تازہ ترین

Marquee xml rss feed

جہانگیر ترین نے تحریک انصاف کیلئے ایک اور مشکل ترین کام کر دکھایا بلوچستان عوامی پارٹی کے تحفظات دور کرکے قومی اسمبلی میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے امیدوار ... مزید-وطن عزیز کے استحکام اور بقاء کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرنا ہو گا، شیخ آفتاب احمد-حکومت سازی، عمران خان کی زیر صدارت اہم امور پر مشاورت-نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مزارِ قائد میں داخلے سے روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت پی پی سے بلاول ہائوس کی حفاظتی دیوار گرانے کی بات کرنے کا بیان دیا تھا، بلاول ہائوس ... مزید-عمران اسماعیل سے گورنرشپ کاعہدہ ہضم نہیں ہورہااگر انہوں نے بدزبانی بند نہیں کی تواحتجاج کریں گے، نثار احمد کھوڑو-انصاف اور مساوات کے رہنما اُصولوں پر گامزن ہوکر ہی پاکستان کو دنیا کا ماڈل بنایا جاسکتا ہے ،سربراہ پاکستان سنی تحریک موجودہ نئی حکومت سے اُمید ہے کہ وہ ملک وقوم کی ترقی ... مزید-صوبائی حکومت انفرا اسٹرکچر، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی، مراد علی شاہ-پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے لاتعداد اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، ملک خرم شہزاد-نومنتخب ممبر قومی اسمبلی کو شہری پر تشدد کرنا مہنگا پڑ گیا تحریک انصاف نے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردی-لوڈشیڈنگ کے دعوے دھرے رہ گئے ․ پارلیمنٹ لاجز میں بجلی کی طویل بندش ، 282 کے قریب ارکان اسمبلی کو شدید مشکلات کا سامنا ، آئیسکو معقول وجہ بتانے سے قاصر رہا

GB News

جھوٹی امیدیں نہیں، گلگت بلتستان کو آئینی اور قانونی حقوق دیئے جائیں، فرحت اللہ بابر

Share Button

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگر تمام دیگر قوانین گلگت بلتستان میں نافذ کیے گئے اور انسانی حقوق سے متعلق قوانین نافذ نہیں کئے گئے، وہ شہید بھٹو فائونڈیشن کی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے بارے منعقد کرائے گئے ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سیمینار سے انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد ، پی پی پی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین، جے یو آئی کے مولانا عطااللہ کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جی بی کے عوام تمام ٹیکس دیتے ہیں، انہیں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے اور اس کی پاکستانی فوج میں بھرتیاں کی جاتی ہیں لیکن انہیں قومی اسمبلی میں نمائندگی نہیں دی جاتی اور ان کی مقامی اسمبلی میں انہیں اہم قوانین بنانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کے عوام کو جسمانی اور دانشوارانہ طور پر ایک اندھیرے گڑھے میں پھینک دیا گیا ہے۔ انہیں نیشنل گریڈ سے بھی منسلک نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کا کوئی علیحدہ سے تعلیمی بورڈ موجود ہے۔ جی بی کے عوام کو جھوٹی امیدوں اور وعدوں پر زندہ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر انہیں انسانی حقوق اس لئے نہیں دئیے گئے کہ وہ ایک متنازعہ علاقے میں رہتے ہیں تو پھر سی پیک وہاں سے کیوں گزر رہی ہے اور بھاشا ڈیم کا منصوبہ وہاں کیوں بنایا گیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کے تمام صوبائی دارالحکومتوں اور جی بی میں ایک ساتھ سیمینار منعقد کئے جائیں کہ جی بی کے عوام کی آواز کو انسانی حقوق کے کارکنوں کو جیل میں ڈال کر کیوں خاموش کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے امپاورمنٹ آرڈر 2018ء کے مجوزہ آرڈر کے متعلق کہا کہ یہ جی بی کے عوام کی توہین ہے کہ قانونی سازی کے تمام اختیارات اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو دے دئیں جائیں جو کبھی اس علاقے میں گیا ہی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کی وجہ سے بڑی تعداد میں جی بی سے نقل مکانی ہوئی لیکن اس پر کبھی بات نہیں ہوئی اور جی بی کے عوام کی زمینوں کو اسٹریٹجک وجوہات بتا کر قبضے میں لے لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کوان کے آئینی اور قانونی حقوق دینے چاہئیں نوجوان طبقہ انتہائی اخترام اور با ادب طریقے سے اپنے جائز مطالبا ت سامنے رکھ رہے ہیں ۔گلگت بلتستان کے عوام میں شعو ر آگیا ہے اب وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے قدرتی وسائل پر ریاست پاکستان کا قبضہ ہونے کے باوجو د ان کو قومی و سینیٹ اسمبلیوں میں نمائندگی نہیں دی جاری ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام کو تاثردیا جارہا ہے کہ ان کے بنیادی حقوق متنازعہ ہے جبکہ دولت وقدرتی وسائل غیر متنازعہ ہے18ترمیم کے بعد صوبوں کو بنیادی حقوق دیئے گئے جبکہ جی بی کی عوام کو نظر انداز کردیا گیا۔انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہر شہر میں ایک ہی وقت اور ایک ہی موضوع پر جی بی کی عوام کو سیمینار اور پروگرامز منعقد کرنے کی ضرورت ہیں تاکہ جی بی کی عوام کی بنیادی حقو ق کے بارے میں ریارست خبردار ہوجائے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے نوجوانوں سے خود سنا ہے کہ ریاست پاکستان نے ہمارے سے دھوکہ کیا ہے اور کررہے ہیں۔علی احمد جان نے کہا کہ گلگت بلتستان کی نامور شخصیت بابا جان کور ہا کیا جائے۔مولانہ عطاء اللہ شہاب نے کہا کہ جسطر ح سے زندہ قوموں کو جینے کا حق دیا جاتاہے گلگت بلتستان کی عوام کو بھی جینے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے کہتاہوں کہ گلگت بلتستان کو دیوار سے لگانے کے بجائے سینے سے لگائیں، ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی کشمیر سے جڑ اگیا، ان کا کہناتھا کہ اسلام آبادمیں میں ہمیشہ پرچیوں کی سیاست رہی ہے سی پیک میں ڈھائی سال سے کچھ جی بی کی عوام کچھ نہیں ملا۔امجد حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ایشوز کو سمجھنے کی ضرورت ہے بیس سے پچیس لاکھ کی آبادی پچھلے ستر سالوں سے اپنے ووٹ کا حق مانگ رہی ہے،جمہوری حق مانگ رہے ہیں۔جموں کشمیر بھی متنازعہ علاقہ مگر بھارت نے وہاں کے عوام کو بنیادی حقوق دیئے ہے،جی بی کی عوام کو خود مختار عدلیہ دی جائے۔ ان کا کہناتھا کہ یہاں ووٹ کو عزت دو کی بات تو کی جاتی ہے مگر ہم کہتے ہیں ہمیں ووٹ دینے کو حق توپہلے دیاجائے۔موجود ہ حکومت نے جو نیا پیکج دیا جس کے تحت تمام اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہونگے یعنی جس کو ہم عوام ووٹ نہیں دے سکتے ا س شخص کے پاس ہمارے اوپر حکمرانی کا حق ہوگا۔انہوں نے کہاکہ چائنہ ہماری وجہ سے پاکستان کا ہمسایہ ہے پورے ملک کے لئے ایک قانون ہونا چاہئے۔ماروی سرمد نے کہا کہ 2009میں پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ جی بی کو قانونی حیثیت دی، گلگت بلتستان کونسل کا قیام عمل میں لایا گیاجوایک اسلام آباد اور جی بی کے درمیان ایک پل بنی۔انہوں نے مزید کہا کہ جی بی کے سارے اختیارات وزیر اعظم کو سونپ دینا زیادتی ہوگی۔گلگت بلتستان کو ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت ملنی چاہئے۔ڈاکٹر شریف نے کہا کہ جی بی مین سٹریم کا سب سے بڑا مسئلہ’مسئلہ کشمیر’ ہے، یہ تاثر پچھلے 70سالوں سے دیا جارہا ہے کہ اقوام متحدہ میں پیش کردہ قراردوں کی وجہ سے گلگت بلتستان متنازعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے لئے قربانی دی ہے ریاست پاکستان ہماری قربانیوں کا اعتراف کرکے ہمیں قومی اورسینیٹ اسمبلی میں نمائند گی دیں۔

Facebook Comments
Share Button