تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے انتخابات کے حوالے سے بڑا اعلان کر دیا سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے این اے 65 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا-وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کا جمرودخیبرایجنسی کامختصردورہ ،گرڈ سٹیشن کاافتتاح کیا-سبیکا شیخ پاکستان کی بیٹی ہے جس کے بچھڑے پر ہر آنکھ غم پر نم ہے ، حلیم عادل شیخ رہنماء پی ٹی آئی-ایم کیو ایم کے لیڈرز کبھی الگ صوبے کی بات کرتے ہیں اور کبھی معافی مانگ لیتے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ سندھ ٹوڑنے کی بات کرنے والے آج خود ٹوٹ گئے ہیں، عوام ایم کیو ایم کا اصل ... مزید-خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے بلوچ علیحدگی پسند براہمداغ بگٹی نے نواز شریف کی حمایت کردی-بلوچستان سی پیک کا مرکز ہے ،پاکستان کا چین سے گہرا تعلق ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم اور مضبوط ہورہا ہے، میر عبدالقدوس بزنجو سی پیک کی تکمیل ہمارا مقصد ہے جس سے پورے ... مزید-اورنج لائن پیکیج ٹو پر بھی میٹرو ٹرین آزمائشی طور پر کامیابی سے چلا دی گئی ‘خواجہ احمد حسان تعمیر و ترقی کے سفر اور عام شہریوں کو عزت دینے کی کوششوں میں کسی کو رکاوٹ ... مزید-شہبازشریف کی ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت ،حوالدار شاہد ،شہری محمد اسلم کی شہادت پر اظہار افسوس بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے،پوری ... مزید-قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے سینیٹ کا اجلاس (کل) سہ پہر تین بجے طلب کرلیا-الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پولنگ سکیم کا مسودہ ویب سائٹ پر جاری کردیا

GB News

ایران سے معاہدے کے خاتمے کی امریکی حماقت

Share Button

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015 ء میں طے پانے والے جوہری معاہدہ سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے یہ فیصلہ صرف اس لئے کیا ہے کیوں کہ یہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا اور وہ اپنے جوش خطابت میں امریکی عوام کے سامنے اس معاہدہ کی خرابیاں بیان کرتے ہوئے اسے بدترین معاہدہ قرار دیتے رہے تھے۔ ٹرمپ کی طرف سے کئی ماہ تک یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ وہ 12 مئی کو ایران معاہدہ کے بارے میں حتمی اعلان کریں گے۔ پھر سوموار کو ایک ٹویٹ میں اعلان کیا گیاکہ وہ منگل کو سہ پہر دو بجے ایران معاہدہ کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد یہ اعلان کرتے ہوئے معاہدہ کو مسترد کرنے کے لئے وہ سارے مبالغہ آمیز الفاظ استعمال کئے جو کسی اسٹیج پر توجہ کا مشتاق اداکار اپنے ڈائیلاگ میں جوش پیدا کرنے کے لئے استعمال کرسکتا ہے، تاہم وہ ایک بڑے ملک کے سربراہ اور مدبر لیڈر کے طور پر اس معاہدہ کے بارے میں اپنی شکایات سامنے لانے ا ور اس فیصلہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لئے کوئی لائحہ عمل دینے میں بری طرح ناکام رہے۔ اسی لئے امریکی میڈیا سمیت دنیا بھر کے لیڈر اور مبصر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ معاہدہ ختم کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے پاس کوئی پلان بی نہیں ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریہ میں متنبہ کیا ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلہ سے امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی اندوہناک جنگ میں ملوث ہو سکتا ہے حالانکہ صدر ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی کسی نئی جنگ میں ملوث کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ایران کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد امریکہ کے علاوہ روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے 2015 ء میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ایران یورینیم افزودہ کرنے کے عمل کو روکنے اور افزودہ یورینیم روس میں محفوظ مقام تک روانہ کرنے پر راضی ہو گیا تھا۔ اس طرح دنیا کے اہم لیڈر مشرق وسطیٰ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے ایک اہم اندیشے کو مؤخر کرنے میں کامیاب ہو ئے تھے۔ یہ معاہدہ 2025 ء تک کے لئے کیا گیا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران اس معاہدہ کے مطابق طے کئے گئے طریقہ کار پر چلتا رہے تو جوہری ہتھیار بنانے کے لئے اس کی کوششیں پندرہ سے بیس برس کے لئے مؤخر ہو جائیں گی۔ صدر ٹرمپ کے خیال میں یہ معاہدہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے مستقل طور سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ عالمی معاہدہ ایران کے میزائل پروگرام کا احاطہ نہیں کرتا اور نہ ہی مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں ایران کو ملوث ہونے سے روکتا ہے۔ چند ہفتے قبل انہوں نے فرانس کے صدر ایمینوئیل میکرون کے ذریعے ایران کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ اس معاہدہ پر نظر ثانی کی جائے اور امریکہ کے تحفظات دور کئے جائیں تو امریکہ ایران کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کرے گا، تاہم ایران کے صدر حسن روحانی کا دو ٹوک جواب تھا کہ یہ معاہدہ چھ خود مختار ملکوں کے درمیان طے پایا ہے۔ اس معاہدہ پر نظر ثانی کی کوئی تجویز قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر امریکہ ایک ذمہ دار ملک کے طور پر اپنے معاہدوں کی پا سداری میں ناکام رہتا ہے تو یہ ایران کا نہیں خود اس کا مسئلہ ہے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ امریکی صدر نے معاملات کو بہتر بنانے کی بجائے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے جنگ کے خطرات بڑھے ہیں اور غیر یقینی صورت حال میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ چونکہ سنسنی خیزی پیدا کرنے کی شہرت رکھتے ہیں ، اس لئے وہ اس سے زیادہ سوچنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ اسی لئے ایران کے ساتھ معاہدہ سے نکلتے ہوئے انہوں نے جو دعوے کئے ہیں ، پوری دنیا کے ماہرین اور لیڈر ان کو مسترد کرتے ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایران اس معاہدہ کے مطابق جوہری سرگرمیوں کو محدود رکھے ہوئے ہے۔یہی وجہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی سمیت روس اور چین نے اس معاہدہ کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے بھی معاہدہ میں شامل باقی سب ملکوں سے اس اہم معاہدہ کو باقی رکھنے کی درخواست کی ، تاہم امریکی صدر کی جانب سے معاہدہ سے نکلنے کے بعد ایران پر پھر سے سخت پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد صورت حال غیر یقینی ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں گے بلکہ ان تمام ملکوں پر بھی پابندیاں لگا سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوں گے۔ اس اعلان پر عمل کرتے ہوئے اگر امریکہ نے ایسی کمپنیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا جو ایران کے ساتھ کاروبار کررہی ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ یورپی ممالک کس حد تک اس امریکی دباؤ کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اس نئی امریکی پالیسی کے نتیجہ میں مشرق وسطیٰ میں روس کا اثر و رسوخ بڑھے گا اور امریکہ کے لئے براہ راست تصادم کے اندیشوں میں اضافہ ہو گا۔ صدر اوباما کے دور میں ہونے والا ایران معاہدہ صدر جارج بش اور صدر باراک اوباما کی حکومتوں کے دور میں اخذ کئے گئے اس نتیجہ کا ثمر تھا کہ جنگ سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اب ٹرمپ یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ اپنے الفاظ کی بازی گری سے یہ کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ جوہری معاہدے کے بعد امریکہ نے ایران کی لگژری مصنوعات جیسا کہ قالین اور بیضہ ماہی اچار یعنی کیویار پر عائد پابندی اٹھا لی تھی۔ پابندیاں کی وجہ سے ایرانی قالینوں کی اس کی سب سے بڑی منڈی امریکہ میں برآمد پر 30 فیصد کمی آئی تھی۔پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کی یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں بھی واضح اضافہ ہوا لیکن جنوبی کوریا، ایران اور ترکی اب بھی ایران کے تین سرفہرست تجارتی پارٹنر ہیں۔2012 میں پابندیاں اور کرنسی مارکیٹ میں ملکی سطح پر بدانتظامی کے باعث ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تین گنا گری۔ پابندیوں کی وجہ سے ایران کے تیل کی آمدن اور عالمی بینکنگ کے نظام کی رسائی محدود تھی۔ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم سے عہد کیا تھا کہ جوہری معاہدے کے بعدآپ ایکسچینج ریٹ ہر گھنٹے کے بعد اوپر جاتا دیکھیں گے۔صدر روحانی اپنا یہ وعدہ نبھانے میں کامیاب رہے اور تقریباً چار سال تک ایرانی کرنسی مستحکم رہی۔ لیکن 2017 کے اواخر میں جب امریکی صدر ٹرمپ نے کانگریس سے جوہری معاہدے کی توثیق سے انکار کر دیا تو ریال کی قیمت گرنا شروع ہوگئی۔گذشتہ ستمبر سے اب تک ریال کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف کمی دیکھی گئی ۔ بہت سارے ایرانی غیرملکی کرنسی خرید رہے تھے تاکہ مستقبل میں جوہری معاہدہ ختم ہونے پر پاپندیوں کی واپسی اور نئے کرنسی سے بحران سے نمٹا جا سکے۔ 2018 کی پہلی سہ ماہی میں ایران سے 30 ارب ڈالر ملک سے باہر منتقل ہوئے۔یران کے گھریلو بجٹ میں سنہ 2014’15 تک سات سال کمی ہوتی رہی اور جب جوہری معاہدی ہوا اس کے اگلے سال اس میں کچھ اضافہ دیکھا گیا۔صورتحال سے ظاہر ہواکہ ایران کا درمیانہ طبقہ گذشتہ دہائی میں سب سے زیادہ متاثر ہوااوسطاً ایک گھرانے کے بجٹ میں پندرہ فیصد کمی ہوئی لیکن متوسط طبقے میں یہ شرح بیس فیصد تھی۔جوہری معاہدے کے بعد ہونے والی معاشی ترقی کا انحصار زیادہ تر تیل کی آمد پر تھا جو براہ راست حکومت تک پہنچتے ہیں اور انہیں عوام کی جیبوں تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیاتھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا خاتمہ تباہ کن اور حماقت کی انتہاہوسکتا ہے مگر ٹرمپ اپنی ضد پر اڑے رہے لیکن وہ اس کے بداثرات سے امریکہ کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گے۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے شام میں صورتحال میں خرابی کا الزام ماسکو پر عائد کرتے ہوئے نومنتخب صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روسی وعدوں سے ہوشیار رہیں۔

Facebook Comments
Share Button