تازہ ترین

Marquee xml rss feed

گاڑیوں اور بھینسوں کے بعد 11کھلاڑی بھی نیلام کیے جائیں کھلاڑی نیلام کرنے سے تین ہزار ارب GB ڈیٹا اور 20 ہزار میگا واٹ سالانہ بجلی کی بچت ہو گی جو قوم کرکٹ میچ دیکھنے میں خرچ ... مزید-پنجاب کو آ پریٹو بینک اور سوسائٹی کے ریکارڈ روم میں آگ لگائے جانے کا انکشاف آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں بلکہ پٹرولیم سے لگائی گئی تھی،جس وقت آ گ لگی اس وقت چوکیدار بھی موجود نہیں ... مزید-نواز شریف روزانہ بیگم کلثوم نواز کی قبر پر کچھ وقت گزارتے ہیں نواز شریف کو پچھتاوا ہے کہ وہ آخری وقت میں کلثوم نواز کے ساتھ نہیں تھے-پاکستان چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کو دنیا کی جدید ترین بندرگاہ بنا کر سمندری راستے سے عالمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہا ہے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ... مزید-امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے دورے کی دعوت، ویزے آسان بنانے کی کوشش جاری ہے امریکا میں پاکستان کے سفیر علی جہانگیر صدیقی کی ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور سے ... مزید-سابق صدر پرویز مشرف کی دبئی میں 4.5 ملین سے زائد کی جائیداد سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں جائیدادوں کی تفصیل سامنے آ گئی-وزیراعظم عمران خان کا آج قوم سے خطاب متوقع وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب میں اہم اعلان کریں گے-کیپٹن (ر) صفدر کو بیرون ملک بھیجنے کی تیاریاں کیپٹن (ر) صفدر کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے-ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت یقینی ہے،لیاقت خان خٹک-چترال میں چینی انجینئرزکی گاڑی کوحادثہ ، 6 افراد زخمی

GB News

صحت انشورنس کا دائرہ کار بڑھانے کی منظوری

Share Button

وزیراعلی گلگت بلتستان کی زیرصدارت گلگت بلتستان ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں تین ارب اناسی کروڑ کی لاگت سے دس منصوبوں کی جانچ کی گئی’اجلاس میںدیگر منصوبوں کے علاوہ صحت انشورنس کا دائرہ کار ہنزہ’نگر’گانچھے اورغذر تک بڑھانے کی منظوری دی گئی’غریب گھرانوں کے علاج کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے جرمنی کے اشتراک سے انتالیس کروڑ36لاکھ روپے کی لاگت سے ہیلتھ پروٹیکشن منصوبے کو منظور کیا ہے جس سے نادار وغریب گھرانوں کے صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اس حوالے سے تراسی فیصد رقم جرمن حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی حکومت گلگت بلتستان دے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ صحت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں اور اگر انسان جسمانی طور پر تندرست نہ ہو تو زندگی کی تمام نعمتیں اور آسائشیں بے معانی ہوکر رہ جاتی ہیں۔ لیکن اگر بدقسمتی سے کسی خاندان میں غربت اور بیماری یکجا ہوجائیں تو انسانوں کی بے بسی اور بیچارگی ناقابل بیان ہوجاتی ہے اور محض علاج معالجے کے لئے پیسے نہ ہونے کی بنا پر ماں کے بچے اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔ یوں تو انسان غربت میں بھی زندگی کی گاڑی کو کسی نہ کسی طرح دھکیلتا ہی رہتا ہے لیکن اگر بیماری آن پڑے تو پھر بے بسی اس کے دامن گیر ہوجاتی ہے۔غریبوں کو اسی بے بسی اور لاچارگی سے نکالنے اور انہیں زندگی کی طرف واپس لانے کے لئے حکومت نے 2016میں ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کرائی جس کے تحت خط غربت پر زندگی بسر کرنے والے لاکھوں خاندانوں کے لئے صحت کارڈ کی سہولت فراہم کی گئی۔ہیلتھ انشورنس سکیم کے تحت ایسے تمام افراد جن کی یومیہ آمدنی دو سو روپے یا اس سے کم ہو اور نادرا ڈیٹا بیس سے اس کے کوائف کی تصدیق ہو، اس صحت کارڈ سے علاج کے اہل قرار دیئے گئے ہیں۔ وہ غریب خاندان جن کا پہلے کوئی پرسان حال نہ تھا اب وہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ہیلتھ کارڈ دکھا کر نجی ہسپتالوں سے بھی اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کا علاج معالجہ مفت کرا سکتے ہیں، ہر کارڈ پر پچاس ہزار روپے سالانہ کی رقم رکھی گئی ہے تاہم خطرناک اور پیچیدہ بیماری کے علاج کی صورت میں اس رقم کی حد بڑھ کر اڑھائی لاکھ روپے تک کردی جاتی ہے۔حکومت متعلقہ انشورنس کمپنی کو پریمیم کی رقم خود ادا کرتی ہے اور کارڈ ہولڈر شخص کو ایک روپیہ بھی علاج کی مد میں نہیں دینا پڑتا۔ان خاندانوں کے افراد صحت کی سہولیات اپنے قریب ترین نجی ہسپتال سے مفت حاصل کرسکیں گے۔ بیماری کی صورت میں اب کسی غریب کو پریشان ہونے ، اپنا مال مویشی یا زمین فروخت کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ حکومت نے پاکستان صحت کارڈ کے ذریعے ہرغریب خاندان کو پورے سال کے لئے تین لاکھ روپے تک کے مفت علاج کا تحفظ فراہم کیا ہے ‘ہمارے ہاں بھی دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی طرح علاج معالجہ اور صحت کی دیکھ بھال دن بدن مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے اور صحت عامہ اور معیاری علاج معالجہ کی سہولیات کا حصول اکثر لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان میں عمومی صحت کا معیار پست ہونے کی وجوہات میں سے بنیادی وجہ عام لوگوں کا معیاری علاج معالجہ کی سہولیات تک رسائی کا نہ ہونا ہے۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ علاج معالجہ کے اخراجات کی ادائیگی کا کوئی ایسا متبادل نظام وضع کیا جائے جس کے تحت تمام لوگوں کے لیے صحت عامہ اور معیاری علاج معالجہ کی سہولیات کا حصول ضرورت کے وقت یقینی ہو سکے۔صحت کا بیمہ یا انشورنس ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے عام لوگوں تک صحت عامہ کی سہولیات کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔بنیادی طور پر صحت کا بیمہ ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ علاج معالجہ کے اخراجات کی ادائیگی اس وقت یقینی بنائی جائی جاتی ہے جس وقت کہ اسکی ضرورت ہوتی ہے۔یہ بنیادی طور پر خطرات کی پیش بندی کا ایسا نظام ہوتا ہے جس کے تحت کسی بھی بیمہ دار شخص کو اس کی ذاتی، خاندانی یا اجتماعی ضرورت کے وقت پہلے سے طے شدہ شرائط وضوابط کے مطابق اس کے علاج معالجہ کے اخراجات کی ادائیگی کی جاتی ہے۔بیمہِ صحت ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت بیمہ دار کو صحتمند اور خوشگوار زندگی گزارنے میں مدد ملتی ہے جبکہ بیمہِ زندگی کے فوائد زندگی کے بعد یعنی بیمہ دار کی موت کے بعد اس کے لواحقین کو میسر آتے ہیں۔ چنانچہ بیمہِ صحت نوعیت کے اعتبار سے بیمہِ زندگی سے بالکل مختلف ہے’بیمہ کی دوسری اقسام کی طرح بیمہِ صحت میں بھی بیمہ دار اپنی ضرورت اور اپنے وسائل کے مطابق صحت کے بیمہ کا ایک پلان منتخب کرتا ہے اور اس کے مطابق شیڈول کے تحت پریمیم کی ادائیگی کرتا ہے جس کے عوض میں بیمہ کمپنی بیمہ دار کے علاج معالجہ کے اخراجات کی طے شدہ شرایط و ضوابط کے مطابق ادائیگی کا ذمہ لیتی ہے۔یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ہر شخص کو ہر قسم کی صحت کی سہولیات کی عام طور پر ضرورت نہیں ہوتی چنانچہ بیمہِ صحت حاصل کرتے وقت غورو خوص کے ساتھ اپنی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بیمہِ صحت کے پلان کو منتخب کرنا چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ حکومت لوگوں کا بیمہ صحت کرائے’ ہیلتھ انشورنس کا اجراء ایک اہم سنگ میل ہے جو غریب افراد کو کسی بھی مالی رکاوٹ کے بغیر باوقار انداز میں علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچا ئے گا اس سے ہر طبقے تک علاج معالجہ کی معیاری اور جدید سہولیات فراہم کی جاسکیں گی اور اب وہ منزل دور نہیں جب معاشی مجبوریاں اور وسائل کی کمی کسی بھی شخص کے لئے علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گی ہیلتھ انشورنس سے نہ صرف صحت بلکہ معاشرتی لحاظ سے بھی ایک کلچرل تبدیلی آئے گی اور غریب عوام عزت و وقار کے ساتھ علاج معالجہ کی سہولیات سے استفادہ کرسکیں گے۔

Facebook Comments
Share Button