تازہ ترین

Marquee xml rss feed

نعیم الحق نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر ضبط کرنے کی دھمکی دے دی شہباز شریف اور اس کے چمچوں کی اتنی جرات کہ وہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پر ذاتی حملے کریں۔کیا وہ جیل میں ... مزید-وزیراعظم کا سانحہ ساہیول پر وزراء متضاد بیانات پر سخت برہمی کا اظہار آئندہ بغیر تیاری میڈیا پر بیان بازی نہ کی جائے انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے کسی قسم کی معافی کی گنجائش ... مزید-5 ارب روپے قرض حسنہ کیلئے مختص کرنا خوش آئند ہے، فنانس بل میں غریب آدمی کو صبر کا پیغام دیا گیا ہے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا ... مزید-فنانس بل سے متوسط طبقہ کو ریلیف ملا ہے، عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہو گا، اپوزیشن کے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا ... مزید-صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس94 کے ضمنی الیکشن کے موقع پر سیکورٹی کو غیرمعمولی بنایا جائے، آئی جی سندھ-وزیر خزانہ اسد عمر کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ ضمنی مالیاتی (دوسری ترمیم) بل 2019 کا مکمل متن-جنوری کو ہونے والے ضمنی انتخابات کراچی کی سیاست میں نئی راہیں متعین کرے گا،مصطفی کمال پی ایس پی کسی فرد یا گروہ کا نام نہیں ہے بلکہ ایک تحریک کا نام ہے جو مظلوم و محکوموں ... مزید-ملک کا اقتصادی مستقبل کراچی کی معاشی ترقی میں مضمر ہے۔گورنر سندھ-سی پیک پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لئے مستحکم بنیاد، خطے کو منسلک کرنے میں اہم کردارادا کر رہا ہے، سی پیک تمام خطے میں امن و استحکام لانے میں ... مزید-احتساب عدالت اسلام آباد میں اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں دو مزید گواہوں کے بیانات ریکارڈ

GB News

صاف پانی ازخود کیس: شہباز شریف کی تین ہفتوں میں صاف پانی کی فراہمی اور واٹر ٹریٹمنٹ کا منصوبہ پیش کر نے کی یقین دہانی

Share Button

لاہور (آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے حکم پر وزیر اعلی پنجاب میاں شہبا زشر یف صاف پانی ازخود کیس کی سماعت کے موقعہ پر عدالت میں پیش ‘ جاتی امرا، وزیراعلی اور گورنر ہاس سے فوری رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا’ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے عدالت کو تین ہفتوں میں صاف پانی کی فراہمی اور واٹر ٹریٹمنٹ کا منصوبہ پیش کر نے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی، جمہوریت کے استحکام اور ملکی بقا کے لئے عدلیہ کی آزادی انتہائی ضروری جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواہش ہے یہی سوچ آپ کی پارٹی کی سطح پر بھی نظر آتی’چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سماعت کے دوران پنجاب پولیس کی جانب سے مقابلوں پر بھی ازخود نوٹس لیتے ہو ئے چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ وہ تمام پولیس مقابلوں کی رپورٹ عدالت میں ایک ہفتے میں پیش کریں اور بتائیں کہ مقابلوں کے دوران کتنے بندے مارے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اتوار کے روزسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں کی بندش اور صاف پانی سے متعلق لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی سماعت کے موقع پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، صوبائی وزرا اور پنجاب کی بیوروکریسی کے اعلی افسران بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جاتی امرا، گورنر ہا ئوس، وزیراعلی ہا ئوس، ماڈل ٹان، جامعہ قادسیہ، حافظ سعید کی رہائشگاہ، چوبرجی اور ایوان عدل سے آج رات تک رکاوٹیں ہٹائی جائیںچیف جسٹس نے کہا کہ رات تک رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور ہوم سیکرٹری حلف دیں کہ رات تک تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے کہا کہ رکاوٹیں دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں، وزیراعلی کو ڈرا دھمکا کر گھر میں نہ بٹھائیں اپنی فورسز کو الرٹ کریںچیف جسٹس نے چیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا میاں صاحب آپ عوامی آدمی ہیں اور عوام میں جانا ہے، عوام کو کیا پیغام دینا ہے، عوامی شخصیت بنیں اور عوام میں آئیں۔ چیف جسٹس نے وزیراعلی ہاس سمیت اہم عمارتوں کے سامنے سے بیریئرز ہٹانے کا حکم دے دیا اور شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا پولیس اہلکاروں نے کیوں آپ کو ڈرا کر رکھا ہے ؟ وزیر اعلی کو کہنا چاہیے شہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتا، میاں صاحب ہم ٹھیک کر رہے ہیں ؟۔ چیف جسٹس کے استفسار پر وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے کہاجی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں کچھ بولا تو حکم عدولی ہوجائے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ حکم عدولی نہیں کرسکتے کیونکہ آپ ایک لیڈر ہیں ، آپ اگلے مورچوں پر لڑنے والے ہیں، ہم جانتے ہیں آپ ہماری بہت عزت کرتے ہیںچیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سندھ کی طرح آپ نے بھی عدالت آکر اچھی روایت قائم کی، ہم آپ کے مشکور ہیںاس موقع پر چیف جسٹس نے وزیراعلی پنجاب سے استفسار کیا کہ ”کیوں وزیراعلی صاحب ہم ٹھیک کر رہے ہیں”جس پر شہباز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ ٹھیک کررہے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ان معاملات کا مقصد سیاست کرنا نہیں، عدلیہ اور انتظامیہ مل کر عوامی حقوق کا تحفظ کریںسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کیس کے سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ ہم یہاں ہیں اب ملک میںعام انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں گے چیف جسٹس آف پاکستان نے شہبا زشر یف کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرآپ کی پارٹی جیتی تومیراخیال ہے اگلے وزیراعظم آپ ہوں گے۔اس پر وزیر اعلی شہباز شریف نے کہا کہ آپ میری نوکری کے پیچھے کیوں پڑگئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم نے آپ کے کوئی اپنے ہی آپ کے پیچھے پڑے ہوں گے چیف جسٹس نے کہا کہ تین دفعہ میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ نے صاف شفاف الیکشن کروانے ہیںسماعت کے دوران صوبائی وزیر رانا مشہود کے روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس آف پاکستان نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعلی کیساتھ آنے والے وزرا سن لیں عدالت میں پھرتیاں نہ دکھائی جائیںصاف پانی ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تو وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تین ہفتوں میں صاف پانی کی فراہمی اور واٹر ٹریٹمنٹ کا منصوبہ پیش کردیں گے شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی، جمہوریت کے استحکام اور ملکی بقا کے لئے عدلیہ کی آزادی انتہائی ضروری جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواہش ہے یہی سوچ آپ کی پارٹی کی سطح پر بھی نظر آتی جبکہ چیف جسٹس نے پنجاب میں پولیس مقابلوں کا ازخود نوٹس لے لیاہے اورچیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ وہ تمام پولیس مقابلوں کی رپورٹ عدالت میں ایک ہفتے میں پیش کریں اور بتائیں کہ مقابلوں کے دوران کتنے بندے مارے گئے ہیںدوسر ی طر ف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وزیراعلی کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے وزیراعلی شہباز شریف کی آمد سے قبل صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ، بیگم ذکیہ شاہنواز، خواجہ احمد حسان، چیف سیکریٹری پنجاب، آئی جی اور دیگر اعلی افسران سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے شہباز شریف صبح گیارہ بجے عدالت پہنچے اور 45 منٹ تک کمرہ عدالت میں رہنے کے بعد روانہ ہوئے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز صاف پانی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دریائے راوی میں 540 ملین گندہ پانی پھینکے جانے کے انکشاف کے بعد چیف جسٹس نے وزیراعلی پنجاب کو طلب کیا تھا۔

Facebook Comments
Share Button