تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیر اعظم عمران خان کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری، سعودی حکام کی جانب سے روضہ رسولﷺ کے دروازے خصوصی طور پر کھول دیئے گئے-آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی چین کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل یانگ یوشیا سے ملاقات کی، دہشتگردی کے خاتمے، ہتھیاروں و سازوسامان کی ٹیکنالوجی اور ٹریننگ ... مزید-ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی خاتون نے ٹرک چلانا شروع کر دیا ناگرپارکر سے تعلق رکھنے والی خاتون مالی مشکلات کی وجہ سے ڈاکٹر نہیں بن سکی تھی-موسمیاتی تغیرات کے اس دور میں بجلی پیدا کرنے کیلئے ایٹمی توانائی کا استعمال امید افزاء آپشن ہے، ہم پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے فروغ کیلئے آئی ... مزید-سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں، وزیراعظم عمران خان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،سعودی عرب اور پاکستان دنیا میں اسلام کی حقیقی ... مزید-کیا کل نواز شریف اور مریم نواز کی سزا معطل کی جا رہی ہے؟ نیب عدالت کو مطمئن نہیں کر پا رہی اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ معاملات کس طرف جا رہے ہیں،ملزمان کا پلڑہ بھاری نظر آ ... مزید-اسد عمر اور اسحاق ڈار میں کوئی فرق نہیں اسد عمر نے بھی اعدادو شمار کا ہیر پھیر کر کے اسحاق ڈار والے کام کیے-پی ٹی آئی نے جو منشور دیاتھا اور جو اعلانات کیے ، ان پر عملدرآمد حکومت کا امتحان ہے ‘سراج الحق عوام نے انہیں گیس ، بجلی اور پٹرول مہنگا کرنے کے لیے نہیں، سستا کرنے کے ... مزید-اہل بیت کی عظم قربانی درحقیقت پوری امت مسلمہ کے لئے درخشاں مثال ہے‘چوہدری محمد سرور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی ... مزید-وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے مختلف شعبوں کا معائنہ

GB News

گفت و شنید سے معاملات کو حل کیا جائے

Share Button

گلگت بلتستان آرڈر 2018کے خلاف متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی ریلی پر پولیس کے لاٹھی چارج،آنسو گیس کی شیلنگ اورہوائی فائرنگ سے متعدد احتجاجی رہنما زخمی ہو گئے’صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اسمبلی اور سی ایم سیکرٹریٹ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ریڈزون بناہوا ہے اس دوران گلگت میں کئی جلسے جلوس ہوئے حکومت نے کسی قسم کی طاقت کا استعمال نہیں کیاکیونکہ احتجاج عوام کا جمہوری اور قانونی حق ہے ،تاہم آج کے روز اپوزیشن کے چند ممبران اور کچھ دیگر افراد نے ریڈ زون میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی اور پولیس سے بدتمیزی کی جس پر پولیس اور مظاہرین میں تھوڑی تلخی ہوئی اور پھر انتظامیہ اور پولیس نے ان کو منتشر کردیا،انہوں نے کہا کہ جمہوری انداز میںاحتجاج کرنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ہم تواتر کے ساتھ انہی کالموں میں یہ عرض کرتے رہے ہیں کہ معاملات ہمیشہ مذاکرات اور گفت و شنید سے ہی حل ہوتے ہیں مگر یہ سب جاننے کے باوجود مذاکرات کی بجائے احتجاج کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے بے چینی و بدامنی پیدا ہوتی ہے اور بلا آخر اس کا نتیجہ نقصان ہی کی صورت میں نکلتا ہے اپوزیشن کے لیے اسمبلی کا فلور موجود ہے جہاں وہ اپنے تحفظات و خدشات ریکارڈ کرا سکتے ہیں لیکن ہم نے شاید سڑکوں پر نکلنا معمول بنا لیا ہے اور یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ یہ مسائل کے حل کا واحد طریقہ ہے’ہمارے ہاں احتجاج کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ احتجاج کتنا ہی کیوں نہ شدید ہوں مسائل کے لیے مذاکرات ہی کیے جاتے ہیں’جب یہ کہا جا رہا ہے کہ 2009کے سلف گورننس آرڈر کے تحت بننے والی گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی اب گلگت بلتستان اسمبلی کہلائے گی اور اس کو مکمل قانون سازی کے اختیارات ہونگے پطر یہ الزام کیوں کہ تمام اختیارات وزیراعظم کو دے دیے گئے ہیں جبکہ اس آرڈر کے مطابق وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پاس وہی اختیارات ہونگے جو 18ویں ترمیم کے بعد پاکستان کے دیگر صوبوں کو حاصل ہیں’سوال یہ ہے کہ وزیراعظم جس کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں وہ کیوں یہ اختیارات حاصل کرنا چاہے گا؟ اس آرڈر کے مطابق انتظامی طورپر گلگت بلتستان کے تمام سول سرونٹس کے لیے وفاق اور دیگر صوبوںمیں ملازمت کرنے کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں اور گلگت بلتستان کے سرکاری ملازمین پاکستان کے کسی بھی صوبے میں جا کر اپنے خدمات سرانجام دے سکتے ہیں اس آرڈر کے بعد فیڈرل پی ایس ڈی پی کے تمام پراجیکٹ کے پرنسپل اکائونٹنگ آفیسر چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ہونگے جبکہ پہلے چیف سیکرٹری کو ان پروجیکٹس کی میٹنگ کے حوالے سے سال میں کم از کم دو سو دن اسلام آباد میں گزارنا پڑتے تھے اب وہ گلگت بلتستان میں ہی ہونگے۔جمہوری اندازمیں احتجاج ریکارڈ کرانا سب کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ اچھی بات ہے لیکن اس کے لیے مثبت راستہ بھی اختیار کیا جانا چاہیے’اتحاد، اتفاق، وحدت اور یکجہتی بڑے مؤثراورمعنیٰ خیز الفاظ ہیں۔اتحاد کا عوامی یا رائج مفہوم جسے میڈیا اور امن کمیٹیوں کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، خواہ وہ غلط ہو یا صحیح۔ لوگ اگر کسی جگہ جمع ہوتے ہیں تو وہ صحیح وغلط کا ایسا آمیزہ تیار کر لیتے ہیں جو ان کے نزدیک صحیح ہوتا ہے در اصل یہی وہ عوامی مفہوم ہے جو ملکی سطح تک پھیل چکا ہے۔ اس مفہوم کی روشنی میں حسبِ ذیل اْصول ونتائج سامنے آتے ہیں: اتحاد واتفاق کا مفہوم یہ ہے کہ مختلف افکار واخیالات اور نظریات کے لوگ ایک جھنڈے، عنوان یا جماعت کے تحت جمع ہو جائیں۔وہ جس فورم پر متحد ہیں، علیٰ الاعلان باہمی اختلاف اور متنازعہ اْمور کو ہوا نہ دیں۔ جبکہ فورم سے دور ہوں تو کوئی پابندی نہیں، لہٰذا یہی شخص جب اپنے ہم نواؤں میں جاتا ہے تو دوسرے کمرے میں جن سے اتحاد کی باتیں کر رہا تھا، اب ان مخالفین کی کھل کر مخالفت کرتا ہے۔ غرضیکہ یہ اتحاد ان لمحات تک محدود ہوتا ہے جب مختلف نظریات کے لوگ جمع ہوں۔آج کل اسی اتحاد کی دعوت دی جاتی ہے، گویا یہ مفہوم رائج ہو چکا ہے کہ اجسام ایک جگہ نظر آئیں، چاہے اذہان وقلوب بکھرے ہوئے ہوں۔اتحاد کے اس خودساختہ مفہوم کو اس قدر پھیلایا گیا ہے کہ عام ذہن اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ قرآن نے جس اتحاد واتفاق کا درس دیا ہے وہ یہی اتحاد ہے۔جو شخص اس خود ساختہ اتحاد کے مفہوم سے سرموانحراف کرتا ہے، لوگ اسے امن کا دشمن،اتحاد کا مخالف سمجھتے ہیں اور اسے معاشرتی ناسور قرار دیتے ہیں۔اس اتحاد کی دعوت دینے والے اور اسے اختیار کرنیوالے عموماً دوغلی پالیسی یا دوہرے کردار کے حامل ہوتے ہیں ۔ اتحاد کی اس پالیسی کے تحت بہت سے لوگ اپنے غلط نظریات کو درست سمجھ کر اسی پر جمے رہتے ہیں۔کیونکہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہی درست ہیں ۔اس اتحاد کی دعوت دینے والے دراصل خود اتحاد کے بہت بڑے مخالف ہوتے ہیں کیونکہ اْنہوں نے اپنے غلط نظریات کو اتحاد واتفاق کی چھتری تلے تحفظ دینا ہوتا ہے۔جو لوگ مذکورہ اتحاد کے نقیب اور پیامبر ہیں، وہ متعدد دلائل بھی دیتے ہیں وہ کہتے ہیں امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اتحاد کی یہ صورت قائم رہے کیا ایسا ممکن ہے کہ دو علیحدہ نظریات کے لوگ اپنے ہم نواؤں میں اپنے نظریے کا پرچار اور دوسرے کے نظریے پر بات نہ کریں؟ یہی وجہ ہے کہ اب تک اس اتحاد کی جتنی بھی کاوشیں ہوئی ہیں، وہ جزوقتی اور بے نتیجہ رہیں۔ لہٰذا باہمی اتحاد کی کوشش تو کی جا سکتی ہے مگر ہر مسئلے کا حل اس خود ساختہ اتحاد و احتجاج کو سمجھ لینا کافی نہیں۔جو لوگ اس اتحادی قافلے کے سرخیل ہوتے ہیں، جب ان کی طبع نازک پر کچھ گراں گزرتا ہے تو فوراً اس اتحاد سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور مفادات کی حد تک ساتھ منسلک رہتے ہیں۔اختلافات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن کی سطح اور علم کا معیار بھی ایک جیسا نہیں۔ ان اختلافات کو دبا کر رکھنا اور انہیں اپنی تحقیق وتجسس سے حل نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے راکھ میں ایک چنگاری سلگتی رہنے دی جائے، پھر جب اسے موقع ملتا ہے تو وہ بھڑک اْٹھتی ہے۔اختلافات کوسامنے لانا چاہیے لیکن ایک طریقے سے یہ درست ہے کہ اختلافات حل کرنے چاہئیں، نہ کہ دبائے جائیں۔ اختلاف کو حل نہ کرنا بلکہ دبا دینے سے ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص زندگی بھر شک کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کونسا موقف درست ہے اور کونسا غلط’دوریاں اور نفرتیں اختلافات حل کرنے سے ختم ہو تی ہیں، نہ کہ اختلافات دبانے سے۔اتفاق سے مراد یہ ہے کہ دل باہم جڑے ہوئے ہوں۔ دلوں میں نفرت نام کی چیز نہ ہو، اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراوانی ہو۔گویا وہ اتحاد اتحاد نہیں ہے جس میں دل جدا جدا ہوں کیونکہ جب دیواروں میں دراڑیں پڑ جائیں تو دیواریں گر جاتی ہیں اور دلوں میں دراڑیں آجائیں تو دیواریں بن جاتی ہیں۔یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے جس پر گفتگو نہ کی جا سکے یہ پورے خطے کا معاملہ ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی فریق خطے کے مفادات کا دشمن ہے کیونکہ کسی کو کسی سے علاقے کا محب ہونے کا سرٹیفیکیٹ لینے کی صرورت نہیں نہ ہی یہ بانٹے جانے چاہیں سب خطے کے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں تو اختلافات کو کیوں باہم مل کر حل نہیں کیے جا سکتا’اس رویے کو اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی اختیار کرنا ہوگا۔اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ آرڈر کے ایک ایک نکتے پر بحث کی جائے اور جہاں ترمیم کی ضرورت محسوس ہو اس پر گفت و شنید کر کے اسے حل کرنے یا کرانے کے لیے کردار ادا کیا جائے ۔

Facebook Comments
Share Button