تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

تھری اور فور جی سروس

Share Button

ایس سی او نے گلگت بلتستان میں آزمائشی بنیادوں پر تھری اورفورجی کی سروس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔تمام صارفین کوتھری جی اورفورجی سروسز مفت دستیاب ہوں گی۔پی ٹی اے قواعد کے مطابق ایس کام تھری اورفورجی سم کی قیمت صرف200روپے مقرر ہے صارفین سے کہاگیا ہے کہ وہ سم خریدتے وقت2سوسے زائدرقم ہرگزادانہ کریں۔اگر فرنچائزیاریٹیلرزیادہ قیمت کامطالبہ کرے تو فوری طورپرایس سی اوہیلپ لائن پراطلاع دیں۔گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کی رفتارانتہائی سست ہے جس کی وجہ سے اہم معاملات متاثرہورہے ہیں۔ایس سی او کی جانب سے فورجی سروس کے اجرا سے عوام کا یہ اہم مسئلہ حل ہوجائے گا۔تھری اورفورجی کی سروس کے دوبارہ آغاز کا اعلان یقینا خوش آئند ہے ‘ یہ ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے اور تقریبا پورا پاکستان اس سے مستفید ہو رہا ہے لیکن گلگت بلتستان میں یہ سہولت دستیاب نہیں ہے اگرچہ یہ ٹیکنالوجی کافی دیر سے پاکستان میں آئی حالانکہ پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، بھارت حتی کہ افغانستان میں بھی تھری جی ٹیکنالوجی کافی عرصے سے دستیاب ہے’یہ ٹیکنالوجی ہمارے لیے درخشاں مستقبل کی نوید ہے اسے ایجوکیشن کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، ہیلتھ کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، اس سے دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن ہوسکے گی، بینکوں کو بہت فائدہ ہوگا اور عالمی سطح پر بڑے بڑے اداروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آیا جا سکتا ہے ۔

تھری جی اور فور جی میں جی سے مراد موبائل ٹیکنالوجی کی جنریشن ہے۔ون جی موبائل ٹیکنالوجی کی پہلی جنریشن کا آغاز 1980 میںجاپان میں ہوا۔ ون جی میں اینالاگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی اور ہوا کے ذریعے آواز کے پیغامات پہنچانے کی سہولت سب سے پہلے مہیا کی گئی۔ٹو جی ٹیکنالوجی 1991 میں فن لینڈ میں متعارف ہوئی جس میں  وائس کالز، ایس ایم ایس، تصویری پیغامات اور ایم ایم ایس کا آغاز کیا گیا۔ ٹو جی کے بعد 2.5جی آئی جس میں جی پی آر ایس اور ایج کے ذریعے موبائل فون پر انٹرنیٹ کی بہترین سپیڈ حاصل کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کیلئے یہی سروس استعمال کی جا رہی ہے۔ جی پی آر ایس سروس کے ذریعے انٹرنیٹ سپیڈ 15سے 20کلو بائیٹ فی سیکنڈ ہے۔تھری جی ٹیکنالوجی2001 میں جاپان میں متعارف ہوئی ۔ پھر یورپ اور جنوبی کوریا، جولائی 2002 میں امریکہ جبکہ جون 2003 میں تھری جی آسٹریلیا پہنچ گئی۔ آج چین، بھارت، شام، عراق، ترکی، کینیڈا ، بنگلہ دیش،کینیڈا، عراق اور افغانستان سمیت دنیا کے تقریبا 150ممالک میں تھری جی استعمال ہو رہی ہے۔دنیا بھر میں تھری جی سروسز استعمال کرنے والے صارفین ایک ارب سے زائد ہیں۔جاپان میں یہ تعداد81فیصد،امریکا میں80فیصد اور جنوبی کوریا میں 70فیصد سے زائد موبائل صارفین 3Gٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں۔تھری جی ٹیکنالوجی زیادہ تیز رفتاری سے ڈیٹا ٹرانسفر اور بہترین نیٹ ورک جیسی سروسز فراہم کرتی ہے۔ انٹرنیٹ تیز ترین براڈبینڈ سپیڈ پر فراہم کیا جا سکتا ہے۔تھری جی کی مدد سے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ لائیو ویڈیو کانفرنس کی جا سکتی ہے یعنی جو جہاں موجود ہے وہیں سے ویڈیو کانفرنس کر سکتا ہے۔ موبائل پر ٹی وی پروگرام دیکھے جا سکتے ہیں۔گیمز کھیل سکتے ہیں، میوزک سن سکتے ہیں،انٹرنیٹ کی تیز ترین سپیڈ سے مستفید ہو سکتے ہیں، لوکیشن بیسڈ سروسز مہیا کی جا سکتی ہیں،گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے ذریعے دنیا بھر کے موسم، علاقہ جات اور ٹائم کے بارے میں فوری معلومات حاصل کی جا سکتی ہے، ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دور دراز کے دیہی علاقوں میں صحت کے متعلق آگاہی اور معلومات دی جا سکتی ہیں۔اس کی مدد سے ہی سکائپ، وائبر، ٹینگو، یاہو میسنجر واٹس کالز، اور دیگر انٹرنیٹ سروسز بغیر کسی وقفے کے استعمال کی جا سکتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں تھری جی میں موبائل پر انٹرنیٹ کی سپیڈ،وائی فائی جتنی ہوتی ہے۔آج تھری جی کی مدد سے اکثر ممالک نقل وحمل، تعلیم، صحت اور مالیاتی خدمات کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔تھری جی کی کامیابی کے بعد فور جی کو متعارف کروایا گیا جو اس وقت موبائل کمیونیکیشن کیلئے سب سے تیز رفتار ٹیکنالوجی ہے۔ فور جی نہ صرف تھری جی والی سہولیات مہیا کرتی ہے وہاںاس کے ذریعے انٹرنیٹ کی تیز ترین رفتارحاصل کی جا سکتی ہے۔ فور جی میں وائس کالز، آن لائن گیمنگ اور ایچ ڈی سٹریمنگ جیسے فیچرز شامل ہیں۔فور جی اس وقت دنیا کے چند گنے چنے ممالک میں ہی دستیاب ہے اور اس کے ذریعے زیادہ تر موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیامیں 150سے ممالک تھری جی،کچھ ممالک فورجی سے مستفید ہو رہے ہیں ۔تھری جی سروسز2001 میں متعارف ہوئیں لیکن ہمارے یہاں 2009 میں تھری جی کی باتیں شروع ہوئیں ۔موبائل پر ڈیٹاٹرانسفر کی تیز ترین سہولت میسر نہ ہونے سے گلگت بلتستان  مالی طور پرنقصان ہو رہا ہے۔ملک میں تھری جی ٹیکنالوجی کی آمد سے 2020 تک مجموعی پیداوار میں 380سے 1180ارب روپے کا فائدہ متوقع ہے۔ اگلے پانچ سالوں کے دوران مختلف شعبہ جات میں روزگار کے 9لاکھ نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انٹرنیٹ کی ترقی کے ثمرات جہاں اسمارٹ فونز، تھری جی اور فور جی وغیرہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں وہیں گھروں اور دفتروں میں وائی فائی راٹرز کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے جو مختلف آلات کو اپنے وائرلیس سگنلوں کے ذریعے انٹرنیٹ سے منسلک ہونے اور ڈیٹا کا تبادلہ کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں لیکن اکثر اوقات وائی فائی راٹر کے سگنل کچھ خاص طاقتور نہیں ہوتے ۔ کہا جا رہا ہے کہ 2020 تک ملک کی نوے فیصد آبادی کو تھری جی جبکہ اسی فیصد پاکستانیوں کو فور جی ٹیکنالوجی کی سہولیات دستیاب ہونگی۔ ملک میں تھری اور فور جی ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔موبائل فونز کی سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں اس حوالے سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور موبائل انٹر نیٹ کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت جون 2016 تک 29فیصد تک پاکستانی آبادی موبائل فونز کے ذریعے ٹوجی، تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کر رہی تھی۔اب تو تھری جی اور فور جی کی کامیابی کے بعد فائیو جی سروس لانچ کرنے کی تیاریاں بھی شروع ہوگئیں ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فائیو جی سروس کے فریم ورک کے لئے پی ٹی اے کو ہدایات جاری کر دی ہیں ۔وفاقی حکومت نے فائیو جی کیلئے پالیسی ڈائریکٹو کی منظوری بھی دیدی ہے۔پی ٹی اے فریم ورک مکمل کرنے کے بعد محدود پیمانے پر فائیو جی کی آزمائشی لانچنگ لے گا۔

اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ دنیا بھر کے کونے کونے میں استعمال ہونے والی مواصلاتی ٹیکنالوجی سے گلگت بلتستان کے عوام کو محروم نہ رکھا جائے اس حوالے سے عوام کو جو خوشخبری سنائی گئی ہے اس پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔گلگت بلتستان میں تھری اور فور جی سروس نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان میں اس کی جلد فراہمی کا اہتمام کیا جائے تاکہ یہاں کے عوام بھی جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔فی زمانہ ایک خطے کو اس جدید ٹیکنالوجی سے محروم رکھنا کسی طرح بھی مناسب نہیں یہاں کہ تقریبا بیس لاکھ عوام آزمائشی بنیادوں پر تھری اورفورجی سروس دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر خوش ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید تاخیر سے کام نہیں لیا جائے گا اور یہ سروس مستقل بنیادوں پر شروع کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے  ۔

Facebook Comments
Share Button