تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

جرمنی میں لاوڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی

Share Button

برلن: جرمنی کی مقامی عدالت نے مقامی جوڑے کی شکایت پر مسجد میں لاوڈ   اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کر  دی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ کے نواحی قصبے اوہر ایرکنشویک میں واقع مسجد میں لاوڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ مسجد سے 600 میٹر دور رہنے والے 69 سالہ ہانس یوآخم لیہمان نے اپنی بیوی کے ہمراہ مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں موقف پیش کیا گیا کہ اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے اور اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، بالخصوص جمعے کے روز لاوڈ   اسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔

مقامی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکام نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسجد میںلاوڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت دی لہذا عدالت لاوڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کرتی ہے تاہم مسجد میں اذان دینے کی اجازت کے لئے دوبارہ درخواست بھی دی جاسکتی ہے۔

عدالت نے درخواست گزار کے اس مقف کی تردید کی کہ اذان ان کی مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔

Facebook Comments
Share Button