تازہ ترین

Marquee xml rss feed

جہانگیر ترین نے تحریک انصاف کیلئے ایک اور مشکل ترین کام کر دکھایا بلوچستان عوامی پارٹی کے تحفظات دور کرکے قومی اسمبلی میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے امیدوار ... مزید-وطن عزیز کے استحکام اور بقاء کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرنا ہو گا، شیخ آفتاب احمد-حکومت سازی، عمران خان کی زیر صدارت اہم امور پر مشاورت-نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مزارِ قائد میں داخلے سے روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت پی پی سے بلاول ہائوس کی حفاظتی دیوار گرانے کی بات کرنے کا بیان دیا تھا، بلاول ہائوس ... مزید-عمران اسماعیل سے گورنرشپ کاعہدہ ہضم نہیں ہورہااگر انہوں نے بدزبانی بند نہیں کی تواحتجاج کریں گے، نثار احمد کھوڑو-انصاف اور مساوات کے رہنما اُصولوں پر گامزن ہوکر ہی پاکستان کو دنیا کا ماڈل بنایا جاسکتا ہے ،سربراہ پاکستان سنی تحریک موجودہ نئی حکومت سے اُمید ہے کہ وہ ملک وقوم کی ترقی ... مزید-صوبائی حکومت انفرا اسٹرکچر، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی، مراد علی شاہ-پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے لاتعداد اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، ملک خرم شہزاد-نومنتخب ممبر قومی اسمبلی کو شہری پر تشدد کرنا مہنگا پڑ گیا تحریک انصاف نے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردی-لوڈشیڈنگ کے دعوے دھرے رہ گئے ․ پارلیمنٹ لاجز میں بجلی کی طویل بندش ، 282 کے قریب ارکان اسمبلی کو شدید مشکلات کا سامنا ، آئیسکو معقول وجہ بتانے سے قاصر رہا

GB News

راجہ حسین خان مقپون:ایک بے مثل عہد

Share Button

بے باک و بے خوف صحافی راجہ حسین خان مقپون کو ہم سے بچھڑے چھ سال ہو گئے لیکن ان کی یاد آج بھی لوح ذہن پر محفوظ ہے کیونکہ انہوں نے قرطاس و قلم کے ذریعے صحافت کی آبیاری کی اور اس ضمن میں کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائے’ہر انسان کو اس کا کردار اور عمل لافانی بنا دیتا ہے راجہ حسین خان مقپون اپنی ذات میں ایک ادارہ’ایک تحریک ‘ایک عہد اور تاریخ تھے ایک ایسی تحریک جو خود بھی زندہ رہتی ہے اور دوسروں کو بھی زندہ رکھتی ہے انہوں نے اپنی ہمت سے اپنی دنیا پیدا کی اپنی قابلیت کا عوام و خواص کے دل میں ایسا نقشہ بنایا کہ شاید ہی ایسا کوئی شخص کبھی اس عروج کو پہنچ سکاانکے ذہن میں دور اندیشی معاملہ فہمی اور نکتہ سنجی کی وہی وقعت تھی جو اسلاف میں تھی اور عمل و استقلال کی وہی عزیمت تھی جو اس راہ پر چلنے والوں کا شیوہ رہی ان کی محنت شاقہ کی داد حلیفوں نے بھی دی اور حریفوں نے بھی’ قلم کی عصمت انہیں بے حد عزیز تھی اسے انہوں نے تادم واپسیں داغدار نہ ہونے دیاانکے صحافیانہ تیور اور انداز بے باک رہے انکے نوک قلم کی زد میں ہر وہ حکمران رہا جس نے جمہوری قدروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے قلم پر پہرے بٹھانے کی ناحق کوشش کی۔ شخصی آزادی کی حمایت آمرانہ حکومتوں کی مخالفت جاگیرداری نظام کو جڑ سے اکھاڑنے اور قوم و ملت سے محبت ایسے اصول تھے جس پر انہوں نے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔بطور اخبار نویس’ بحیثت انسان اور ایک کپتان کے ان میں بے بہا خوبیاں تھیں’کے ٹو کویہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ اپنی خاص روایتوں کے باعث نئے دور کی اخبار نویسی کیلئے وہ سنگ میل ہوگیا۔راجہ صاحب ایک حساس قلمکارتھے۔ انہوں نے زندگی کو سطحی نظر سے نہیں بلکہ ایک قلمکار کی نگاہ سے دیکھا ۔ بدلتے ہوئے سماجی حالات پر تنقیدی نگاہ ڈالی ۔سماج کے مسائل کو شدت سے محسوس کیا۔ اسی لئے ان کی تحریروں میں انسانیت کا درد ملتا ہے۔ انہوں نے اپنے اخبار میں موجودہ سماج کی بہترین عکاسی کی ہے۔موضوعات کا تنوع، عصری حسیت، روایت کی پاسداری، روایت و جدت کے درمیان توازن، ایجازو اختصار ان کی تحریر کی اہم خصوصیات تھیں۔وہ صحافت کے متحرک اور سرگرم سپاہی تھے جو مشکل سے پیدا ہوتے ہیں۔راجہ صاحب کا ہمیشہ سے موقف رہا کہ اختلاف رائے رکھنا زندہ معاشروں کی پہچان ہے مگر کسی بھی فرد یا ادارے کا محض اسے رسوا کرنے کے لیے پیچھا کرنا مناسب عمل نہیں کہا جا سکتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں میڈیا کو محض کسی کے خلاف یا حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔حالانکہ میڈیا کا کام لوگوں کی راہنمائی کرنا اور اطلاع دیناہے مگر انہیں اپنے معاشی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہرگز نہیں ۔آپ کہا کرتے تھے میڈیا لوگوں کو آگاہ تو کر سکتا ہے انہیں سمت تو دکھا سکتا ہے مگر فیصلہ خود نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ لوگوں کو وہی سمت دکھائے جو وہ دکھانا چاہتا ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ سمت جس کا اس نے سودا طے کر رکھا ہو۔یہ بات طے ہے کہ لوگوں کی راہنمائی کا حق صرف اسی کو حاصل ہے کہ جس کا اپنا دامن مکمل صاف ہو، غلطی ہو سکتی ہے مگر غلطی کو بار بار دہرانا غلطی شمار نہیں کیا جا سکتا ہے، آزادی اظہار پر پابندیاں ضرور رہی ہیں مگر گزشتہ عشرے سے ملنے والی آزادی کو ہمارے میڈیا نے جس طرح کیش کرانے کی کوشش کی ہے وہ چند الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔راجہ صاحب کہا کرتے تھے صحافت پہلے اپنا قبلہ درست کر لے پھر دوسروں کا گریبان چاک کرنے کی کوشش کرے۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ کسی ایک چیتھڑے اخبار کا مالک بھی جامے میں نہیں سماتا، کجا کسی بڑے اخبار کا مالک کسی کے کہنے سننے میں آئے۔وہ سمجھتے تھے کہ دنیا بھر میں صحافت کو قابو میں رکھنے کے لئے بہت سے ان دیکھے حربے استعمال کئے جاتے ہیں جو آزادی صحافت پر کاری ضرب کا باعث بنتے ہیں۔ اور یہ حربے صرف ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک جہاں صحافت آزاد تصور کی جاتی ہے وہاں بھی صحافیوں کو ضمیر کی آواز کی تر جمانی کا خمیازہ اکثر بھگتنا پڑتا ہے۔صحافیوں کو دھونس دھمکیاں دینا اور ان پر حملہ کرنا ترقی پذیر ممالک کا خاصہ ہے ۔ایک دور ایسا بھی گزرا جب صحافی اپنی بات کو لکھتے اور بولتے ہوئے بہت سوچ بچار سے کام لیا کرتا تھاتاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کو آزادی ملتی رہی جس کے باعث اخبارات میں اضافے کے ساتھ ٹی وی چینل میں بھی اضافہ ہوا ۔عوام آواز کے ساتھ ان کے مسائل ، باصلاحیت عوام کی پذیرائی ، غلط کاموں کی روک تھام اور مثبت کی ترویج و اشاعت کو منظم انداز میں آگے لایا گیا ۔راجہ صاحب کاآزادی صحافت کے حوالے سے کہنا تھا کہ صحافت آزاد ہونی چاہیے لیکن بے لگام نہیں ہونی چاہیے کیونکہ صحافی کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے جس کی کاٹ تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ اگر صحافی پوری دیانت داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں تو شہریوں کے لیے اس کے مثبت اثرات ہونگے لیکن مقابلے کے رحجان اور پہلے خبر دینے کی دوڑ نے صحافیوں کو اعلی صحافتی اصولوں کو بھی مات کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ صحافی تاحال جائز مقام نہ ملنے کے باعث شدید اذیت سے دوچار ہیں۔ان کے نزدیک دنیا میںپروپیگنڈے کو فتح وشکست کی فیصلہ کن جنگ میں ایک اساسی اور بنیادی قوت کی اہمیت حاصل ہے اور جو اتنا جانتے ہیں وہ اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ پروپیگنڈے کی سواری صرف اور صرف میڈیا ہے۔پروپیگنڈے کے پلان اور منصوبوں میں جس چیز کے توسط سے رنگ آمیزی کی جاتی ہے وہ یہی ہے۔جب ہم معاشرے میں صحافت کے کردار اور اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہیں تو ہمیں لامحالہ صحافت کے حوالے سے اس کے کردار کاجائزہ بھی لینا چاہیے ۔صحافت کا جو رول رہا ہے وہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ اس سے انکار ممکن نہیں،نظریں تو چرائی جاسکتی ہیں،پہلو بھی بچایا جاسکتاہے تاہم اس صداقت سے بالکلیہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قلم سے ٹپکنے والی روشنائی اور شہید کے بدن سے ٹپکنے والا لہو ، ان دونوں میں یہ خصوصیت ہے کہ جب ان میں سے کوئی بھی ٹپکتاہے جو جم جاتاہے’آپ کہا کرتے تھے سچ بولنا جہاں صحافی کا مذہب ہونا چاہئے وہیں سچ بولنے کی چھوٹ سرکار کی طرف سے بھی ہونی چاہئے۔اسی چھوٹ کا نام پریس کی آزادی ہے جو کڑی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ان کے نزدیک خبریں بہم پہنچانا اخبارات کا اصل کام ہے جو اخبار زیادہ سے زیادہ خبریں اپنے قارئین تک پہنچاتا ہے وہ عوام میں زیادہ مقبول ہوتا ہے بشرطیکہ اس کی خبریں سچی اور قابل اعتماد ہوں خبروں کی فراہمی کے اس عمل میں ہی عام لوگوں کی اچھی یا بری تربیت بھی کی جاسکتی ہے ان کا ذوق بلند یا پست کیاجاسکتا ہے۔ ان کا اخلاق سنوارا یا بگاڑاجاسکتا ہے اخبارات جس کا امیج چاہیں بناسکتے ہیں اور جس کا امیج چاہیں بگاڑسکتے ہیں۔ اخبارات کا بنیادی کام اپنے قارئین کو اطلاع بہم پہنچانا اور پوری دنیا کے احوال سے انہیں باخبر رکھنا ہے دنیاکے کون سے حصے میں کیا واقعات ظہور پذیر ہورہے ہیں۔ کیا تبدیلیاں آرہی ہیں اور مختلف شعبوں میں کیا ترقی ہورہی ہے یہ معلومات بہتر طور پر اخبارات کے ذریعہ ہی لوگوں تک پہنچتی ہیں۔اپنے فرائض کی انجام دہی کے ایسے ہی اختیارات یا طور طریقوں سے صحافی عوام کا اخلاق اور سیاسی ذوق بناتے وبگاڑتے ہیں ۔آج راجہ حسین خان مقپون ہم میں نہیں رہے لیکن ان کا لگایا گیا پودا ”کے ٹو” کی صورت میں تناور درخت بن چکا ہے اور ان کے مشن پر پوری طرح گامزن ہے انہوں نے اپنے سٹاف کی جس انداز میں تربیت کی تھی یہی اسی کا اعجاز ہے کہ کے ٹو ایک مقبول ترین اخبار ہے۔

Facebook Comments
Share Button