تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

بھارت کی فوجی چھاؤنی پر بڑے حملے میں 2 بھارتی فوجی مار ے گئے ،متعدد زخمی

Share Button

سرینگر : مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی فوجی چھاؤنی پر مجاہدین کے حملے میں 2 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، یہ حملہ شہید افضل گرو کی پانچویں برسی کے ایک

روز بعد کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جموں شہر کے قریب واقع بھارتی فوجی چھاؤنی ’سنجوان‘ پر ہفتے کی صبح چار بج کر 55 منٹ پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔ حملہ آور

رہائشی کوارٹرز کی طرف سے گھسے اور فائرنگ شروع کردی۔ اس حملے کے نتیجے میں بھارتی فوج کے 2 صوبیدار مدن لال اور اشرف میر ہلاک ہوگئے جبکہ 6 فوجی اہلکار زخمی

ہوئے جن میں ایک کرنل رینک کا افسر بھی شامل ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر بھارتی فوج کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جوابی کارروائی شروع کردی ، بھارتی حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد 2 سے 3 ہے جو چھاؤنی میں

فوجیوں کے رہائشی کوارٹرز کی جانب موجود ہیں۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو حریت رہنما افضل گرو کی پانچویں برسی منائی گئی تھی، اس موقع پر پوری مقبوضہ وادی میں مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال تھی جبکہ بعض

مقامات پر کشمیریوں کی جانب سے مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

بے گناہ افضل گرو کو 9 فروری 2013 کو دلی کی تہاڑ جیل میں انتہائی خاموشی کے ساتھ پارلیمنٹ حملہ کیس میں پھانسی دی گئی تھی ۔ بھارتی حکومت کے خوف کا یہ عالم تھا

کہ اس پھانسی سے متعلق افضل گرو کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا تھاجبکہ حریت رہنما کا جسد خاکی بھی واپس نہیں کیا گیا تھا۔

Facebook Comments
Share Button