تازہ ترین

Marquee xml rss feed

عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی، ایک روز بعد ہی علیحدگی ہو جانے کی پیشن گوئی بھی کر دی گئی-چیئرمین چکوال پریس کلب خواجہ بابر سلیم کی سی آر شمسی کوقومی روز نامہ سماء اسلام آباد کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد-سعداحسن قاضی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کے ناظم منتخب-تحصیل ہیڈ کوارٹر حضرو میں ہفتہ صحت میلہ کے حوالے سے کیمپ لگایا گیا،افتتاح انجینئر اعظم خان اور احسن خان نے کیا-ایم فل ڈگری پروگرامز 2018ء کے تحت داخلے کے لیے ٹیسٹ میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز 26 فروری کو ہوں گے-ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر جہانگیر کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کا اچانک معائنہ،مریضوں کے مسائل دریافت کیے-اپنا چکوال اور شان پروڈکشن کی مشترکہ پیش کش مزاحیہ ڈارمہ عقل وڈی کے مج مکمل فروری کی شب اپنا چکوال چینل پر پیش کیا جائیگا-مقدمات کی تفتیش کے مد میں 55 لاکھ روپے جاری کردیئے گئے-پٹرولنگ پولیس دلیل پور نے کار میں غیر قانونی اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر نصب کرنے پر ڈرائیور کوگرفتار کر لِیا-ڈاکٹر خادم حسین قریشی کا ٹنڈو الہیار ، ٹنڈو جام ، شاہ بھٹائی اسپتال لطیف آباد ، تعلقہ اسپتال قاسم آباد ، نوابشاہ اور ہالا میں ہیپاٹائٹس سینٹر ز کا دورہ

GB News

این اے 154: ن لیگ کو تحریک انصاف پر برتری حاصل

Share Button

لودھراں میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 154 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز نے برتری حاصل کرلی ہے۔

پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ 321 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز کے سید محمد اقبال شاہ نے 108510 ووٹ حاصل کرلیے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے علی خان ترین نے 82569 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اس طرح ن لیگ کو تحریک انصاف پر 25941 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

ضمنی انتخاب کے دوران 4 لاکھ 31 ہزار 2 ووٹرز کے لیے 338 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔

پولنگ کا عمل شفاف رکھنے کے لیے پولیس کے 2 ہزار اور پاک فوج کے 2 ہزار سے زائد جوانوں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے۔

تحریک انصاف کے علی ترین، مسلم لیگ (ن) کے سید محمد اقبال شاہ، پیپلز پارٹی کے مرزا محمد علی بیگ اور ملک اظہر سندیلہ سمیت 10 امیدوار مدمقابل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ نشست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ برس دسمبر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔

جس کے بعد الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جہانگیر ترین کو ڈی سیٹ کرتے ہوئے حلقے میں 12 فروری کو ضمنی انتخاب کرانے کا اعلان کیا تھا۔

Facebook Comments
Share Button