تازہ ترین

Marquee xml rss feed

جہانگیر ترین نے تحریک انصاف کیلئے ایک اور مشکل ترین کام کر دکھایا بلوچستان عوامی پارٹی کے تحفظات دور کرکے قومی اسمبلی میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے امیدوار ... مزید-وطن عزیز کے استحکام اور بقاء کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرنا ہو گا، شیخ آفتاب احمد-حکومت سازی، عمران خان کی زیر صدارت اہم امور پر مشاورت-نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مزارِ قائد میں داخلے سے روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت پی پی سے بلاول ہائوس کی حفاظتی دیوار گرانے کی بات کرنے کا بیان دیا تھا، بلاول ہائوس ... مزید-عمران اسماعیل سے گورنرشپ کاعہدہ ہضم نہیں ہورہااگر انہوں نے بدزبانی بند نہیں کی تواحتجاج کریں گے، نثار احمد کھوڑو-انصاف اور مساوات کے رہنما اُصولوں پر گامزن ہوکر ہی پاکستان کو دنیا کا ماڈل بنایا جاسکتا ہے ،سربراہ پاکستان سنی تحریک موجودہ نئی حکومت سے اُمید ہے کہ وہ ملک وقوم کی ترقی ... مزید-صوبائی حکومت انفرا اسٹرکچر، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی، مراد علی شاہ-پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے لاتعداد اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، ملک خرم شہزاد-نومنتخب ممبر قومی اسمبلی کو شہری پر تشدد کرنا مہنگا پڑ گیا تحریک انصاف نے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردی-لوڈشیڈنگ کے دعوے دھرے رہ گئے ․ پارلیمنٹ لاجز میں بجلی کی طویل بندش ، 282 کے قریب ارکان اسمبلی کو شدید مشکلات کا سامنا ، آئیسکو معقول وجہ بتانے سے قاصر رہا

GB News

نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، اپوزیشن

Share Button

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف ممبئی حملوں سے متعلق اپنا بیان واپس لیں اور قوم سے معافی مانگیں ورنہ انکا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،ڈان لیکس والے صحافی کو پروٹوکول کے ساتھ ائیر پورٹ لایا گیا،کیا ہم بیرونی دنیا کے آلہ کار بن رہے ہیں ؟88ء میں وزیراعظم نے سکھوں کی لسٹ بھارت کو دی تھی وہ بھی غداری کے زمرے میں آتی ہے، نواز شریف کے بیان سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بلیک لسٹ کی طرف جارہاہے،نواز شریف کے بیان پر حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی ساتھ نہیں دے رہی، پاکستانیوں کے احساسا ت کو نواز شریف نے مجروع کیا۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیراعظم نے اپوزیشن کے احتجاج پر کہا کہ بہت سے افراد کے پیٹ میں درد ہے، انہیں بولنے دیں،جس پر اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ وزیراعظم نے پیٹ میں درد کی بات کی اس پر واک آوٹ کرتے ہیں، وزیراعظم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ یہ کہا کہ جس کے پیٹ میں درد ہے بات کرلے، روز روز کے تماشے مت لگائیں، ملک کو چلنے دیں۔منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف کے بیان پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ۔نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی راہنما و رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے نواز شریف کے بیان پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ اس بیان سے ہم گرے لسٹ سے بلیک لسٹ کی طرف جارہے ہیں۔ وزیراعظم ایوان کو اعتماد میں لیں،نواز شریف کہتے ہیں کہ جو میں نے کہا اس میں غلط کیا ہے۔ ہم نواز شریف سے پوچھنا چاہتے ہیں کہاس بیان کی ضرورت کیا تھی،ڈان لیکس والے صحافی کو پروٹوکول کے ساتھ ائیر پورٹ سے لیجایا جا تا ہے،کیا ہم بیرونی دنیا کے آلہ کار بن رہے ہیں ؟ نوازشریف کے بیان کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔اس بیان پر نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلانا پڑا، آج پھر نواز شریف نے سیکیورٹی کمیٹی کے بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے، نواز شریف کے اس بیان پر حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی ساتھ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، اگر ایسا تھا سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس کیوں بلا یا گیا،لوگوں نے نواز شریف کے خلاف ایف آئی آرز کٹوانا شروع لر دی ہیں۔ سپریم کورٹ بار آج پٹیشن دائر کرنے کو ہے۔اگر بیان غلط انداز میں پیش کیا گیا تو شہباز شریف اور چوہدری نثار وضاحتیں کیوں دے رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج غداری کے مقدمے کے مطالبے کئے جا رہے ہیں، یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ معاملہ بہت سنگین ہے، اس بیان پر ہم نے تشویش کا اظہار کیا ہے، ہم کئی برسوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، پاکستانیوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں، نواز شریف نے عدالتی فیصلے کے بعد مہم چلائی،انہوں نے کہا کہ ہماری کوتاہیاں ہو سکتی ہیں، اسامہ بن لادن کے ساتھ نواز شریف کی ایسوسی ایشن کاسب کو پتہ ہے، جون میں ایف اے ٹی ایف نے فیصلہ کرنا ہے، پاکستان پر پابندیاں لگنے کے خدشات ہیں، انہوں نے کہا کہ ملتان ایئرپورٹ پر ایک جرنلسٹ کو لایا گیا، اے ایس ایف نے سہو لت دی، کتنے پاکستانیوں کے احساسا ت کو نواز شریف نے مجروع کیا ہے، فیڈریشن کو جھنجھوڑنا پڑے گا، وضاحت سے معاملات حل نہیں ہوتے، ہم اس طرح کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ایک ذمہ دار آدمی کے منہ سے ایسا بیان آیا ہے جو تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہے، اس کی تحقیق ہونی چاہیے، نواز شریف کو کیا مسئلہ پیش آیا تھا، نواز شریف سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے یہ بیان کس تناظر میں دیا ہے،88ء میں وزیراعظم نے سکھوں کی لسٹ بھارت کو دی تھی وہ بھی غداری کے زمرے میں آتی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کی رکن اسمبلی ثمن جعفری نے کہا کہ پونے پانچ برس تک آپ فیصلے لیتے رہے، اتنا بڑا الزام تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نے دیا ہے، شہباز شریف کچھ اور کہہ رہے ہیں لیکن نواز شریف اپنی بات پر قائم ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ نوازشریف کا بیان بھارتی میڈیا نے اپنے مقاصد کیلیے استعمال کیا اور یہاں پر اسے سیاسی مقاصد کے لیے پھیلایا جارہا ہے جب کہ نوازشریف کے بیان کی مس رپورٹنگ ہوئی ہے،۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی وضاحت کو مسترد کردیا اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بہت سے افراد کے پیٹ میں درد ہے، انہیں بولنے دیں۔پیپلزپارٹی کے رہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ وزیراعظم نے پیٹ میں درد کی بات کی اس پر واک آوٹ کرتے ہیں۔اعجاز جاکھرانی کے بیان پر وزیراعظم نے کھڑے ہوکر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الزام نہیں لگایا بلکہ یہ کہا کہ جس کے پیٹ میں درد ہے بات کرلے، روز روز کے تماشے مت لگائیں، ملک کو چلنے دیں۔ اپوزیشن ارکان نے وزیر اعظم کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے شیم شیم اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کہ نعرے لگائے ، وزیر اعظم کے بیان پر اپوزیشن نے احتجاجاً ایوان سے واک آئو ٹ کیا۔منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر اس معاملے کو بڑھانا ہے تو پارلیمنٹ نیشنل ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بنائے مجھے کوئی اعتراض نہیں، کمیشن بنانا ہے تو بالکل بنائیں اور کمیشن بننا بھی چاہیے،ماضی میں جانا ہے تو پارلیمنٹ کمیشن بنا دے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، میں نے وضاحت سے بیان دے دیا ہے، سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے کریں۔ اس موقع پر اپوزیشن کی طرف سے ”پیٹ میں درد”کے الفاظ کے استعمال پر احتجاج کیا گیا اور ”مودی کا جو یار ہے غدار ہے، غدار ہے”کے نعرے لگائے گئے، اپوزیشن نے اس معاملے پر واک آئوٹ بھی کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اگر یہ الفاظ کسی رکن اسمبلی کے بارے میں ہیں تو میں اس لفظ کو حذف کرتا ہوں، اگر باہر سے کسی کے بارے میں ہیں تو میں ان الفاظ کو کو حذف نہیں کروں گا۔

Facebook Comments
Share Button