تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 23 افراد کے دل کے آپریشن کردیئے گئے

Share Button

اسلام آباد (چیف رپورٹر) راولپنڈی اسلام آباد کے نجی ہسپتالوں میں گلگ بلتستان سے تعلق رکھنے والے 23 افراد کے دل کے آپریشن کردیئے گئے، کئی افراد کے آپریشن چند روز بعد ہونگے، رواں سال بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث اسلام آباد لائے گئے ہیں، ان میں اکثریت کو ادویات دی جارہی ہیں، 23 افراد کے آپریشن کردیئے گئے ہیں، درجنوں افراد کے ایک ہفتہ قبل آپریشن کئے جاچکے ہیں، راولپنڈی او راسلام آباد کے ہسپتال گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے بلڈ پریشر، گردے، معدے، دمے، کینسر اور ہارٹ کے مریضوں سے بھر گئے ہیں، ادھر پولی کلینک اسلام آباد کے انچارج ڈاکٹر شریف استوری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ ناقص اشیائے خورونوش اور ناقص ادویات کی بھرمارکی وجہ سے گلگت بلتستان میں پیچیدہ امراض خاص طور پر امراض قلب میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، جب تک ناقص ادویات اور اشیائے خورونوش پر پابندی عائد نہیں ہوگی تب تک پیچیدہ امراض پر قابو نہیں پایا جاسکتا، ناقص اشیاء خورونوش سے گلگت بلتستان بھر گیا ہے، پچھے ماہ جب میں سکردو پہنچا تو وہاں ایک نمبر کی شیونگ کریم نہیں ملی، دس دکانوں میں چیک کیا، کہیں ایک نمبر کریم دستیاب نہیں تھی، یہی مثال دوسری اشیاء کی بھی ہے، انتظامیہ کو ناقص اشیائے خورونوش اور ادویات کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ تمام انٹری پوائنٹس پر دو نمبر اشیاء کے داخلے کو روکنے کیلئے چیکنگ مؤثر کی جانی چاہیے، راولپنڈی کے ہوٹل میں قیام پذیر دل کے ایک مریض نے بتایا کہ میری ساری جمع پونجی ختم ہوگئی پھر تسلی بخش علاج نہیں ہوا ہے، بازاروں میں موجود غیر معیاری اور ناقص اشیائے خورونوش کو ختم کئے بغیر عوام مطمئن نہیں ہونگے، انتظامیہ زبانی جمع خرچ کرنے کے بجائے ذمہ داروں کے خلاف بے رحم آپریشن شروع کرے۔

Facebook Comments
Share Button