تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خیبرکالج آف ڈینسٹری کی کوآرڈینیشن کونسل کااجلاس-جامعہ پشاور میں الیکٹرانک میڈیا تربیتی کورس اختتام پذیر-عوام 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں گے ،سیدعمران-صوابی،سپورٹس گالا میں جاری بیڈ منٹن اوروالی بال مقابلے اختتام پذیر-جے ٹی آئی شیخ الہند پابینی یونٹ صوابی کی کابینہ تشکیل-اداکارہ کاجول پہلی بار ایک گلوکارہ کے روپ میں نظر آئیں گی اداکارہ بہت جلد اپنے شوہر اجے دیوگن کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’ایلا‘‘ کی شوٹنگ کاآغاز کریں گی-سنجے لیلا کی درخواست پر اکشے نے فلم کی نمائش موخر کر دی اب فلم پیڈمین 25 جنوری کے بجائے 9 فروری کو پیش کی جائیگی-جدید سنیما گھروں کے قیام سے فلم انڈسٹری میں نئی جان پڑی ہے، قرة العین عینی انڈسٹری کی طرف ویلکم کہنے اور پہلی فلم پر لوگوں کی طرف سے ملنے والے رسپانس کا سوچا بھی نہیں تھا‘انٹرویو-عامر خان چین میں اپنی ایک اور فلم کیساتھ بڑی کامیابی حاصل کرنے کیلئے تیار عامر خان کی فلمز ’دھوم 3‘، ’پی کے‘ اور ’دنگل‘ بھی چین میں نمائش کے لیے پیش کی جاچکی ہیں-کرن جوہر نے مس ورلڈ مانوشی کو اپنی فلم میں کام دینے کی تردید کردی کرن نے مانوشی کو اپنی فلم ’’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر2‘‘میں کام کرنے کی پیشکش کی ہے، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

GB News

اگلے دو سالوں میں دس ہزار گھرانوں کو بلا سود قرضے دیں گے، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ

Share Button

گلگت (چیف رپورٹررستم علی) سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بابر امان بابر نے کہاہے کہ ترقیاتی سکیموں کی نگرانی اورترقی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں مانیٹر نگ اینڈ ایویلویشن کا باقاعدہ سیل بنایا جارہا ہے جس کے تحت وزیراعلیٰ،چیف سیکرٹری اورتمام سیکرٹریز کے دفتروں میں ڈیجیٹل سکرین لگائے جائیں گے اورتمام سیکرٹریز اورمتعلقہ افسران کو موبائل فون بھی دئیے جارہے ہیں جس کے ذریعے ترقیاتی سکیموں  پر کام کی رفتار کی دفتروں سے نگرانی کی جائے گی سیاحت کے فروغ کیلئے سیاحتی مقامات کے غریب گھرانوں کو گھروں کی مرمت کیلئے بلا سود قرضے دئیے گئے تھے جو انتہائی کامیاب رہا ہے رواں سال پانچ سو مزید گھرانوں کوبلا سود قرضے دئیے جائیں گے اور اگلے دو سالوں میں دس ہزار گھرانوں کو بلا سود قرضے دیں گے۔جمعرات کے روز گلگت کے مقامی ہوٹل میں سکیلنگ اپ نیوٹریشن یونٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام،سول سوسائٹی ،متعلقہ اداروں اور میڈیا کے نمائندگان کے لئے منعقدہ ایک روز ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اس وقت محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں مانیٹرنگ کا جو نظام ہے اس کے تحت کسی شکایت پر ٹیمیں بھیجی جاتی ہے جو کئی دن لگا کر تفصیلات لے کر آتے ہیں جبکہ بعض اوقات آفیسرز دفتروں میں بیٹھ کر ایم بی (میجر فسٹ بک )لکھتے ہیں تفصیلات ٹھیکیدار لے کر آتا ہے تو اس پر دستخط کرتے ہیں اور اس طرح کام چلتاہے مگر نئے نظام کے تحت ایسا نہیں ہوگا۔انہوںنے کہا کہ اس مرتبہ کام کی مانیٹرنگ کیلئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن کا پراجیکٹ لے کر آیا ہے اس پراجیکٹ کے تحت آئی سی ٹی اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کو بنیاد بنا کر ایک سافٹ وئیر بنارہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن کاباقاعدہ سیل بنایا جارہاہے اس پراجیکٹ کے تحت تمام سیکرٹریز کے دفاتر میں ڈیش بورڈ لگارہے ہیں اور ان کو ایک ایک موبائل سیٹ بھی دے رہے ہیں ابتدائی طورپر ایک سو فون سیٹ دئیے جائیں گے اور وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کے دفاتر میں بھی ڈیجیٹل سکرین لگائیں گے جہاں سے روزانہ ترقیاتی سکیموں کی نگرانی ہوگی اور تمام سکیموں کا اپ ٹو ڈیٹ ڈیٹا مل جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد تمام متعلقہ ادارے اپنے دفاتر سے ترقیاتی کام کی نگرانی کرسکیں گے اس میں سول سوسائٹی کو بھی شامل کریں گے اپنے موبائل فون سے  سول سوسائٹی ترقیاتی سکیموں کی تصاویر اتار کر سافٹ وئیر پر اپ لوڈ کریں گے جس کو وزیراعلیٰ ،چیف سیکرٹری اور دیگر ذمہ داران اپنے دفاتر سے کام کی رفتار دیکھ سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد آفیسران کی بھی مانیٹرنگ ہوگی کیونکہ جو آفیسر سکیم دیکھنے جائے گا وہاںتصویر اتارے گا جس پر وقت اور تاریخ بھی آئے گا اس سے پتہ چلے گا کہ چیف انجینئر،ایس سی ،ایکسین ،ڈی سی اور دیگر متعلقہ افیسران کتنی مرتبہ ترقیاتی سکیم کو دیکھنے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف محکموں کو ڈرون کیمرے بھی فراہم کردئیے ہیں تاکہ جن علاقوں میں برف باری یا کسی اور وجہ سے جانے کی گنجائش نہ ہو ان علاقوں کے سکیموں کو ڈرون کے ذریعے تصاویر اتاری جائے۔انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں سرکاری تعمیرات کیلئے زمینوں کا حصول انتہائی مشکل ہے جس کی وجہ سے کام کی رفتار سست پڑ جاتی ہے کیونکہ زمینیں کم ہونے سے لوگ اپنی زمینیں سرکاری تعمیرات کیلئے دینے سے کتراتے ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ریٹ پر نظرثانی کرناپڑتا ہے اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے زمینوں کے ریٹس بڑھ گئے ہیں اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ریٹس میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوںنے کہا کہ سال 2017-18کے تحت پچاس فی صد ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی جا چکی ہے جو قابل عمل تھی جبکہ گزشتہ مالی سال کا سو فی صد بجٹ خرچ ہوا جس کی بنیاد پر گلگت بلتستان کو نو ارب اضافی ترقیاتی فنڈز ملے ۔انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کوبہت فروغ ملا ہے سی پیک کی تکمیل کے بعد سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔انہوںنے کہا کہ سیاحت کے فروغ کیلئے سیاحتی مقامات کے سو غریب گھرانوں کو بلا سود قرضے دئیے گئے تھے کہ وہ وہ اضافی کمرے بنائے ،اچھا واش روم بنائے اور سو لر پینل لگائے ،جن غریبوں کو قرضے دئیے گئے تھے انہوںنے تین سے چھ ہزار میں اپنے گھر سیاحوں کو کرایے پر دئیے اور سو فیصد قرضہ واپس بھی کرنے کے قابل ہوئے اس سے غر یب کی معیشت بھی مضبوط ہوئی اور سیاحوں کو سہولیات بھی مل گئی۔رواں سال پانچ سو مزید گھرانوں کوبلا سود قرضہ دے رہے ہیں اور اگلے دو سالوں میں دس ہزار گھرانوں کو قرضہ دیں گے تاکہ لوگوں کی معیشت مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ جن سیاحتی مقامات پر سہولیات دی گئی ہے ان کی معلومات سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیاگیا ہے تاکہ سیاحوں کو رہائش کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہو۔انہوں نے کہا کہ گلگت  بلتستان میں میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے میڈیکل کالج ،دل کا ہسپتال اور کینسر ہسپتال بنائے جارہے ہیں سی پیک کے تحت 45ارب روپے سے گلگت چترال ایکسپریس وے بنایاجارہاہے انہوںنے کہا کہ گلگت  بلتستان میں بجلی کا بہت مسئلہ ہے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ریجنل گرڈ کا نہ ہونا تھا جو اب پی ایس ڈی پی میں آگیا ہے کیونکہ ریجنل گرڈ نہ ہونے سے جس علاقے میں بجلی زیادہ تھی اس کو بجلی کی کمی والے علاقے میں نہیں دے پارہے اور اس وجہ سے سرمایہ کاری بھی نہیں آرہی ہے ریجنل گرڈ کا مسئلہ حل ہوگا تو ہمارے مسائل حل ہونگے انہوں نے کہا کہ 20میگاواٹ ہینزل پراجیکٹ پر کام ہونے والا ہے 16میگاواٹ نلتر پر کام جاری ہے جبکہ100میگاواٹ کے آئی یو بننے کے بعد ہم بجلی در آمد کرنے کے بعد قابل ہو جائیں گے انہوںنے کہا کہ 32میگاواٹ عطاء آباد پاور پراجیکٹ کی منظوری دی گئی ہے امید ہے اگلے دو سالوں میں سردیوں میں بھی بجلی وافر مقدارمیں ہوگی۔

Facebook Comments
Share Button