تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاک فوج نےالیکشن میں دھاندلی نہ ہونےکی یقین دہانی کروائی 2013ء میں بھی انتخابات دھاندلی کا شکارہوگئےتھے،کراچی میں ایم کیوایم اور پنجاب میں ن لیگ نےدھاندلی کی۔پی ٹی آئی ... مزید-کلثوم نوازکی بیماری ڈھونگ ہے،ہمارےبھی وہاں ذرائع ہیں،نعیم الحق کلثوم نوازتیزی سےصحتیاب ہورہی ہیں، ہماری دعائیں ان کیساتھ ہیں،دعا ہے کہ کلثوم نوازجلدازجلد صحتیاب ہوکر ... مزید-عوامی ورکرز پارٹی کا تحریک انصاف ،ن لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کرنے کا چیلنج نتخابات کے موقع پر ہی نظر ... مزید-نوازشریف کے ساتھ کیا اختلافات تھے مناسب وقت پر سچ سچ بتائوں گا ، کوئی ٹکٹ کے ساتھ آئے یا بغیر ٹکٹ کے یہاں کے عوام انہیں رد کریں گے، مجھے کشمیریوں کے قاتل راج ناتھ کو جواب ... مزید-صاف پانی سیکنڈل کیس ،نیب کا شہباز شریف کیلئے 25 سے زائد سوالات پر مشتمل سوالنامہ تیار-پشاور،مزدور کسان پارٹی کا انتخابات 2018میں قومی وطن پارٹی کے امیدواروں کی مکمل حمایت کا اعلان-پی ٹی آئی ایک پاکستان کا نعرہ لگا رہی ہے اور پارٹی ٹکٹ امیروں اور سرمایہ داروں میں تقسیم کئے، آفتاب شیر پائو ہم نے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میرٹ پر کی ہے اور اہل امیدواروں ... مزید-متحدہ مجلس عمل پی کے 79 کے زیر اہتمام علماء کنونشن کل ہو گا،ملک نوشاد خان-تحریک انصاف سمیت دیگرسیاسی جماعتیں ایم ایم اے کے پانچ سالہ دوراقتدارکامقابلہ نہیں کرسکتی ہیں،حاجی غلام علی-آنے والے الیکشن انتہائی اہم اور اس ملک کی تقدیر کے لئے فیصلہ کن ہیں، اسد قیصر

GB News

منسٹری آف کشمیر آفیئرکو مکمل طور پر ختم کیا جائے، امجد ایڈوکیٹ

Share Button

چلاس(بیورورپورٹ)پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ نے چلاس میں میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسلہ یہاں کے لوگوں کا ایک بیانیہ پر متفق نہ ہونا ہے ،جب تک ہم ایک بیانیہ پر متفق ہوکر حقوق کیلئے جدوجہد نہیں کریں گے اُس وقت تک کشمیر افیئر کا ایک سیکشن آفیسر ہمارے اُوپر حکومت کرتا رہے گا ۔انہوںنے کہا کہ منسٹری آف کشمیر آفیئرکو مکمل طور پر ختم کیا جائے،70 سالوں سے کشمیر افیئر نے گلگت بلتستان اور کشمیر میں کرپشن کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے ،مسلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیر آفیئر کا رول صفر ہے لہذا کونسل اور منسٹری آف کشمیر آفیئر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کے راہ میں کشمیر کی پولیٹیکل لیڈر شپ رکاوٹ ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر مسلہ کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہیں دیا جاسکتا ہے تو حکومت پاکستان کو چاہے کہ وہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے جموں کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیں ،کیونکہ ہمارے مسلے کا حل جموں کشمیر طرز کا سیٹ اپ ہے ،اس نظام کے علاوہ گلگت بلتستان کے لوگ اپنے حقوق کا تحفظ نہیں کرسکتے ہیں ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سرتاج عزیز کی سربراہاہی میں بننے والی کمیٹی ایک ٹوپی ڈرامہ ہے ،جی بی کو کوئی پیکیج نہیں دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کونسل کا خاتمہ ایک احسن اقدام ہے ،کونسل کے خاتمے سے کچھ اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل ہونگے،لیکن کونسل کے خاتمہ سے ایک منفی اثر یہ بھی پڑے گا کہ زیادہ تر اختیارات کشمیر افیئر کے پاس جائینگے ،اب اس کو میٹرلائز کرنا حکومت کی زمہ داری ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کو چھوٹے چھوٹے پیکیجز دینے کی بجائے قومی اسمبلی اور سنیٹ میں نمائندگی دیں اور ہمیں پاکستان کا شہری بنائیں ،پاکستان میں جو نظام رائج ہے وہ گلگت بلتستان کے اندر بھی رائج کیا جائے ۔ صوبائی صدر پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ڈولپمنٹ کے نام پر کرپشن ہورہی ہے ،نواز شریف اور شہباز شریف پیٹرن ہیں ۔گلگت بلتستان میں ترقیاتی بجٹ کا بڑاحصہ مخصوص لوگوں کے جیب میں جاتا ہے ۔جی بی میں کرپشن کا آغاز پی سی ون اور اشتہار سے ہوتا ہے تمام ٹھیکے حفیظ الرحمن کے مخصوس ٹھکیداروں کے پاس ہیں اور انہی ٹھکیداروں کو کروڑںکی پے منٹ ہوتی ہے ،سارا پیسہ وزیر اعلی کے گھر جاتا ہے ، ٥ مرحلے کے مکان میں رہنے والا حفیظ الرحمن نے کرپشن کے پیسوں سے کنو داس ،پڑی اور اسلام آباد میں زمین خریدی ہے اور جگہ جگہ جائیدادیں بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اس وقت حکومت شمس میر کی ہے ،وزیر اعلی نے سلکٹیڈ لوگوں کو اپنے کیچن کبینٹ کا حصہ بنایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے خلاف عدم عتماد کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے ،عدم اعتماد کا مسلہ پیپلز پارٹی کا نہیں ہے بلکہ یہ مسلہ مسلم لیگ ن میں موجود ناراض لوگوں کا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب ایک ایلکٹیڈ ممبر کے سامنے نان ایلکٹیڈ بندہ ڈائریکشن اور پیرازئیڈ کررہا ہوتا ہے تو وہ عدم اعتماد کا ماحول پیدا کررہا ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں امن اپوزیشن کیوجہ سے ہے،ہم نے موجودہ حکومت کے خلاف اب تک جو باتیں کی ہیں وہ سیاسی کی ہیں ،فرقہ واریت نہیں کی ہے۔جب ہم حکومت میں تھے تو یہ لوگ سیاست نہیں فرقہ واریت کررہے تھے ،اگر آج ہم فرقہ وارانہ جذبات اُبھارتے تو امن قائم نہ ہوتا ،یہ اپوزیشن میں بیٹھ کر صبر کرنا ہوتا ہے ۔حکومت میں بیٹھ کر صبر کرنا کوئی کمال نہیں ہوتا ہے ۔آج ہم اپوزیشن میں ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ہماری وجہ سے امن ہے ۔انہوں نے کہا کہ داریل تانگیر اور گوپس یاسین کو دو الگ الگ اضلاع بننے چاہئیں ۔

 

Facebook Comments
Share Button