تازہ ترین

Marquee xml rss feed

گاڑیوں اور بھینسوں کے بعد 11کھلاڑی بھی نیلام کیے جائیں کھلاڑی نیلام کرنے سے تین ہزار ارب GB ڈیٹا اور 20 ہزار میگا واٹ سالانہ بجلی کی بچت ہو گی جو قوم کرکٹ میچ دیکھنے میں خرچ ... مزید-پنجاب کو آ پریٹو بینک اور سوسائٹی کے ریکارڈ روم میں آگ لگائے جانے کا انکشاف آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں بلکہ پٹرولیم سے لگائی گئی تھی،جس وقت آ گ لگی اس وقت چوکیدار بھی موجود نہیں ... مزید-نواز شریف روزانہ بیگم کلثوم نواز کی قبر پر کچھ وقت گزارتے ہیں نواز شریف کو پچھتاوا ہے کہ وہ آخری وقت میں کلثوم نواز کے ساتھ نہیں تھے-پاکستان چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کو دنیا کی جدید ترین بندرگاہ بنا کر سمندری راستے سے عالمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہا ہے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ... مزید-امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے دورے کی دعوت، ویزے آسان بنانے کی کوشش جاری ہے امریکا میں پاکستان کے سفیر علی جہانگیر صدیقی کی ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور سے ... مزید-سابق صدر پرویز مشرف کی دبئی میں 4.5 ملین سے زائد کی جائیداد سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں جائیدادوں کی تفصیل سامنے آ گئی-وزیراعظم عمران خان کا آج قوم سے خطاب متوقع وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب میں اہم اعلان کریں گے-کیپٹن (ر) صفدر کو بیرون ملک بھیجنے کی تیاریاں کیپٹن (ر) صفدر کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے-ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت یقینی ہے،لیاقت خان خٹک-چترال میں چینی انجینئرزکی گاڑی کوحادثہ ، 6 افراد زخمی

GB News

میر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈوی3سال کیلئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب

Share Button

اسلام آباد (شبیرحسین+جمیل نگری) سینیٹ میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں اپوزیشن اتحاد نے حکمران اتحاد کو شکست دیدی۔ پی پی پی ، پی ٹی آئی اور آزاد ارکان پرمشتمل اپوزیشن اتحاد کے حمایت یافتہ امیدوار میر صادق سنجرانی57 ووٹ لیکر چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈوی والا54ووٹ لیکر3سال کیلئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے، انکے مقابلے میں حکمران اتحاد کے چیئرمین کے امیدوار راجہ ظفر الحق نے 46اور ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار عثمان خان کاکڑ44ووٹ حاصل کر سکے، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں 103اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے عمل کے دوران 98 سینیٹرز نے ووٹ پو ل کئے ، تمام ووٹ منظور ، کوئی مسترد نہ ہوا، ایوان بالا میں انتخاب مکمل ہونے کے بعد گیلری میں بیٹھے مہمانوں کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی ،چیئرمین سینیٹ کے حلف لینے کے دوران ایوان نعروں سے گونجتا رہا ،نومنتخب چیئرمین سینیٹ نے نعرے بازی کرنے والے کارکنوں کو ایوان سے نکلوا دیا۔دوسری جانب سینیٹ کے52نومنتخب ارکان نے حلف بھی اٹھایا جب کہ اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث حلف نہ اٹھا سکے’ نہال ہاشمی کی خالی نشست پر نومنتخب سینیٹر اسد اشرف نے بھی باقی سینیٹرز کے ہمراہ حلف اٹھایا،52سینیٹرز 6سال کیلئے ملک کے ایوان بالا کے رکن بنے جب کہ نہال ہاشمی کی نشست پر ضمنی الیکشن میں منتخب ڈاکٹر اسد اشرف 3 سال کے لیے منتخب ہوئے ۔پیر کو سینٹ اجلاس میں تلاوت کلام پاک کے بعد سیکرٹری سینٹ امجد پرویز نے نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز کو مبارکباد دی اور ایوان میں ان کو خوش آمدید کہا۔ سیکرٹری سینٹ نے نومنتخب سینیٹرز کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے انتخاب کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد سیکرٹری سینٹ نے صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے نامزد پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر کو اجلاس کی صدارت سنبھالنے اور نئے سینیٹرز سے حلف لینے کی درخواست کی۔ پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے نومنتخب سینیٹرز کو مبارکباد دی اور ایوان میں خوش آمدید کہا۔ سردار یعقوب ناصر نے نومنتخب سینیٹرز کو حلف اور چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے طریقہ کار کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کیا جس کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے نومنتخب سینیٹرز سے حلف لیا۔ اس موقع پر نومنتخب 53 سینیٹرز میں سے 52نے حلف اٹھایا تاہم مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب سینیٹر اسحاق ڈاربیرون ملک ہونے کی وجہ سے حلف نہ اٹھا سکے۔ نہال ہاشمی کی خالی نشست پرضمنی الیکشن میں نومنتخب سینیٹر اسد اشرف نے بھی باقی سینیٹرز کے ہمراہ حلف اٹھایا ۔ حلف اٹھانے کے بعد 52سینیٹرز نے ایک ایک کرکے رول آف ممبر پر دستخط کئے۔ اسحاق ڈار سمیت 52 سینیٹرز 6 سال کے لیے ملک کے ایوان بالا کے رکن بن گئے ہیں جب کہ ڈاکٹر اسد اشرف 3 سال کے لیے منتخب ہوئے ۔اس موقع پر پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر چیئرمین وڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور ان کی جانچ پڑتال کیلئے سینیٹ کا اجلاس 4 بجے تک ملتوی کردیا ۔ بعدازاں سینیٹ کا اجلاس 4بجے شروع ہوا تو پہلے چیئرمین سینیٹ کیلئے پولنگ ہوئی ۔ پریزائیڈنگ آفیسر یعقوب ناصر نے سینیٹر ز کو ووٹ پول کرنے کا طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ بوتھ میں کیمرہ اور موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی ، بیلٹ پیپر پر ماسوائے مہر کے کچھ اور تحریر کرنے سے ووٹ مسترد کردیا جائے گا ۔ ایوان میں بیلٹ پیپر لہرانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔پریزائیڈنگ آفیسر یعقوب ناصر نے سینیٹ کے دونوں امیدواران اور ان کے تجویز کنندگان کے نام ایوان کو بتائے ۔ مسلم لیگ (ن) اور حکمران اتحادی جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کیلئے راجہ ظفر الحق امیدوار تھے جبکہ ان کے تجویز کنندہ میں میر حاصل خان بزنجو ، میر کبیر، عثمان خان کاکڑ ، پرویز رشید اور مولانا عبدالغفور حیدری تھے جبکہ پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف اور بلوچستان سے آزاد سینیٹرز کے امیدوار صادق سنجرانی تھے ۔صادق سنجرانی کے نامزدگی پیپرز میں تجویز کنندہ میں اسلام الدین شیخ اور اعظم خان سواتی تھے ۔سیکرٹری سینیٹ امجد پرویز کی جانب سے ووٹ کاسٹ کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کرنے کے بعد حروف تہجی کے لحاظ سے سینیٹرز کے نام پکارے گئے جس پر سینیٹرز نے خفیہ رائے شماری کے تحت اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔سینیٹ کے مجموعی طور پر 104ارکان میں سے 103نے پولنگ میں حصہ لیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب سینیٹر اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پولنگ میں حصہ نہ لے سکے ۔پولنگ مکمل ہونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر یعقوب ناصر نے چیئرمین سینیٹ کیلئے دونوں امیدواروں سے ایک ایک نام پولنگ ایجنٹ کیلئے مانگا تاکہ ان کے سامنے گنتی ہو سکے ۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینیٹر جاوید عباسی جبکہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سینیٹر فاروق ایچ نائیک کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا جن کے سامنے گنتی کا عمل مکمل ہوا ۔ نتائج کا اعلان کرتے ہوئے پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے کہا کہ 103ووٹ پول ہوئے جن میں سے کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا ۔ مسلم لیگ (ن) اور حکمران اتحادی جماعتوں کے امیدوار راجہ ظفر الحق نے 46 ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی نے 57ووٹ حاصل کر کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں ۔ اس موقع پر گیلری میں موجود مہمانوں کی جانب سے” ایک زرداری سب پہ بھاری ”،’جئے بھٹو”اگلی باری پھر زرداری’کے نعرے لگائے گئے جبکہ گیلری میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے حق میں بھی شدید نعرے بازی کی گئی ۔ اس موقع پر پریزائیڈنگ آفیسر یعقوب ناصر ایوان میں نعرے بازی پر شدید برہم ہوگئے اور کامیاب امیدوار میر صادق سنجرانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سنجرانی صاحب مبارکبادیں بعد میں لے لینا پہلے حلف لے لو ۔ پریزائیڈنگ آفیسر یعقوب ناصر نے نومنتخب چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی سے حلف لینے کے بعد ایوان کی صدارت ان کے حوالے کی جس کے بعد چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے الیکشن کا اعلان کیا۔ نو منتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم ما نڈوی والا نے کہا ہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی حکومت اور مخالفین کی غلط فہمی ہے جب مخالفین ہارتے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کی ہار کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے ۔ پیر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے بعد سینیٹرز سلیم مائونڈوی والا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی ساری غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے مقابلے میں حکومت کا امیدوار ہی ایسا تھا جس کو شکست ہونا تھی اس لئے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریا ۔ حکومت نے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کی سیٹیں کھو دی ہیں اور سینٹ کا ایوان بھی حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ، آئندہ انتخابات پر اس کے انتہائی گہرے اثرات مرتب ہونگے ۔میں نے سینیٹر اور ڈپٹی چیئرمین بننے کے لئے کوئی پیسہ نہیں لگایا ، جب ہمارے مخالفین ہارتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے پیچھے ہے۔

Facebook Comments
Share Button