تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے انتخابات کے حوالے سے بڑا اعلان کر دیا سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے این اے 65 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا-وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کا جمرودخیبرایجنسی کامختصردورہ ،گرڈ سٹیشن کاافتتاح کیا-سبیکا شیخ پاکستان کی بیٹی ہے جس کے بچھڑے پر ہر آنکھ غم پر نم ہے ، حلیم عادل شیخ رہنماء پی ٹی آئی-ایم کیو ایم کے لیڈرز کبھی الگ صوبے کی بات کرتے ہیں اور کبھی معافی مانگ لیتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ سندھ ٹوڑنے کی بات کرنے والے آج خود ٹوٹ گئے ہیں، عوام ایم کیو ایم کا اصل ... مزید-خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے بلوچ علیحدگی پسند براہمداغ بگٹی نے نواز شریف کی حمایت کردی-بلوچستان سی پیک کا مرکز ہے ،پاکستان کا چین سے گہرا تعلق ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم اور مضبوط ہورہا ہے، میر عبدالقدوس بزنجو سی پیک کی تکمیل ہمارا مقصد ہے جس سے پورے ... مزید-اورنج لائن پیکیج ٹو پر بھی میٹرو ٹرین آزمائشی طور پر کامیابی سے چلا دی گئی ‘خواجہ احمد حسان تعمیر و ترقی کے سفر اور عام شہریوں کو عزت دینے کی کوششوں میں کسی کو رکاوٹ ... مزید-شہبازشریف کی ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت ،حوالدار شاہد ،شہری محمد اسلم کی شہادت پر اظہار افسوس بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے،پوری ... مزید-قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے سینیٹ کا اجلاس (کل) سہ پہر تین بجے طلب کرلیا-الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پولنگ سکیم کا مسودہ ویب سائٹ پر جاری کردیا

GB News

آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہ کیا جائے

Share Button

وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق ملنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے ہم بالکل مایوس ہو گئے ہیں اگر ہمیں پہلے ہی اس بات کا علم ہوتا تو ہم آئینی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ نہ کرتے، آئینی کمیٹی نے ڈھائی سال ضائع کر دیئے اس کی کارکرد گی بالکل صفر رہی، کہا جا رہا ہے کہ ہمیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مبصر کے طور پر نمائندگی ملے گی ہمیں ایسی نمائندگی کی کوئی ضرورت نہیں مبصر کی باتیں ہمارے ساتھ مذاق ہیں ہم مذاق کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے ساتھ تماشہ نہ لگایا جائے، ہمیں حقوق ٹکڑوں میں نہیں چاہئیں اگر حقوق دینے ہیں تو ایک ساتھ دیئے جائیں۔ہمارا متفقہ مطالبہ پانچواں آئینی صوبہ ہے، میرا موقف آئینی حقوق کے معاملے پر بہت ہی سخت ہے میں آئینی معاملے پر ہرگز خاموش نہیں رہوں گا، پانچواں آئینی صوبہ ہمارا بنیادی حق ہے اس حق سے ہرگز ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم اپنی قوم کو غلط راستہ نہیں دکھائیں گے اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے حقوق کیلئے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینا پڑا تو دیا جائے گااگر دھرنا دیا گیا تو میں سب سے پہلے ہوں گا’ جب آئینی حقوق کیلئے فاٹا کے لوگ دھرنا دے سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں دے سکتے ہیں، تمام جماعتیں اب متحد ہو جائیں جب تک سیاسی و مذہبی جماعتیں متحد نہیں ہوں گی تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے ۔

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق ملنے کی امیدیں دم توڑنے کی باتیں یقینا گلگت بلتستان کے عوام کے لیے تشویشناک ہیں کیونکہ وہ برسوں سے اس امر کے منتظر ہیں کہ انہیں ان کی شناخت دے کر مطلوبہ حقوق تفویض کر دیے جائیں گے آئینی کمیٹی کے قیام کے بعد ان کی امیدیں دوچند ہو گئی تھیں کہ شاید اب اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا اس ضمن میں انہوں نے کمیٹی کی جانب سے ناروا تاخیر کو بھی خوشدلی سے برداشت کیا انہیں بار بار یہ یقین دلایا جاتا رہا جلد کمیٹی عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرے گی اس سلسلے میں مختلف پہلو بھی سامنے لائے گئے سابق وزیراعظم کی نااہلی کے بعد کمیٹی کے کام میں تعطل در ؤیا اور یہ بتایا گیا کہ اب نئی کمیٹی تشکیل پائے گی اور اس حوالے سے پیشرفت ہو گی نئی کمیٹی کی تشکیل کے باوجود بھی حتمی سفارشات منظر عام پر نہیں آسکیں حالانکہ یہ کمیٹی ڈھائی سال تک اجلاس کرتی اور سفارشات مرتب کرتی رہی لیکن خطے کے منتظر لوگوں کے صبر کا امتحان لیا جاتا رہا حالانکہ یہ معاملہ اتنا پیچیدہ ہرگز نہیں تھا کہ اس پر اتنا وقت ضائع کیا جاتا اگر اتنا طویل عرصہ صرف کرنے کے بعد بھی معاملات جوں کے توں ہیں تو کمیٹی کی تشکیل کیوں کی گئی اور اس پر قوم اور وقت کا پیسہ کیوں برباد کیا گیا؟ کیوں یہاں کے عوام کو یہ یقین دہانیاں کرائی جاتی رہیں کہ انہیں حقوق جلد ملنے والے ہیں؟اگر یہ کمیٹی کسی نتیجہ پر پہنچنے کیلئے تشکیل نہیں دی گئی تھی تو عوام کو صاف بتا دیا جاتا کیوں ان کے جذبات سے کھیلنے کا وتیرہ اختیار کیا گیا؟

پہلے ہی اس امر کے خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں کہ کشمیری قیادت مسلسل سازشوں میں مصروف ہے اور اس سے گلگت بلتستان کے حقوق کی بات ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو گی وہ ضرور سازشیں کرے گی۔

یہ ان سازشوں ہی کا نتیجہ ہے کہ حقوق کی بات ہنوز تشنہ ہے اور اس بارے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی کیونکہ کشمیری قیادت بظاہر یہ راگ الاپتی رہی کہ اسے گلگت بلتستان کو حقوق دینے کے ضمن میں کوئی اعتراض نہیں لیکن بباطن اس کی طرف سے اندرونی و بیرونی دبائو ڈالنے کی مذموم کوششیں کی گئیں یہی وجہ ہے کہ سفارشات کے ضمن میں یہ کہا گیا کہ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی و سینیٹ میں نشستیں دینے کی بجائے مبصر کا درجہ دیا جائے گا جسے ووٹ ڈالنے کا حق بھی حاصل نہیں ہو گا اسے افسوسناک ہی کہا جا سکتا ہے کہ برسر اقتدار آنے سے قبل ہی یہ وعدہ کیا جاتا رہا تھا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے معاملے کو حل کیا جائے گا لیکن حکومت کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے لیکن تاحال حقوق فراہم نہیں کیے جا سکے یہ صورتحال عوام میں بے چینی اضطراب اور پریشانی کا باعث ہے کیوں عوام کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے احتجاج کا راستہ اختیار کریں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود سارے حقوق و اختیارات سے لطف اندوز ہونے والی کشمیری قیادت گلگت بلتستان کے حقوق کے آڑے کیوں آتی ہے۔

گلگت بلتستان کو کشمیر طرز کا سیٹ اپ کیوں نہیں دیا جا رہا آئینی حقوق خطے کے عوام کا حق ہیں جنہیں کسی کے بھی اعتراض پر التواء میں نہیں رکھا جا سکتا اس لیے ضرورت اس بات کی ہے اب یہاں کے عوام کا مزید امتحان نہ لیاجائے اور انہیں ان کے حقوق فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام نہ لیا جائے’آئینی حقوق گلگت بلتستان کے عوام کا حق ہے جن سے انہیں کسی قیمت پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔حکام بالا کو چاہیے کہ وہ حقوق کے لیے وفاق سے دوٹوک انداز میں بات کریں اورحقوق کے علاوہ کسی بھی سمجھوتے سے انکار کر دیں۔

Facebook Comments
Share Button