تازہ ترین

Marquee xml rss feed

جہانگیر ترین نے تحریک انصاف کیلئے ایک اور مشکل ترین کام کر دکھایا بلوچستان عوامی پارٹی کے تحفظات دور کرکے قومی اسمبلی میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے امیدوار ... مزید-وطن عزیز کے استحکام اور بقاء کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرنا ہو گا، شیخ آفتاب احمد-حکومت سازی، عمران خان کی زیر صدارت اہم امور پر مشاورت-نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مزارِ قائد میں داخلے سے روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت پی پی سے بلاول ہائوس کی حفاظتی دیوار گرانے کی بات کرنے کا بیان دیا تھا، بلاول ہائوس ... مزید-عمران اسماعیل سے گورنرشپ کاعہدہ ہضم نہیں ہورہااگر انہوں نے بدزبانی بند نہیں کی تواحتجاج کریں گے، نثار احمد کھوڑو-انصاف اور مساوات کے رہنما اُصولوں پر گامزن ہوکر ہی پاکستان کو دنیا کا ماڈل بنایا جاسکتا ہے ،سربراہ پاکستان سنی تحریک موجودہ نئی حکومت سے اُمید ہے کہ وہ ملک وقوم کی ترقی ... مزید-صوبائی حکومت انفرا اسٹرکچر، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی، مراد علی شاہ-پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے لاتعداد اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، ملک خرم شہزاد-نومنتخب ممبر قومی اسمبلی کو شہری پر تشدد کرنا مہنگا پڑ گیا تحریک انصاف نے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردی-لوڈشیڈنگ کے دعوے دھرے رہ گئے ․ پارلیمنٹ لاجز میں بجلی کی طویل بندش ، 282 کے قریب ارکان اسمبلی کو شدید مشکلات کا سامنا ، آئیسکو معقول وجہ بتانے سے قاصر رہا

GB News

بدترین لوڈ شیڈنگ اورعرصہ دراز سے بند بجلی گھر

Share Button

حکومت کی غفلت ، لاپرواہی اور بے حسی کے باعث سکردو میں پچھلے کئی سالوں سے بند سات بجلی گھر تاحال چالو نہیں ہو سکے سکردو کے دور افتادہ علاقہ گلتری میں مختلف مقاما ت پر مختلف ادوار میں چھ بجلی گھر تعمیر کئے گئے تھے تاہم سٹاف کے فقدان کے باعث یہ تمام بجلی گھر جب سے بنے ہیں تب سے بند ہیں جس کی وجہ سے ڈیڑھ میگا واٹ بجلی کا شارٹ فال ہے بجلی گھروں کی بندش سے پیدا ہونے والی صورت حال سے کئی مرتبہ اعلیٰ حکومتی ذمہ داران کو آگاہ کیا گیا لیکن تاحال کوئی شنوائی نہ ہو سکی سکردو میں قائم ہونے والے واپڈا فیز فورتھ بھی ناقص ڈیزائننگ کی وجہ سے جب سے بناہے تب سے بند پڑا ہے ڈیڑھ میگا واٹ کے اس بجلی گھر کا سپل وے رکھا ہی نہیں گیا ہے پانی کے اخراج کی جگہ نہ ہونے کے باعث مذکورہ بجلی گھر کو چلایا نہیں جا سکا ہے گلتری میں بند چھ بجلی گھروں میں سٹاف کی تعیناتی کیلئے سفارشات بھی بھجوائی گئی تھیں لیکن ان سفارشات کا بھی کچھ اتہ پتہ نہیں ہے’ کئی سالوں سے یہ بجلی گھر بند ہو نے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے اور روز بجلی کے بحران پر قابو پانے کے بڑے بڑے بیانات جاری کر کے حکومت بری الذمہ ہونے کی ناکام کوشش کر رہی ہے سکردو شہر میں بجلی کا سنگین بحران ہے اور مئی کے مہینے میں بھی بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ سے عوام سخت متاثر ہو رہے ہیں پچھلے تین سال کے دوران حکومت بند بجلی گھروں کو بحال کرنے کیلئے کچھ نہیں کر سکی ہے جس کی وجہ سے عوام سنگین قسم کے مسائل میں مبتلا ہو گئے ہیں۔یہ امر یقینا تشویشناک ہے کہ متعدد بجلی گھر کئی سالوں سے بند ہیں لیکن انہیں فعال کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جس کی وجہ سے لوگ شدید عذاب میں مبتلا ہیں حکام بالا کو عوامی مسائل کی فکر اس لیے بھی لاحق نہیں ہوتی کہ انہیں تمام سہولیات دستیاب ہوتی ہیں اس لیے وہ عوام کی مشکلات کا اندازہ نہیں کر سکتے’افسوسناک بات یہ ہے کہ اپنی اس غفلت اور عیرذمہ داری کے باوجود وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتے اور یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں عوام ان کا فیصلہ انتحابات میں کرے گی لیکن جو نقصان اپنی نااہلی کے باعث وہ علاقے اور عوام کو پہنچا چکے ہوتے ہیں انکی ان سے باز پرس نہیں کی جاتی لوڈ شیڈنگ اس وقت مسائل میں ایک بڑا اور اہم ترین مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ صنعت ، زراعت،تجارت،بینکنگ اور ٹیچنگ سمیت ہماری پیداوار کا ہر شعبہ بجلی کا محتاج ہے اور بجلی نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف اشیاء کی پیداوار میں رکاوٹ ہورہی ہے بلکہ ترقی اور استحکام بھی عدم تحفظ کا شکار ہورہا ہے۔ دیہاڑی دار طبقہ ، دفاتر اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین، بجلی سے چلنے والی مشینوں پر دن بھر جتے روٹی کمانے والے غریب لوگ اور طلبہ و گھریلو خواتین سب کا یہی رونا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ان کے روزمرہ کے معمولات ڈسٹرب ہوکر رہ گئے ہیں۔ عوام کا جینا حرام ہو چکا ہے۔کسی گھر میں کوئی بیمار ہے تو کوئی مریض ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں ہے ، کسی کا آپریشن ہورہا ہے اور کوئی اپنی تکالیف سے نجات کے لئے بجلی آنے کا منتظر ہے ، کہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ، کہیں طالبعلموں کی تعلیم ڈسٹرب ہے اور کہیںکسی دفتر یا فیکٹری وغیرہ میں کام کرنے والے افراد واپڈا کو کوس رہے ہیں۔ مگر کسی کو عوام کی اس مصیبت کا احساس نہیں۔ ارباب اقتدار و اختیار شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دیئے بیٹھے ہیں۔ دوسری جانب ہر دوسرے مہینے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔لوڈ شیڈنگ کے باوجود ناقابل برداشت بل بھیجے جاتے ہیں۔ بجلی کے بلوں کے بھاری بھرکم بوجھ نے عوام کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ جس حساب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اس تناسب سے عوام کو بجلی ہی مہیا نہیں کی جارہی۔ نہ تو حکومت کوئی نوٹس لے رہی ہے اور نہ ہی عدلیہ کے سوموٹو ایکشن کی آوازیں آرہی ہیں۔ ارباب اختیار اپنے وعدوں سے مکرتے ہوئے ہر مرتبہ نئی کہانی سنا دیتے ہیں اور عوام کو مکر و فریب اور جھوٹ کے نئے جال میں پھانس لیتے ہیں۔ کیا انہیں یا واپڈا حکام کو کوئی لگام ڈالنے والا نہیں جنہوں نے قوم کو اندھیروں میں ڈبو رکھا ہے ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ کا بھی کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا۔ صبح سکول و دفاتر جانے والے اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں تو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے تیاری کرتے ہیں۔ بچے سکول پہنچتے ہیں تو وہ تاریکی میں پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ نو بجے کے بعد دفتری اوقات شروع ہوتے ہیں تو بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے آدھے سے زیادہ دن یونہی گزر جاتا ہے۔ رات گھروں کو جائیں تو بھی تاریکی منتظر ہوتی ہے۔ غرض کہ بجلی کی قلت نے عوام کو ادھ موا کر کے رکھ دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ احساس سے عاری حکمران بے حس ، بے ضمیر اور بے حمیت بنے صم بکم عم کا کردار اداکررہے ہیں ، انہیں عوام کے دکھوں اور مسائل کا احساس ہی نہیں ۔ وہ یہ بات بھول گئے کہ عوام نے موجودہ قیادت کو صرف اسی وجہ سے منتخب کیا تھا کہ وہ ان کے مسائل حل کرے گی۔آج کاروبار زندگی مفلوج ہوچکا اور عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات کا واحد حل یہی ہے کہ واپڈا اپنے کروڑوں کے نادہندہ افراد سے رقوم نکلوائے اور ارباب اختیار کے گناہوں کا تمام بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے اسے انہی سے وصول کیا جائے۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں ، بجلی استعمال نہ کرنے کے باوجود واپڈا کی طرف سے بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ناچاہتے ہوئے بھی قبول کرتے اور پورا بل دیتے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں ادائیگی کے حساب سے بجلی نہ ملے تو یہ واپڈا حکام کی بھی ڈھٹائی اور بے شرمی کا عبرتناک نمونہ ہے ۔آخر عوام کا کیا قصور جو اپنا پیٹ کاٹ کر واپڈا کا کھلا ہوامنہ اپنا خون پسینہ ایک کرکے بھر رہے ہیں اور بجلی کی قیمتوں میں ناجائز اضافوں پر بھی صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود انہیں پوری بجلی مہیا نہیں کی جاتی اور استعمال کے حساب سے کئی گنا زائد بل بھیجے جاتے ہیں۔صدر اور وزیراعظم سے لے کر وزیروں اور مشیروں اور چند مخصوص سیاستدانوں تک کو جو بجلی مفت سپلائی کی جاتی ہے اور جن کے گھروںکو لوڈشیڈنگ سے مبراء قرار دیا جاتا ہے ، ان سے بھی بجلی کے بل وصول کئے جائیں۔ ان کے حصے کابوجھ عوام کے ناتواں کاندھوں پر منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ بجلی چوری کی یہ روش رکنے سے ہی لوڈشیڈنگ میں کمی لائی جاسکتی ہے ، ورنہ پورا ملک اسی طرح اندھیروں میں ڈوبا رہے گا اور ارباب اقتدارکے گھر اسی طرح روشن رہیں گے۔ عوام کی برداشت کی حدیں اب ختم ہوتی جارہی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکمرانوں اور بحران پیدا کرنے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھائے جائیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سکردو میں بند بجلی گھروں کو چالو کرنے کا ذمہ دار کون ہے اور کس نے متعلقہ ذمہ داران سے جواب طلب کرنا تھا کیا وہ نہیں جانتے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے بلا تمیز ہر شخص پریشان ہے۔انسان نے ترقی کا بہت سارا سفر بجلی ہی کے دم سے طے کیا ، لوڈشیڈنگ نے واقعی زندگی مشکل بنادی ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی مرض لاعلاج ہو چکا یا چارہ گروں کے کچھ ہنروں کی آزمائش ابھی باقی ہے۔ جب بھی لوڈشیڈنگ بڑھتی ہے تو بیشمار حکومتی اعلانات آسرے اور سہارے بن کر قوم کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں کہ ”جلد ہی بجلی کی کمی پر قابو پا لیا جائے گا۔ییا واقعی بجلی کا یہ بحران لاعلاج ہے اور کیا واقعی ہم اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں یا ایسا ہے کہ ہم وسائل اور ذرائع رکھتے ہیں لیکن منصوبہ بندی نہیں کرتے اور یا عمل کا فقدان ہے۔

Facebook Comments
Share Button