تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلیٰ پنجاب کا گجرات میں طالبات پر تیزاب پھینکنے کے واقعہ کا نوٹس،ملزمان کی گرفتاری کا حکم-وزیراعلیٰ پنجاب سے دانش سکولز سے فارغ التحصیل ہوکراعلی تعلیمی اداروں میںتعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی ملاقات دانش سکول پر تنقید کرنے والے سیاسی لیڈروںنے اپنے ... مزید-سپریم کورٹ کی سفارش پر قائم کمیٹی نے سندھ اور بلوچستان کے اکیس غیر معیاری نجی اور سرکاری لاء کالجز بند کرنے کی سفارش کر دی-چیف جسٹس نے پنجاب میں 600 سے زائد بچوں کے اغوا کی میڈیا رپورٹس کا نوٹس لے لیا-وزیراعلیٰ پنجاب کا پیپلز پارٹی کے رہنما جہانگیر بدر مرحوم کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت-وزیراعلیٰ پنجاب سے سندھ کے شیرازی برادران کی ملاقات شیرازی برادران کا عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے بے مثال اقدامات پر شہبازشریف کو خراج تحسین عوام کی خدمت کا ... مزید-فیس بک کے لوگو کا رنگ نیلا کیوں ہے،ایسا انکشاف جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا-لاہور، ملک کے وزیر اعظم عمران خان ہونگے،اعجازاحمد چوہدری نواز شریف اور زرداری ٹولہ نے اقتدار میں آ کر صرف عوام کا خون چونسا ہے اور اپنی جیبیں بھری ہے ملک کے تباہی کے ... مزید-پشاور، بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے پر صوبائی کابینہ کو بریفننگ واحد منصوبہ ہے جو قلیل عرصے اور کم لاگت سے مکمل ہوگا،پرویز خٹک مجموعی لاگت میں بسوں کی خریداری، اراضی، کمرشل ... مزید-عوام کی عدم دلچسپی کے باعث سندھ گیمز کی افتتاحی تقریب نا کامی کا شکار ہوئی ہے ، سید صفدر حسین شاہ

GB News

سلامتی کونسل سے عالم اسلام کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے، سراج الحق

Share Button

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکومت کی طرف سے 11 اپریل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا متنازع آرڈی نینس ” انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیمی آرڈی نینس نمبر 2018-2 ء جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں جماعت الدعوہ پر پابندی سے متعلق ہے کے خلاف نامنظوری کا نوٹس سینیٹ میں جمع کرادیا ۔ نوٹس پر ان کے ساتھ سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی دستخط کیے ہیں ۔بعد ازاں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سلامتی کونسل سے عالم اسلام کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔یہ کفن چوروں کا عالمی ٹولہ اور امریکہ کی کٹھ پتلی ہے ، جبکہ حکومت آرڈی نینس کے ذریعے قانون میں ترمیم کے ذریعے اپنے ملک کو اقوام متحدہ کی غلامی میں دے رہی ہے ۔ آرڈی نینس میں ترمیم کے حکومت نے جو اغراض و مقاصد بتائے ہیں ، وہ اپنی عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ اپنی عدالتوں کو سلامتی کونسل کا پابند بنانا عدالتوں کی بے توقیری ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر صاحب کہتے ہیں کہ عدالتیں ثبوت مانگتی ہیں اور بعض اوقات ہمارے پاس ثبوت نہیں ہوتے جس کی وجہ سے عدالتیں ملزموں کو رہا کردیتی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بغیر ثبوت کے کونسا قانون اجازت دیتاہے کہ لوگو ں کو پابند سلاسل کردیاجائے۔

Facebook Comments
Share Button