تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات 27 ستمبرکونیویارک میں ہوگی-حضرت امام حسین ؓ اور ان کے خاندان کی قربانی ہمیں باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے ،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی-امام حسین کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ پیغام پر بھی عمل کیا جائے ،سید منورحسن امام حسین ؓ سے عقیدت ومحبت کا تقاضہ ہے کہ اقتدار اور اختیار کے غلط استعمال کو روکا جائے ... مزید-وزیراعظم عمران خان کو 4 نئے ہیلی کاپٹر دینے کی پیش کش معروف کاروباری شخصیت نے وزیراعظم ہاوس کے 4 پرانے ہیلی کاپٹرز کے بدلے نئے ہیلی کاپٹر دینے کی پیش کش کردی-چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا لواری ٹنل بند ہونے کا نوٹس-بھارت نے وزیراعظم عمران خان کی ملاقات کی تجویز قبول کرلی 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی اجلاس میں پاک بھارت وزرائے خارجہ شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کے درمیان ملاقات ہوگی-کے ڈی اے کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وزیر بلدیات سندھ ْماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کا فیصلہ اور دیگرمعاملات کو غوروخوص کے بعد حل کیا جائے گا۔ سعید غنی-غربت،ناانصافی، جہالت، محرومی، جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم امن کے قیام میں بڑی رکاوٹیں ہیں، دنیا میں امن کے قیام کی کوششوں میں پاکستان ہراول دستے کا کردار ادا کررہا ... مزید-واقعہ کربلا صبر و تحمل، رواداری،ایثار اورقربانی کا درس دیتا ہے،حق و باطل کا یہ معرکہ مسلمانوں کو ظلم اور بربریت کیخلاف جہاد کرنے کا درس دیتاہے،وزیراعلیٰ سردار عثمان ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور تحریک انصاف کے عہدیداروں کی ملاقات

GB News

گلگت بلتستان میں مفت تعلیم کی فراہمی کا اعلان

Share Button

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے کہا ہے کہ ضلع دیامر میں تعلیم کی شرح کم ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان پورے ملک میں دوسرے نمبر پر ہے ۔جن بچوں کے والدین کی مالی استطاعت کمزور ہے اور بچے تعلیم سے محروم ہیں ایسے بچوں کیلئے مفت تعلیم فراہم کی جائے گی جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں کتابیں مفت فراہم کی جارہی ہیں اور داخلہ بھی مفت ہے آج کے بچے قوم کا سرمایہ اور ہمارا مستقبل ہیں اساتذہ پر تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے سرکاری تعلیمی اداروں پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر رزلٹ نہیں آتاڈسپلن کا فقدان ہے ۔مفت تعلیم کی فراہمی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ قوم کے ہر بچے کو تعلیم فراہم کرنے کا انتظام کریں’ہم اکثر اپنے تمام معاملات میں چین کی مثال دیتے ہیں لیکن اس کے اچھے اقدامات پر عمل کرنا گوارا نہیں کرتے’ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں چین کی آبادی سب سے زیادہ ہے اس لئے طالب علموں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔اس وقت چین میں جو تعلیمی نظام ہے وہ دنیا کا سب سے وسیع تعلیمی نظام ہے فی الحال چین میں کل وقتی یعنی پورا وقت تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ ہے۔چین کا تعلیمی نظام شیر خوار بچوں کی تعلیم ، پرائمری ، مڈل اور یونیورسٹی کی سطح پر مشتمل ہے۔اس میں پرائمری سے مڈل تک یعنی نو سال تک مفت تعلیم کا نظام رائج ہے۔ اس وقت ملک کے نوے فیصد سے زائدبچے نو سال تک مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ چینی حکومت کی کوشش ہے کہ کچھ عرصے کے بعد یہ شرح سو فیصد تک پہنچا دی جائے۔حالیہ کچھ عرصے سے چین میں غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تاہم ملک کے بیشتر تعلیمی ادارے سرکاری نوعیت کے ہیں۔چین میں چھ سال کی عمر سے چھوٹے بچوں کے لئے تعلیم کو شیر خوار بچوں کی تعلیم کہا جاتا ہے۔ اس وقت چین میں ان بچوں کی تعداد دس کروڑ کے قریب ہے اور انہیں کنڈرگارڈن کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے۔چین کے تعلیمی اداروں نے ان بچوں کی عمر، صلاحیت اور نفسیات کے مطابق مختلف سطح کے تعلیمی کورس مرتب کئے ہیں ۔اس وقت چین میں کنڈرگار ڈن اداروں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے ۔عام طور پر تین سے چھ سال تک کی عمر کے چینی بچے کنڈرگارڈن میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال داخلے کی شرح صرف پچاس فیصد کے قریب ہے۔چین میں کنڈرگارڈن کی سطح پر دو قسم کے ادارے ہیں سرکاری اور غیر سرکاری ۔سرکاری کنڈرگارڈن اداروں کی فیس کم ہے ۔ ان اداروں کے پاس بھر پور تجربات اور تعلیمی وسائل ہیں جبکہ چین کے ساٹھ فیصد کنڈرگارڈن غیر سرکاری نوعیت کے ہیں جن کی فیس نسبتا زیادہ ہے ۔چینی حکومت نے ان غیر سرکاری کنڈرگار ڈن اداروں کی ترقی کے لئے کچھ ترجیحی پالیسیاں مرتب کی ہیں۔چین میں پرائمری تعلیم چھ سال کی عمر سے شروع ہو تی ہے جو مفت فراہم کی جاتی ہے ۔ بچے کے والدین صرف کتابوں کی فیس کے علاوہ کچھ متفرق فیس ادا کرتے ہیں جبکہ غریب و نادار بچوں سے فیس نہیں لی جاتی ۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر معاملات زندگی میں مالی امداد بھی کی جاتی ہے۔پرائمری سکو ل کی تعلیم کا دورانیہ چھ سال ہوتا ہے۔ کورس میں چینی زبان، علم ریاضی،سائنس، غیرملکی زبان، اخلاقیات، موسیقی اور جسمانی صحت سے متعلق تعلیم شامل ہے ۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس قت چین میں پرائمری سکولوں کی کل تعداد دو لاکھ ہے اور ان سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد دس کروڑ کے قریب ہے یعنی اس عمر کے اٹھانوے فیصد سے زیادہ چینی بچوں کو مناسب تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔چین کے بیشتر پرائمری سکول حکومت کے زیر انتظام چلتے ہیں ۔چین میں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کے سکولوں کے تعلیمی معیار میں واضح فرق ہے جو غیر منصفانہ تعلیم کے مسئلے کا باعث ہے۔اس مسئلے کے حل کے لئے چینی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ تعلیمی وسائل کی تقسیم کی اصلاح کی جائے تاکہ تمام بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع میسر آ سکیں ۔چین میں جونئیر ہائی سکول تک بھی تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے۔ہر سال طالب علم کو صرف چند سو یوان کی متفرق فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔اس سلسلے میں بھی غریب و نادار طالب علموں کو حکومت کی طرف سے فیس کی معافی اور وظائف کی امدادی رقم کی فراہمی کی سہولیات حاصل ہیں۔چین میں جونیئر ہائی سکول تعلیم کا دورانیہ تین سال ہے۔ کورس میں چینی زبان، علم ریاضی،غیرملکی زبان، اخلا قیات، آئی ٹی سائنس ، علم کیمیا اور علم طبعی وغیرہ شامل ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس و قت چین میں جونئیر ہائی سکولوں کی کل تعداد پچاس ہزارہے اور ان سکولوں کے طالب علموں کی تعداد پانچ کروڑ کے قریب ہے۔یعنی اس عمر کے نوے فیصد سے زائد چینی بچوں کو مناسب تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔بیشتر چینی جونئیر ہائی سکول سرکاری نوعیت کے ہیں۔جونئیر ہائی سکول کی تعلیم مفت ہے اس لئے پرائمری سکول سے جونیئر سکول میں داخلے کے لئے امتحان کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ عام طور پر طالب علم اپنے گھر کے نزدیکی سکول کا انتخاب کرتے ہیں۔دیہی علاقوں کے کچھ اچھے سکولوں میں طالب علموں کورہائشی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ دور افتادہ علاقوں کے رہنے والے بچے بھی اچھے طریقے سے تعلیم حاصل کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ چینی حکومت انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم دینے کا نظام قائم کر رہی ہے تاکہ تمام بچے مساوی طور پر تعلیمی وسائل سے استفادہ کر سکیں۔معمول کے سینئر ہائی سکول کے علاوہ بالغوں کے لئے ہائی سکول، پیشہ وارانہ ہائی سکول اور درمیانے درجے کے پیشہ وارانہ سکول شامل ہیں۔ سینئر ہائی سکول کی تعلیم مفت نہیں ہو تی ۔ہر طالب علم کو سالانہ ہزاروں یوان فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔سینئر ہائی سکول کی تعلیم کا دورانیہ بھی تین سال ہے۔ کورس میں چینی زبان، علم ریاضی ، غیرملکی زبان، آئی ٹی سائنس ، علم کیمیا اور علم طبعیات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں سینئر ہائی سکولوں کی کل تعداد تیس ہزار ہے اور ان سکولوں کے طالب علموں کی تعدادچارکروڑ کے قریب ہے یعنی اس عمر کے اسی فیصد سے زیادہ چینی نوجوانوں کو مناسب تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔بیشتر چینی سینئر ہائی سکول سرکاری نوعیت کے ہیں۔سینئر ہائی سکول میں داخلے کے لئے امتحان لازمی ہوتا ہے۔طالب علم امتحان میں اپنے حاصل کردہ پوائنٹس کے مطابق اپنی پسند کے سکول کا انتخاب کرتے ہیں۔اعلی تعلیمی نظام میں جونیئر کالج، انڈر گریجویٹ،ماسٹر اور ڈاکٹریٹ سمیت چند سطح کی تعلیم شامل ہے۔اعلی تعلیمی اداروں میں عام یونیورسٹیوں کے علاوہ اعلی پیشہ وارانہ سکول،فاصلاتی نظام تعلیم اور بالغوں کے لئے اعلی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔چین میں اعلی تعلیم کی تاریخ ایک سو سال پرانی ہے۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق اس وقت چین میں کل دو ہزار اعلی تعلیمی ادارے ہیں جن میں طالب علموں کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے۔زیادہ سے زیادہ چینی طالب علم ترقی یافتہ ملکوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں اس لئے چین کے اعلی تعلیمی اداروں کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔اس وقت کچھ چینی یونیورسٹیاں ترقی یافتہ ملکوں کے مشہور اعلی تعلیمی اداروں کے تعاون سے چین میں باہمی اشتراک سے اعلی تعلیمی ادارے قائم کر رہی ہیں تاکہ چینی طالب علم اپنے ملک میں ہی دنیا کے بہترین تعلیمی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔اس منظرنامے میں ہمیں بھی اپنے تعلیمی نظام کو چین کی سطح پر استوار کرکے مفت تعلیم کی فراہمی کویقینی بنانے کا اہتمام کرناچاہیے۔

Facebook Comments
Share Button