تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خیبرکالج آف ڈینسٹری کی کوآرڈینیشن کونسل کااجلاس-جامعہ پشاور میں الیکٹرانک میڈیا تربیتی کورس اختتام پذیر-عوام 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں گے ،سیدعمران-صوابی،سپورٹس گالا میں جاری بیڈ منٹن اوروالی بال مقابلے اختتام پذیر-جے ٹی آئی شیخ الہند پابینی یونٹ صوابی کی کابینہ تشکیل-اداکارہ کاجول پہلی بار ایک گلوکارہ کے روپ میں نظر آئیں گی اداکارہ بہت جلد اپنے شوہر اجے دیوگن کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’ایلا‘‘ کی شوٹنگ کاآغاز کریں گی-سنجے لیلا کی درخواست پر اکشے نے فلم کی نمائش موخر کر دی اب فلم پیڈمین 25 جنوری کے بجائے 9 فروری کو پیش کی جائیگی-جدید سنیما گھروں کے قیام سے فلم انڈسٹری میں نئی جان پڑی ہے، قرة العین عینی انڈسٹری کی طرف ویلکم کہنے اور پہلی فلم پر لوگوں کی طرف سے ملنے والے رسپانس کا سوچا بھی نہیں تھا‘انٹرویو-عامر خان چین میں اپنی ایک اور فلم کیساتھ بڑی کامیابی حاصل کرنے کیلئے تیار عامر خان کی فلمز ’دھوم 3‘، ’پی کے‘ اور ’دنگل‘ بھی چین میں نمائش کے لیے پیش کی جاچکی ہیں-کرن جوہر نے مس ورلڈ مانوشی کو اپنی فلم میں کام دینے کی تردید کردی کرن نے مانوشی کو اپنی فلم ’’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر2‘‘میں کام کرنے کی پیشکش کی ہے، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

GB News

گرین پاکستان پروگرام اور گلگت بلتستان

Share Button

گرین پاکستان پروگرام کے تحت گلگت بلتستان میں دو لاکھ اڑتالیس ہزار پودے لگائے گئے ہیں اور پروگرام کے لیے گلگت بلتستان کی نرسریوں میں چالیس ہزار پودے موجود ہیں’پاکستان میں جس تیزی سے جنگلات کا صفایا ہو رہا ہے اس کے تناظر میں شجرکاری مہم لائق تحسین ہے’درخت صدقہ جاریہ ہیں ۔ روئے زمین پر جابجا پھیلے پیڑ بنی نوع انسان کیلئے قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔ شجر کاری ما حول کو خوبصورت اور دلکش بنانے میں بھی اہم کر دار ادا کرتی ہے۔درخت جہاںدنیا بھر کے جانداروںکو چھا ئوں مہیا کرتے ہیں وہیں ان کی خوشبو سے زمانہ مہکتا ہے ۔ رنگ برنگے درخت کبھی ریگستان کو نخلستان میں بدلتے ہیں تو کبھی جنگل میں منگل کا سماں پیدا کرتے ہیں۔درختوں پربسنے والے پرندوں کی چہچہاہٹ پر فضا ماحول میں رس گھول دیتی ہے۔درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوتے ہیںدرخت سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائو اور زمین کے کٹائو کو روکنے کا اہم ذریعہ ہیں ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25فیصد حصہ پر جنگلات کا ہونا بے حد ضروری ہے درختوں کے یہ فوائد تو ماحول سے متعلق ہیں تاہم یہ انسان کے فائدے کیلئے بھی کام آتے ہیں مزیدار شیریں پھل ان سے ہی حاصل کیے جاتے ہیں درختوں کی لکڑی فرنیچر ،مکانوں کے شہتیراور دیگر مقاصد کیلیئے استعمال میں لائی جاتی ہے درختوں ہی کی بدولت بارش کا موجب بننے والے بادل وجود میں آتے ہیںہمارا ملک پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اللہ تعالی نے اسے چار موسموں کے خوبصورت انعام اور نعمت سے نوازا ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے پاکستان میں کل رقبے کا بہت کم حصہ جنگلات ہیں جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے ۔یوں تو سال میں دو مرتبہ شجر کاری کا موسم آتا ہے جس میں بڑے اہتمام سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا جا تا ہے سینکڑوں پودے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن ان پودوں کے حوالے سے پھر کوئی رپورٹ سننے کو نہیں ملتی کہ آیا ان کی نگہداشت کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کیئے گئے کیا وہ پودے پروان چڑھنے کے بعد تناور درخت بننے میں کامیاب ہوئے یا نہیںاور یہ کہ عرصہ درازسے جاری شجر کاری مہم کی بدولت اب تک درختوں کا تناسب کیوں ٹھیک نہ ہو سکایہ وہ سوالات ہیں جو یقینا اہل فکر کے اذہان میں سر اٹھاتے ہیںدنیا میں گلوبل وارمنگ کی بازگشت بھی عرصہ دراز سے سنائی دے رہی ہے جس کی روسے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے یوں تو اسکی کئی وجوہات ہیں تاہم ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ گلوبل وارمنگ انسان کی ہی بے ربط طرز زندگی کا حاصل ہے صنعتی ترقی نے جہاں انسانی زندگی میں پر آسائش تبدیلیوں کو یقینی بنایا تو دوسری طرف اسکی وجہ سے زمین کے ماحول میں عدم توازن کی صورتحال پیدا ہو گئی ۔جس رفتار سے گاڑیوں کا استعمال بڑھ رہا ہے،فیکٹریاں لگائی جارہی ہیں اس لحاظ سے ہو نا تو یہ چاہیے تھا کہ دوسری طرف ماحول کی حفاظت کی بھی تدبیر کی جاتی لیکن مقام افسوس ہے کہ انسان پرتعیش زندگی کی بھول بھلیوں میں کھو کر رہ گیاجبکہ اس کے اقدامات بالآخر اپنا خطرناک رنگ دکھا گئے گلو بل وارمنگ میں اضافے کا ایک سبب درختوں کا کٹنا بھی ہے یہاں بھی حضرت انسان کے ہاتھوں کی کارستانی ملاحظہ کیجیئے کہ درخت تو اندھا دھندکاٹے جا رہے ہیں لیکن اس حساب سے انکی جگہ نئے پودے لگانے میں لیل و حجت سے ہی کام لیا جاتا ہے درخت جس رفتار سے کٹ رہے ہیں اس کے نتائج میں فضا میں آکسیجن کم اور کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہو رہی ہے درخت چونکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بطور خوراک استعمال کر تے ہیں لہذا اگر درخت کاٹ دیئے جائیں تو فضا میں اسکی مقدارزیادہ ہو جا تی ہے اورگلوبل وارمنگ یا زمینی تپش میں اضافہ کا باعث بنتی ہے پاکستان پر نظر ڈالیں تو یہ انکشاف ہوتاہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جسکا گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی گیسسز کے اخراج میںحصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن گلو بل وارمنگ کا ذمہ دار نہ ہونے کے باوجودپاکستان محض اس لئے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے کہ ہمارے پاس اس سے بچائو کیلئے قابل ذکر ٹیکنالوجی موجود نہیںاس صورتحال میں درختوں کا بھی مقررہ حد سے کم ہونا نہلے پہ دہلا کے مترادف ہے جو اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم کم ازکم زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ہی اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کریں’گرین پاکستان کے لیے کوششیں ایک احسن قدم ہے تاہم اس کے مکمل فوائد صرف اسی صورت حاصل کئے جا سکتے ہیںجب یہ تمام پودے صحت مندانہ انداز میں پروان چڑھیں یوں کہہ سکتے ہیں کہ درخت لگاناہی کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت بھی ضروری ہے اس مرتبہ گرین ڈے کے موقع پرشجر کاری مہم کا آغاز ہواتو شجر پروری کی اصطلاح بھی سننے کو ملی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ پودے لگانا ہی اہم نہیں بلکہ ان کو تناور درخت بننے کیلئے بھی اپنا اپنا رول ادا کرنا ضروری ہے’ نئی سوسائٹیوں کے قیام سے جہاں زیر کاشت رقبے کم ہوئے ہیں وہیں درخت اور پودوں کا بھی خاتمہ ہوگیا ہمیں اپنی بلکہ تمام جانداروں کی بقا کے لیے درختوں کی اشد ضرورت ہے آج اگر ہم سب یہ عہد کر لیں کہ ایک پودا ہر شخص لگائے گا اور اسکی حفاظت بھی کرے گا تو کامل یقین ہے کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمارا ملک بھی سر سبزاور خوشحال نظر آئے گا’انسان صرف لکڑیاں ہی درخت سے حاصل نہیں کرتابلکہ گوند ، شہد وغیرہ سب انسان درخت سے حاصل کرتا ہے ۔ جس طرح انسان درخت سے کام لیتا ہے پرندے اور جانور بھی اس سے کام لیتے ہیں ۔ تقریبا سارے پرندے درخت پر گھونسلہ بناتے ہیں ۔ سبزی خور پرندے اپنی غذا بھی درخت سے ہی حاصل کرتے ہیں ۔ غرض کہ درخت انسان کیلئے ہی نہیں پرندوں اور جانوروں کیلئے بھی مفید ہیں ۔ مگر افسوس آج بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلی ہیں ۔ آج بھی ہم درخت کو بے رحمی سے کاٹتے جارہے ہیں اور اس کے وجود کو ختم کرتے جارہے ہیں ۔ ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں ۔ ان کی دیکھ بھال کی جائے اور ہم 25 فیصدرقبہ جنگلات کا ہدف حاصل کرنے کی منزل کی جانب رواں دواں ہوں۔

Facebook Comments
Share Button