تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اںڈے برآمد ہونے کے بعد سیکیورٹی اہلکار چوکنے ہوگئے رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اہلکارہر بار ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے پاس انڈے تو نہیں ہیں-گرفتار رکن کو پنجاب اسمبلی میں لانے کیلئے شہبازشریف نے رولز میں ترمیم نہیں کی تھی‘ چودھری پرویزالٰہی سب سے زیادہ فلاحی کام ہمارے دور میں ہوئے‘باباجی خالد محمود مکی ... مزید-یکم جنوری سے تمام کمرشل ڈرائیورز کی سکریننگ اور مرحلہ وار خصوصی تربیتی کورسز کرانے کا فیصلہ 6ماہ میں ہر ڈرائیور کو اس عمل سے گزارا جائے ،آگاہی مہم جاری رکھی جائے‘عبدالعلیم ... مزید-آئی ایم ایف کی شرائط کے انتظار سے پہلے ہی معیشت کی بہتری کیلئے ازخود اقدامات کئے ‘ اسد عمر اصلاحات کے معاملے پر آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان اختلافات ہیں ،اقدامات ... مزید-سعودی عرب سے امداد حاصل کرنے پر پاکستان کو شرمندگی نہیں ہونی چاہیئے ہمیں شرم کرنے کا کہنے کی بجائے مغربی ملکوں کے رہنماوں کو شرم آنی چاہیے جو جمہوریت اور آزادی کی بات ... مزید-لندن میں پاکستانی تاجر کا کروڑوں کا کاروبار جل کر راکھ نسل پرستوں نے پاکستانی تاجر کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں جلا ڈالیں-احتساب عدالت نے شوکت عزیز کیخلاف دائر ریفرنس میں شریک ملزم عارف علاؤالدین کو عدم حاضری کی بناء پر اشتہاری قرار دیدیا-جنگی حکمت عملی میں ہمیں ہائبرڈوار فئیر اور سائبر وار فئیر کے خلاف چوکنا رہنا ہے ،ْ نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی جیو اسٹریٹجک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے قومی ... مزید-ْ پروٹوکول میں جو بات بتائی گئی اس میں کوئی بھی چیز یہاں موجود نہیں ،ْ چیف جسٹس ثاقب نثار-امریکہ نے پاکستان کو باعث تشویش ممالک پر عائد معاشی پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا گذشتہ روز امریکہ نے پاکستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں ... مزید

GB News

نواز شریف جہانگیر ترین انتخابی سیاست سے تاحیات آئوٹ

Share Button

اسلام آباد (آن لائن) نواز شریف جہانگیر ترین انتخابی سیاست سے تاحیات آئوٹ ہو گئے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کی تشریح سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کو تاحیاتقرار دے دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے اور جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی برقرار رہے گی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے مذکورہ کیس کی 10 سماعتوں کے بعد 14 فروری 2018 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بینچ میں شامل 4 ججز عدالت کے کمرہ نمبر 1 میں موجود تھے، جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے، عدالتی فیصلے میں کہا گہا کہ جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے اور جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی رہے گی، عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ آئین کے تحت تاحیات پابندی امتیازی، کسی سے زیادتی یا غیر معقول نہیں بلکہ امیدوار کی اہلیت پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پابندی عوامی ضرورت اور مفاد میں ہے،عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف اس لیے ہے کہ دیانتدار، سچے، قابل اعتبار اور دانا افراد عوامی نمائندے بنیں، عدالتی فیصلے کے مطابق آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا، 60 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرآنی آیات، اٹھارہویں ترمیم، مختلف آئینی ترامیم کے تجزیئے اور ارکان پارلیمنٹ کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ کا حوالہ بھی موجود ہے، فیصلے میں نااہلی کے معاملے پر 4 مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بھی رہنمائی لی گئی، جن میں امتیاز احمد لالی بنام غلام محمد لالی کیس، عبدالغفور لہڑی بنام ریٹرننگ افسر پی بی 29 فیصلہ، محمد خان جونیجو بنام وفاق کیس فیصلہ اور اللہ دینو خان بھائیو بنام الیکشن کمیشن فیصلہ شامل ہے۔یہ سپریم کورٹ بینچ میں شامل 5 ججوں کا متفقہ فیصلہ ہے، جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے 8 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میں ساتھی جج جسٹس عمر عطا بندیال کے حتمی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، تاہم فیصلے کی وجوہات سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا، جسٹس عظمت سعید نے مزید لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار سے لیا گیا جسٹس شیخ عظمت سعید نے لکھا کچھ وکلا نے یہ دلیل دی کہ 62 ون ایف انتہائی سخت ہے، یہ دلیل پارلیمنٹ کے ایوان میں تو دی جاسکتی ہے عدالت میں نہیں اور جنہوں نے یہ دلیل دی وہ یا تو پارلیمنٹیرین رہے یا ترمیم کے وقت ایوان کا حصہ تھے، جسٹس عظمت سعید کے اضافی نوٹ کے مطابق ‘آئین سازوں نے جانتے بوجھتے 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا جبکہ سپریم کورٹ آئین میں نہ کمی اور نہ اضافہ کرسکتی ہے۔

Facebook Comments
Share Button