تازہ ترین

Marquee xml rss feed

لاہور، جو لوگ محض ذاتی مفادات کی خاطر اپنی وفاداریاں بدل کر ہر موسم میں لوٹا کریسی کامظاہرہ کرتے ہیں،حافظ محمد ادریس وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ، اگر عوام میں نچلی سطح ... مزید-کوئٹہ،نیشنل پارٹی کے سربراہ وسینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور 2018 کا اعلان کر دیا تمام ریاستی اداروں کو پارلیمنٹ کے موثر کنٹرول میں لایا جائے ... مزید-کوئٹہ،تحریک انصاف عوام کے دلوں کی دھڑکن بن کی چکی، فیصل خان کاکڑ عوام کے ووٹوں کی طاقت سے کامیاب ہو کر ایوان میں پہنچ کر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرینگے، پی بی25 سے ... مزید-کوئٹہ ،عید الفطر کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد عام انتخابات کی سر گرمیاں شروع پشتونخوامیپ بلوچستان نیشنل پارٹی ،نیشنل پارٹی ، ایم ایم اے ، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی ... مزید-اکابرین کے نقش قدم پر چل کرملکی آئین کے تحت پشتونوں اور دیگر اقوام کے حقوق کے لئے اپنا کردار ادا کرینگے،انجینئر زمرک خان اچکزئی-ژوب کے عوام کے حقوق کے لئے ہر دور کا مقابلہ کیا ہے ،شیخ جعفر مندوخیل-پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر بلوچستان سے احساس محرومی ختم کریگی،وحید بلوچ-قلات اور گرد و نواح میں تیز ہوائوں اور گرد و غبار سے معمولات زندگی متاثر-پچیس جولائی کو انشاء اللہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جیت ہوگی،سردار محمد عمرگورگیج-انتخابات میں ان سیاسی قو توںکا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے جنہوں نے اقتدارمیں آکر بلوچ کاز کو نقصان پہنچایا ،میر اسداللہ بلوچ عوام کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کو پایہ تکمیل تک ... مزید

GB News

برداشت’روداری اور تحمل کا فقدان

Share Button

اسے بدقسمتی ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ملک میںعدم برداشت کے رویے فروغ پا رہے ہیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا چلن غائب ہو گیا ہے’دوسروں کی تضحیک کر کے اپنی انائوں کو تسکین پہنچائی جاتی ہے گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم نواز شریف پرایک مذہبی تقریب میںجوتا پھینکا گیا قبل ازیں وزیرداخلہ احسن اقبال پر جوتا اچھالنے کی سعی کی گئی پھر خواجہ آصف پرسیاہی پھینکی گئی عمران خان پر بھی جوتا پھینکنے کی ناکام کوشش کی گئی یہ وہ صورتحال ہے جس کی مذمت تو کی گئی ہے لیکن کہیں نہ کہیں اس پر خوشی و مسرت کے شادیانے بھی بجائے گئے ‘ جوتا پھینکنے کی روایت کا آغاز2008 میں ہواجب ایک مصری صحافی منتظر الزیدی نے بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس وقت کے امریکی صدر جارج بش پر دونوں جوتے پھینکے ،تاہم صدر بش جھکائی دے کر بچ گئے ۔صدر بش نے بعد ازاں مذاق میں کہاجوتے کا نمبر دس تھا۔میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہوتی ہے وہاں بے چینی ، شدت پسندی ، جارحانہ پن ، غصہ، تشدد، لاقانونیت اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں، معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلی صفت معاشرے سے عنقا ہو چکی ہے ۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری ، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے۔عدم رواداری کے اس بڑھتے ہوئے خوفناک رجحان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں تشدد کے ایسے ایسے لرزہ خیز واقعات پیش آ رہے ہیں کہ جن کا ذکر کرتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیا ہم معاشرتی طور پر اس حد تک گر چکے ہیں کہ پڑھے لکھے افراد بھی ایسی وارداتوں کا ارتکاب کرنے لگے ہیں ۔مذہب انسان کو اخلاق کا درس دیتا ہے، اس کے اندر ایسے اعلی اوصاف پیدا کرتا ہے کہ وہ بہترین انسان بنے اور معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو ، مگر ہمارے معاشرے میں مذہب کو ہی سب سے زیادہ جارحیت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ، مختلف مکتبہ فکر کے اختلافات کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ مختلف فرقے کے افراد ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہیں ۔ اب تک ہزاروں افراد فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ کچھ مذہبی گروہ مذہب کو بالکل ہی مختلف انداز میں استعمال کر رہے ہیں ،اس کے لئے وہ مسلح جد وجہد کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام تو میانہ روی اور رواداری کا درس دیتا ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے، حتی کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو معاف کر دینے کو افضل قرار دیا گیا ہے ، اسی طرح دوسرے مذاہب چاہے وہ الہامی ہیں یا انسانوں کے بنائے ہوئے سب میں دوسروں کو برداشت کرنے کا درس دیا گیا ہے ، مگرمذہب کی اصل روح کو سمجھنے کی بجائے اس کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کی جاتی ہے، یوں مذہب سوسائٹی کی اصلاح کی بجائے لڑائی جھگڑے اور فساد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان وہی ہے جس کا دل اسلام کی حقانیت تسلیم کر چکا ہو جب معاملہ دل کا ہے تو بات محبت سے دل میں اتاری جا سکتی ہے ناکہ زبردستی ۔معاشرے میں عدم برداشت کے رجحان میں اضافے کی بڑی وجہ معاشرتی مسائل ہیں جن کی وجہ سے عام آدمی بری طرح پس رہا ہے جیسے مہنگائی ، بیروزگاری، عدم تحفظ، انصاف کی عدم فراہمی وغیرہ۔ہماری سوسائٹی میں جہالت اور تنگ نظری بہت زیادہ ہے، علم کا پھیلائو نہیں ہے ، جہالت کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں وہی ٹھیک ہے یعنی ہم مختلف آراء جاننے کی بجائے اسی کو ٹھیک سمجھتے ہیں جو ہمارے مطابق ٹھیک ہوتا ہے،ہمیں اپنے معاشرے میں سائنٹیفک نالج بڑھانا ہو گا تا کہ حقیقت پسندانہ سوچ بڑھے جس سے معاشرے میں توازن پید ا ہو،آرٹ اور کلچر کی ترویج کے لئے کام کرنا ہو گا اس سے عام آدمی کا ویژن وسیع ہو گا ، جس کا خاطر خواہ اثر معاشرے پر پڑے گا اور جارحیت ، غصہ اور تشدد میں کمی ہو گی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے کلچر کی ترویج ہو گی۔ہم ہر چیز کو اتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ زندگی موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں،یوں ہر فرد ٹنشن کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ یہ ٹینشن اس کی زندگی کے دیگر معاملات میں بھی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح معاشرتی ناہمواریاں بھی عدم برداشت کی بہت بڑی وجہ ہیں، جو لوگ وسائل پر قابض ہیں ان کے خلاف بہت زیادہ غصہ پایا جاتا ہے، عام آدمی اسے اپنے ساتھ ناانصافی تصور کرتا ہے۔سیاست کو ہی لے لیں، اپوزیشن حکومت کو گرانے کی کوشش کرتی ہے جبکہ حکومت اپوزیشن کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی، میڈیا بھی ایسی ہی خبروں کو اچھالتا ہے، اگر کوئی سیاستدان کشادہ دلی سے دوسرے کا موقف تسلیم کر لیتا ہے تو اسے بزدل قرار دیا جاتا ہے، یوں کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔کسی بھی فورم پر رواداری اور دوسروں کو برداشت کرنے کی بات نہیں ہوتی ، اگر ہر فورم پر چاہے وہ مذہبی ہو ، معاشرتی ہو یا پھر سیاسی، رواداری کی بات کی جائے تو اس سے معاشرے میں پایا جانا والا یہ تنائو، غصہ ، تشدد خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گا۔معاشرے میں افراد کی اکثریت اپنا موقف درست تسلیم کئے جانے پر مصر ہے چاہے وہ صحیح ہے یا غلط ، اس کے لئے انہوں نے طرح طرح کے دلائل گھڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح معاشرے میں عدم تحفظ بہت زیادہ پایا جاتا ہے کوئی فرد جو گھر سے نکلتا ہے اسے یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ گھر کو واپس لوٹے گا بھی کہ نہیں۔ عدم برداشت کی ایک وجہ معاشی بدحالی بھی ہے ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے وسیع مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بھی افراد کی اکثریت ذہنی دبائو میں رہتی ہے جس سے انسانی رویے میں غصہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر چیز کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کی قوت خرید کم ہو رہی ہے۔یہ غصہ پورے معاشرے میں ہے اور جس کا اظہار کبھی احتجاج کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں ، جرائم بڑھ رہے ہیں ، فرقہ واریت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام رواداری کا درس دیتا ہے،اس لیے مذہبی و سماجی رہنما اس حوالے سے خاص طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ عوام میں پایا جانے والا عدم تحفظ کا احساس ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اس سے عوام کو ذہنی سکون ملے گا۔ اس سے بھی عوام میں پایا جانے والا خوف یا غصہ کم ہو گا ۔انسانی معاشرہ ایک گلدستے کی طرح ہے جس طرح گلدستے میں مختلف رنگ کے پھول اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح انسانی معاشرہ بھی مختلف الخیال، مختلف المذاہب اور مختلف النسل کے افراد سے مل کر ترتیب پاتا ہے اور اس کا یہی تنوع اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتا ہے ، اگر کسی جگہ ایک ہی نسل اور مذہب کے لوگ رہتے ہوں تو اسے ہم معاشرتی گروہ تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے کلیتا معاشرے کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔کسی غالب اکثریت کی وجہ سے ایسے معاشرے کو ایک خاص قسم سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ان معاشروں میں دوسرے مکتبہ فکر کے لوگ موجود نہیں ہیں’ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ برداشت و روداری کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس بنیادوں پرلائحہ عمل مرتب کیا جائے ۔

Facebook Comments
Share Button