومت میں میگا منصوبے تعمیرکئے ہیں اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ کارڈک ہسپتال کی تعمیر سے عوام کو امراض قلب کی علاج کے سہولیات ان کے دہلیز پر میسر آئیں گے۔صوبے کے پہلے کارڈیک ہسپتال کیلئے ڈیڑھ ارب کی خطیر رقم صوبے کو منتقل کی جاچکی ہے۔ اے ایف آئی سی اور راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی طرز پر جدید کارڈیک ہسپتال قائم کیا جائے گا۔ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت میں ٹراما سنٹر کو بھی ماسٹرپلان کے تحت ہی تعمیرکیا جائے۔ گلگت میں سٹیٹ آف دی آرٹ اور جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتالوں کی تعمیر سے عوام کو صحت کے بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔صحت عامہ کی سہولیات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں’پاکستان میں موذی امراض کی سنگینی میں جس شدت سے اضافہ ہو رہا ہے اس کے تناظر میں یہ بہت ضروری ہے کہ جدید ہسپتالوں کی تعمیر عمل میں لائی جائے گلگت بلتستان میں کارڈیک ہسپتال کی تعمیریہاں کے عوام کو ان مشکلات سے نجات دلائے گی جو انہیں دل کے امراض کے سلسلے میں ملک کے دیگر ہسپتالوں میں پیش آتی تھیں بدقسمتی سے ہمارے ہاں امراض قلب میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس ضمن میں چند ہی اچھے ہسپتال ہیں جو مریضوں کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں’اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کے کئی دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی دل کی بیماریاں انسانی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں آج پیدا ہونے والے ایک تہائی بچوں کو مستقبل میں امراض قلب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امراض قلب کے کئی پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے پاکستان میں دل کی مختلف بیماریاں عام لوگوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ اس لیے بن چکی ہیں کہ لوگوں کی خوراک، عادات اور طرز زندگی مجموعی طور پر غیر صحت مند ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں قریب ساڑھے تین لاکھ افراد سالانہ دل کی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک انٹرنیشنل میڈیکل سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سترہ اعشاریہ پانچ ملین افراد ہر سال دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے فوری طبی امداد کی فراہمی کی شہری اور دیہی علاقوں میں مجموعی صورت حال بالکل مختلف ہے حکومت کی توجہ شہروں پر ہے۔ تقریبا تمام بڑے شہروں میں امراض قلب کے ہسپتال تو بنائے گئے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں صورت حال تسلی بخش نہیں۔ شہروں میں ہسپتال تو ہیں لیکن علاج مہنگا ہے۔ مریضوں کو نوے فیصد علاج اپنی ہی جیب سے کرانا پڑتا ہے۔ دل کے عارضے میں مبتلا کسی مریض کا بائی پاس ہو یا انجیوگرافی، کم از کم ایک سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن اتنا طویل اور مہنگا علاج خود اپنی جیب سے ادائیگی کے ساتھ کرا سکنے والے مریضوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ اسی لیے جب متوسط طبقے کے کسی شہری کو دل کا عارضہ لاحق ہوتا ہے، تو اسی علاج کے باعث اس کا پورا خاندان غربت کی نچلی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔تمباکو نوشی، ناقص اور غیر متوازن غذا اور ورزش کا فقدان بھی امراض قلب کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔دل کی بیماریاں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب ان کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں، تو لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہارٹ اٹیک کی علامات میں بے چینی، سینے میں درد، بھاری پن محسوس ہونا، کچھ کیسز میں دل کا کام کرنا چھوڑ دینا، منہ سے خون آنا، چکر آنا، تھکن، متلی، بھوک کا نہ لگنا، ٹھنڈے پسینے آنا اور سانس لینے میں دشواری سمیت سب کچھ شامل ہے۔ انسان کا دل ایک کرشماتی تخلیق ہے ۔ دل کی نسیں شریانیں رگیں نالیاں ساٹھ ہزار میلوں جتنی ہوئی ہیں ۔ اتنی طویل ہیں کہ اگر سفر پر نکلیں تو دوباردنیا گھوم کر آجائیں ۔ ہمارا دل دن میں تقریبا ایک لاکھ بار دھڑکتا ہے ۔ ہمارے ہاںدل کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے شوگر ، کولیسٹرول کا بڑھ جانا موٹاپا اور سگریٹ نوشی کا کثرت سے استعمال ہے ۔ اس کے علاوہ اگر دل کا مرض والدین میں کسی کو پچاس سال کی عمر سے پہلے ہوچکا ہے توباقی افراد کے متاثر ہونے کے پچاس فیصد امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ جدید دور میں کھانے پینے کی عادات اور اوقات تبدیل ہوچکے ہیں ۔ سادہ غذا کی جگہ فاسٹ فوڈ غذائوں اور کولڈڈرنکس نے لے لی ہے اس کے علاوہ الکوحل کا استعمال بھی دل کے امراض کا باعث ہے۔کولیسٹرول کا بڑھ جانا بھی دل کے امراض جا پیش خیمہ بنتا ہے ۔ کولیسٹرول ایک چکنا مادہ ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں موجود ہوتا ہے ویسے تو کولیسٹرول جسم میں معمول کے مطابق بنتا ہے مگر مرغن غذا سے اس کی مقدار میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے ۔ کولیسٹرول جگر میں بنتا ہے جس کی وجہ سے جسم معمول کے مطابق کام کرتا ہے ۔کولیسٹرول کی مدد سے جسم کے معمولات میں ہار مونز بائل ایسڈ اور وٹامن ڈی کا بنانا شامل ہے بہت زیادہ شریانوں میں خون کے لوتھڑے جمنے کی وجہ سے فالج اور دل کے دورے کا امکان بہت زیادہ ہوجاتا ہے ۔ ایسی صورت میں مناسب غذا کے استعمال سے بہت زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے البتہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملک کے ہر ضلع میں ایک عالمی سطح کا دل کا ہسپتال بنائے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں سے بہت سے لوگ بھارت جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ جس بیماری کا علاج وہاں ہوتا ہے اس کا اہتمام پاکستان میں کیوں نہیں کیا جاتا چھوٹے علاقوں اور شہروں میں تو صورتحال انتہائی دگرگوں ہے’لوگ علاج کی سکت ہی نہیں رکھتے یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ارباب اختیار ملک سے باہر جا کر علاج کرانے کی بجائے اپنے ہی ملک میں جدید ہسپتال تعمیر کریں تاکہ صحت عامہ کے مسائل سے نجات مل سکے۔

Facebook Comments
Share Button