تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اسفند یار ولی نے بھی عمران خان کے اگلے وزیر اعظم ہونے کی پیش گوئی کر دی عمران خان جیتیں گے یا جتوائیں گے لیکن عمران خان اگلا وزیر اعظم ہے،سربراہ اے این پی-آئی جی پنجاب کا نواب سراج رئیسانی ، ہارون بشیر بلور سمیت دیگر افراد کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار-رحیم یار خان پولیس کے سپیشل آپریشن یونٹ کی کچے کے علاقے میں کارروائی، آپریشن میںڈاکو نادر سکھانی مارا گیا ڈاکوئوں کی قید سے گیارہ مغوی بیوپاریوں کو بحفاظت بازیاب ... مزید-شفاف الیکشن کیلئے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہر کسی کیلئے یکساں لازم ہے، خلاف ورزی کی صورت میں بلاتفریق کارروائی کی جا رہی ہے ،صوبائی وزیر اطلاعات احمد وقاص ریاض-الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی مبینہ نامناسب تقاریر پر پابندی عائد کرے،مریم اورنگزیب-نگران وزیراعلیٰ پنجاب سے نائیجیریا کے 7 رکنی وفدکی ملاقات نائیجیرین وفد کا دورہ باہمی تعلقات کے نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا، ڈاکٹر حسن عسکری پاکستان بہت شاندار ملک ... مزید-25 جولائی کو شیر پر مہر لگا کر نواز شریف اور مسلم لیگ (ن ) کو کامیاب بنانا ہے ‘شہباز شریف ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچائیں گے ، اللہ نے موقع دیا تو پانچ سال میں کئی محاذ ... مزید-پیپلز پارٹی کے گڑھ میں میں پاکستان تحریک انصاف کا تاریخی جلسہ ،عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے عمران کو لبیک کہا جیکب آباد میں ہزاروں کارکنان نے جلسے میں شرکت کر کے تحریک ... مزید-اٹک پولیس کا سرچ آپریشن، ناجائز اسلحہ بر آمد-الیکشن کمیشن نے مرُدوں کو بھی ووٹ ڈا لنے کی اجازت دے دی ووٹر لسٹ میں سینکڑوں مرُدوں کے نام شا مل

GB News

نواز شریف جہانگیر ترین انتخابی سیاست سے تاحیات آئوٹ

Share Button

اسلام آباد (آن لائن) نواز شریف جہانگیر ترین انتخابی سیاست سے تاحیات آئوٹ ہو گئے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کی تشریح سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کو تاحیاتقرار دے دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے اور جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی برقرار رہے گی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے مذکورہ کیس کی 10 سماعتوں کے بعد 14 فروری 2018 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بینچ میں شامل 4 ججز عدالت کے کمرہ نمبر 1 میں موجود تھے، جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے، عدالتی فیصلے میں کہا گہا کہ جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے اور جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی رہے گی، عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ آئین کے تحت تاحیات پابندی امتیازی، کسی سے زیادتی یا غیر معقول نہیں بلکہ امیدوار کی اہلیت پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پابندی عوامی ضرورت اور مفاد میں ہے،عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف اس لیے ہے کہ دیانتدار، سچے، قابل اعتبار اور دانا افراد عوامی نمائندے بنیں، عدالتی فیصلے کے مطابق آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا، 60 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرآنی آیات، اٹھارہویں ترمیم، مختلف آئینی ترامیم کے تجزیئے اور ارکان پارلیمنٹ کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ کا حوالہ بھی موجود ہے، فیصلے میں نااہلی کے معاملے پر 4 مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بھی رہنمائی لی گئی، جن میں امتیاز احمد لالی بنام غلام محمد لالی کیس، عبدالغفور لہڑی بنام ریٹرننگ افسر پی بی 29 فیصلہ، محمد خان جونیجو بنام وفاق کیس فیصلہ اور اللہ دینو خان بھائیو بنام الیکشن کمیشن فیصلہ شامل ہے۔یہ سپریم کورٹ بینچ میں شامل 5 ججوں کا متفقہ فیصلہ ہے، جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے 8 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میں ساتھی جج جسٹس عمر عطا بندیال کے حتمی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، تاہم فیصلے کی وجوہات سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا، جسٹس عظمت سعید نے مزید لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار سے لیا گیا جسٹس شیخ عظمت سعید نے لکھا کچھ وکلا نے یہ دلیل دی کہ 62 ون ایف انتہائی سخت ہے، یہ دلیل پارلیمنٹ کے ایوان میں تو دی جاسکتی ہے عدالت میں نہیں اور جنہوں نے یہ دلیل دی وہ یا تو پارلیمنٹیرین رہے یا ترمیم کے وقت ایوان کا حصہ تھے، جسٹس عظمت سعید کے اضافی نوٹ کے مطابق ‘آئین سازوں نے جانتے بوجھتے 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا جبکہ سپریم کورٹ آئین میں نہ کمی اور نہ اضافہ کرسکتی ہے۔

Facebook Comments
Share Button