تازہ ترین

Marquee xml rss feed

جہانگیر ترین نے تحریک انصاف کیلئے ایک اور مشکل ترین کام کر دکھایا بلوچستان عوامی پارٹی کے تحفظات دور کرکے قومی اسمبلی میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے امیدوار ... مزید-وطن عزیز کے استحکام اور بقاء کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرنا ہو گا، شیخ آفتاب احمد-حکومت سازی، عمران خان کی زیر صدارت اہم امور پر مشاورت-نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مزارِ قائد میں داخلے سے روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت پی پی سے بلاول ہائوس کی حفاظتی دیوار گرانے کی بات کرنے کا بیان دیا تھا، بلاول ہائوس ... مزید-عمران اسماعیل سے گورنرشپ کاعہدہ ہضم نہیں ہورہااگر انہوں نے بدزبانی بند نہیں کی تواحتجاج کریں گے، نثار احمد کھوڑو-انصاف اور مساوات کے رہنما اُصولوں پر گامزن ہوکر ہی پاکستان کو دنیا کا ماڈل بنایا جاسکتا ہے ،سربراہ پاکستان سنی تحریک موجودہ نئی حکومت سے اُمید ہے کہ وہ ملک وقوم کی ترقی ... مزید-صوبائی حکومت انفرا اسٹرکچر، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی، مراد علی شاہ-پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے لاتعداد اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، ملک خرم شہزاد-نومنتخب ممبر قومی اسمبلی کو شہری پر تشدد کرنا مہنگا پڑ گیا تحریک انصاف نے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردی-لوڈشیڈنگ کے دعوے دھرے رہ گئے ․ پارلیمنٹ لاجز میں بجلی کی طویل بندش ، 282 کے قریب ارکان اسمبلی کو شدید مشکلات کا سامنا ، آئیسکو معقول وجہ بتانے سے قاصر رہا

GB News

اپوزیشن کاپارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کااعلان

Share Button

گلگت بلتستان کی متحدہ اپوزیشن نے اگلے ایک ماہ کے دوران وزیر اعلیٰ کیخلاف عدم اعتمادلانے اور مجوزہ ڈمی پیکیج گلگت بلتستان آرڈر 2018 کیخلاف رواں ماہ 19اور 20مئی کو پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں احتجاجی جلسوں کا اعلان کیا ہے قائدحزب اختلاف کیپٹن (ر) شفیع خان نے منگل کے روز متحدہ اپوزیشن کے اراکین پی پی کے جاوید حسین ،تحریک انصاف کے راجہ جہانزیب خان ،ایم ڈبلیو ایم کی بی بی سلیمہ ، نواز خان ناجی اور کاچو امتیاز حیدر کے ہمراہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو گلگت بلتستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مسترد کیا ہے اس لئے ہم سپیکر قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد کی جانب سے وزیراعلیٰ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تجویز کو بھی مسترد کرتے ہیں کیونکہ جس گورننس آرڈر کو ہم مانتے نہیں اس پر مذاکرات کرنا قومی حقوق کو نقصان پہنچانے اور عوامی مفاد کے برعکس اقدام اٹھانے کے مترادف ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر اس آرڈر کو مسترد کرتے ہوئے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے ۔ اس آرڈر کے نقائص کو میڈیا کے زریعے بھی سامنے لایا ہے اور عوام میں بھی گئے ہیں مگر بادشاہ حفیظ الرحمن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اسی لئے اب فیصلہ کیا ہے اگلا قدم باقاعدہ اسلام آباد پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے ۔19اور 20مئی کو دھرنے میں گلگت بلتستان سے بڑی تعداد میں لوگ خود شریک ہونگے اور اسلام آباد ،راولپنڈی میں مقیم جی بی کے تمام لوگ بھی شرکت کریںگے ۔ حفیظ الرحمن نے مجوزہ آرڈر کے حوالے سے نہ صرف تمام سٹیک ہولڈرز کوا عتماد میں نہیں لیا ہے بلکہ اپنی پارٹی والوں کو بھی کالی پٹی پہنائی ہے ۔ کیپٹن (ر) محمد شفیع نے صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال کو بالخصوص اور دیگر لیگی ممبران کو بالعموم دعوت دی کہ وہ بھی قومی مفاد کے اس اہم معاملے میں اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دیں کیونکہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اس سے قبل بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے کے لئے جہاں سے بھی دعوت ملے اور محرکین جو بھی ہوں میں شرکت کرتا ہوں۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ اگر لیگی ممبران میں علاقائی غیرت اور اپنے حقوق کی فکر ہے تو ہمارے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا مطالبہ مکمل آئینی صوبہ تھا ریاست کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے ہم نے سرتاج عزیز کی سفارشات کے مطابق نئے سیٹ اپ کو قبول کرنے کی حامی بھرلی مگر بعد میں سرتاج عزیز کی سفارشات کو بھی مکمل تبدیل کردیا گیا ۔ ریاست کے مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیدیں ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رکن جاوید حسین نے کہا کہ ہم نے 70سال آئینی صوبے کے حصول کی جدوجہد میں ضائع کردئے ہیں اب مزید100سال اس پر ضائع نہیں کرسکتے ہیں آزاد کشمیر طرز کے نظام میں غیر مقامی افراد زمین نہیں خرید سکتے ہیں اور صرف مقامی افراد ہی اس کے شہری ہوتے ہیں ، ٹیکس کا نظام آزاد کشمیر کا اپنا ہے اور مخصوص فارمولے کے مطابق وفاق سے معاملات طے ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں چیف جسٹس سمیت تقریباً سبھی عہدے مقامی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا باضابطہ اعلان کررہے ہیں یہ اعلان گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن ممبران کا متفقہ فیصلہ ہے آئندہ پندرہ دنوں کے اندر اندر تحریک عدم اعتماد کا پھل نظر آئیگا کیونکہ حافظ حفیظ الرحمن کو اب ہم مزید برداشت نہیں کریںگے حفیظ الرحمن کے ساتھ ہمارے کوئی زاتی اختلافات نہیں ہے مگر جب سے وزیراعلیٰ بنا ہے تب سے اب تک علاقے کے مفاد میں ایک روپیہ کا کام نہیں ہواہے اور تین سالوں تک عوام کو دھوکے میں رکھ کر آخر میں علاقے کا سودا کرنے کی تیاری کی ہے ہم اس کو مسترد کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اس آرڈر کو رکوانے کے لئے ہر اقدام اٹھائیںگے ۔ رکن اسمبلی راجہ جہانزیب نے کہا کہ تحریک انصاف کی مرکزی جماعت تحریک عدم اعتماد اور گورننس آرڈر کے خلاف تحریک میں ہمارے پیچھے کھڑی ہے ۔ہم نے چار سال محنت کرکے لاہور کے ٹائی ٹینک سے جان چھڑائی ہے ہمارا مسلم لیگ ن پر کبھی اعتبار ہی نہیں رہا ہے تو اعتماد کیسے کریں۔ صوبائی حکومت کو مہلت دی گئی کہ وہ اپنے معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں مگر آئے روز معاملات بد سے بدتر ہوتے گئے جس کے بعد تحریک عدم اعتماد کی جانب رخ کرنا ہماری مجبوری بن گئی اب ہم پوائنٹ آف نوریٹرن پر پہنچ چکے ہیں۔ رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے کہا کہ میں نے زاتی طور پر اسمبلی میں قراردادکی بھی مذمت کی تھی مگر علاقائی مفاد کی خاطر میں آزاد کشمیر طرز کے نظام پر متفق ہوگیا ہوں۔ آزاد کشمیر کا نظام آئین کے تحت دیا گیا ہے مگر گلگت بلتستان کو صرف صدارتی آرڈیننس کے تحت نظام دئے جارہے ہیں آئین کے تحت بھرتی ہونے والے تحصیلدار کی بھی اپنی حیثیت ہوتی ہے مگر آرڈر کے تحت وزیراعلیٰ کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ممبران نے متفقہ طور پر گلگت بلتستان آرڈر 2018کومسترد کردیا ہے اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور تحریک جاری ہے ۔حافظ حفیظ الرحمن پر ہم نے کبھی اعتماد ہی نہیں کیا ہے تو اب عدم اعتماد کیسی ہوگی ۔ یہ عدم اعتماد اسمبلی کی تحریک اور ہوگی جس میں تمام قانونی ضروریات پورے کرکے اگلا قدم اٹھایا جائیگا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی کاچو امتیاز حیدر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان جب جی بی کونسل کے چیئرمین تھے تو اس وقت ان کے پاس کسی حد تک قانون سازی کے اختیارات موجود تھے مگر چونکہ اب کونسل بھی ختم کردی گئی ہے تو وزیراعظم کس حیثیت سے قانون سازی کے اختیارات استعمال کریںگے ۔ گلگت بلتستان میں قانون سازی کا اختیار صرف اسی کے پاس ہوگا جو جی بی کے عوام کا منتخب کردہ ہو ۔ کسی بھی ملک میں وزیراعظم کے پاس قانون سازی کے اختیارات نہیں ہیں مگر تاریخ میں پہلی مرتبہ جی بی کو ملنے والے آرڈر میں وزیراعظم کو قانون سازی کے بھی اختیارات دیئے گئے ہیں ۔

Facebook Comments
Share Button