تازہ ترین

Marquee xml rss feed

گاڑیوں اور بھینسوں کے بعد 11کھلاڑی بھی نیلام کیے جائیں کھلاڑی نیلام کرنے سے تین ہزار ارب GB ڈیٹا اور 20 ہزار میگا واٹ سالانہ بجلی کی بچت ہو گی جو قوم کرکٹ میچ دیکھنے میں خرچ ... مزید-پنجاب کو آ پریٹو بینک اور سوسائٹی کے ریکارڈ روم میں آگ لگائے جانے کا انکشاف آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں بلکہ پٹرولیم سے لگائی گئی تھی،جس وقت آ گ لگی اس وقت چوکیدار بھی موجود نہیں ... مزید-نواز شریف روزانہ بیگم کلثوم نواز کی قبر پر کچھ وقت گزارتے ہیں نواز شریف کو پچھتاوا ہے کہ وہ آخری وقت میں کلثوم نواز کے ساتھ نہیں تھے-پاکستان چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کو دنیا کی جدید ترین بندرگاہ بنا کر سمندری راستے سے عالمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہا ہے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ... مزید-امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے دورے کی دعوت، ویزے آسان بنانے کی کوشش جاری ہے امریکا میں پاکستان کے سفیر علی جہانگیر صدیقی کی ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور سے ... مزید-سابق صدر پرویز مشرف کی دبئی میں 4.5 ملین سے زائد کی جائیداد سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں جائیدادوں کی تفصیل سامنے آ گئی-وزیراعظم عمران خان کا آج قوم سے خطاب متوقع وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب میں اہم اعلان کریں گے-کیپٹن (ر) صفدر کو بیرون ملک بھیجنے کی تیاریاں کیپٹن (ر) صفدر کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے-ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت یقینی ہے،لیاقت خان خٹک-چترال میں چینی انجینئرزکی گاڑی کوحادثہ ، 6 افراد زخمی

GB News

ایران سے رابطوں کے الزام میں سعودی عرب نے 4 افراد کو سزائے موت دیدی

Share Button

ریاض: سعودی عرب کی عدالت نے حریف ملک ایران سے تعلقات کے شبے میں 4 افراد کو سزائے موت سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ یہ مبینہ طور پر اہم شخصیات کو قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے جبکہ کرمنل کورٹ نے مذکورہ افراد کو ایران کے لیے گروہ تشکیل دینے پر سزائے موت سنائی۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے صرف یہ بتایا کہ مذکورہ ملزمان ایران سے تربیت لے کر آئے تھے اور اہم شخصیات کے قتل کی سازش کررہے تھے۔

سعودی عرب اور ایران طویل عرصے سے ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور ان کے باہمی تنازع نے شام سے لے کر یمن تک پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

خیال رہے دسمبر 2016 میں ایک سعودی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں 15 افراد کو سزائے موت سنائی تھی، جن کے بارے میں ذرائع کا کہنا تھا کہ زیادہ تر افراد اہل تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سے قبل دونوں ممالک میں کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوگیا تھا جب سعودی عرب نے شیعہ مکتبہ فکر کے اہم مذہبی رہنما نمر باقر النمر کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت دے دی تھی، جو حکومت مخالف مظاہروں کے پس پردہ اہم قوت سمجھے جاتے تھے

یاد رہے کہ قدامت پسند ملک سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں دہشت گردی، ریپ، قتل، اسلحہ کے زور پر ڈکیتی اور منشیات کی اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ اس ضمن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سعودی عرب کی عدالتوں میں چلائے جانے والے ان مقدمات کی منصفانہ کارروائی پر مسلسل خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کا موقف ہے کہ موت کی سزا دیئے جانا مستقبل میں جرائم کے لیے نمونہ عبرت ثابت ہوتا ہے۔

Facebook Comments
Share Button