تازہ ترین

Marquee xml rss feed

لاہور، جو لوگ محض ذاتی مفادات کی خاطر اپنی وفاداریاں بدل کر ہر موسم میں لوٹا کریسی کامظاہرہ کرتے ہیں،حافظ محمد ادریس وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ، اگر عوام میں نچلی سطح ... مزید-کوئٹہ،نیشنل پارٹی کے سربراہ وسینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور 2018 کا اعلان کر دیا تمام ریاستی اداروں کو پارلیمنٹ کے موثر کنٹرول میں لایا جائے ... مزید-کوئٹہ،تحریک انصاف عوام کے دلوں کی دھڑکن بن کی چکی، فیصل خان کاکڑ عوام کے ووٹوں کی طاقت سے کامیاب ہو کر ایوان میں پہنچ کر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرینگے، پی بی25 سے ... مزید-کوئٹہ ،عید الفطر کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد عام انتخابات کی سر گرمیاں شروع پشتونخوامیپ بلوچستان نیشنل پارٹی ،نیشنل پارٹی ، ایم ایم اے ، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی ... مزید-اکابرین کے نقش قدم پر چل کرملکی آئین کے تحت پشتونوں اور دیگر اقوام کے حقوق کے لئے اپنا کردار ادا کرینگے،انجینئر زمرک خان اچکزئی-ژوب کے عوام کے حقوق کے لئے ہر دور کا مقابلہ کیا ہے ،شیخ جعفر مندوخیل-پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر بلوچستان سے احساس محرومی ختم کریگی،وحید بلوچ-قلات اور گرد و نواح میں تیز ہوائوں اور گرد و غبار سے معمولات زندگی متاثر-پچیس جولائی کو انشاء اللہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جیت ہوگی،سردار محمد عمرگورگیج-انتخابات میں ان سیاسی قو توںکا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے جنہوں نے اقتدارمیں آکر بلوچ کاز کو نقصان پہنچایا ،میر اسداللہ بلوچ عوام کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کو پایہ تکمیل تک ... مزید

GB News

قراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی غور طلب باتیں

Share Button

قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کہا ہے دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کوجدید تعلیم اور سہولیات سے آراستہ کر کے آگے بڑھنا ہوگا’آج ہر بچے کا خواب ہے کہ وہ فلاسفر’ڈاکٹر اور انجینئر بنے اگر ہم نے اپنے بچوں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہ کی اور ان کے خوابوں کی تعبیر میںغفلت وکوتاہی کا مظاہرہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی’انہوں نے کہا دیامر کے لوگ جدید دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے اپنے رسوم و رواج کے اندر رہتے ہوئے اپنی بچیوں کو تعلیم دلوائیں’مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ ٹیلنٹ ہوتا ہے’دیامر کے لوگ بچیوں کی تعلیم پر زور دیں اگر ہم ایک بچی کو تعلیم یافتہ بنائیں گے تو وہ پورے خاندان کی داغ بیل ڈالتی ہے اس لیے بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہجس گھر میں تعلیم یافتہ عورت موجود ہو وہ گھر بذات خود ایک یونیو رسٹی ہے۔انسان بنیادی علوم ماں کی گود سے ہی سیکھنا شرو ع ہو جاتا ہے۔ماں کی گود سے ہی علم کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ جاہل اور علم سے عاری ماں علم کی شمع کیسے روشن کر سکتی ہے۔جب کہ وہ خود اندھیرے میں ہے۔تعلیم انسان کے لئے اسی طرح ضروری ہوتی ہے جیسے آکسیجن زندگی کی حیات کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان بالکل حیوان کی مانند ہے، یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کو عقل و شعور سے مالا مال کرتی اور زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کرتی ہے اور بغیر علم کے انسان کبھی بھی سیدھی راہ پر نہیں چل سکتا، علم ہی انسان کو راہ حق کی طرف لے جاتا ہے، تعلیم کی اہمیت کے بارے میںتقریباً سبھی لوگ بخوبی واقف ہیں اور اسی وجہ سے سبھی لوگ تمام زندگی حصول علم کے لئے صرف کر دیتے ہیں قرآن و احادیث میں بھی علم پر بہت زور دیا گیا ہے۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جو بھی ملکی تعمیرو ترقی کے لئے کوشاں ہے وہ اپنی اس ترقی کے سفر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شمولیت کا بھی متلاشی ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے اور خواتین جو اس سلسلے میں اپنا کردار سرانجام دے رہی ہیں اس کی اہمیت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا خواتین بھی مردوں کی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور ان کے ساتھ شانہ بشانہ کام کررہی ہیں۔ یہ صرف اس وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ وہ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہیں، ویسے تو حصول علم پر مرد و زن کا حق ہے لیکن مردوں کی نسبت خواتین کیلئے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے، کیونکہ انہوں نے آنے والی نسل کی تربیت کرنا ہوتی ہے۔آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہے پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریباً 51فیصد ہیں اسی وجہ سے ان کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ پڑھی لکھی مائیں اپنے بچے کی صحت و تعلیم و تربیت کا زیادہ بہتر طور پر خیال رکھ سکتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کے بچے زیادہ توانا اور تعلیم کے میدان میں کامیاب ہوتے ہیں، اس کے برعکس ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی خواتین اپنے بچوں کا ویسا خیال نہیں رکھ سکتیں جس طرح سے ان کی دیکھ بھال کرنی چاہئے، ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچے زیادہ بیماریوں کا شکار رہتے ہیں کیونکہ وہ حفظان صحت کے مطابق اپنے بچوں کی پرورش نہیں کرتیں،جبکہ پڑھی لکھی مائیں شروع دن سے ہی بہتر خیال رکھتی ہیں اور خوراک کی وجہ سے صحتمند بھی رہتی ہیں۔ان تمام دلیلوں سے یہ ظاہر ہے کہ بہترین قوم اس وقت بنتی ہے جب مائیں پڑھی لکھی باشعور اور سمجھدار ہوں، آج جب انٹرنیٹ، کھیل اور ویڈیو گیمز بھی بچوں کے اخلاق کو بگاڑتے ہیں تو باشعور ماں ہی ہے جو اِن تمام اثرات سے اپنے بچوں کو بچا سکتی ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت درست طور پر کر سکتی ہیں، کیونکہ تعلیم یافتہ باشعور ہونے کی وجہ سے وہ اچھے برے کی تمیز بہتر طور پر کر سکتی ہے جو اس کے بچوں کو ایک اچھا انسان اور ایک اچھا شہری بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔پاکستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی افسوس ناک حد تک کم ہے، لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہاں تعلیمی اداروں کا فقدان ہے وہاں پر تعلیمی ادارے تو ہیں مگر وہاں کے گھر کے سربراہان خواتین کو تعلیم دلوانے کا رجحان نہیں رکھتے ،کیونکہ ان کے خیال میں تعلیم کے حصول کے بعد وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے اور پڑھ لکھ کر خاندان کی بدنامی کا باعث بنیں گی، ان علاقوں کی خواتین تعلیم کی خواہشمند ہیں، مگر خاندانی رسم و رواج کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہیں، اس کے ساتھ ساتھ گھر والے بھی لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر توجہ نہیں دیتے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں مختلف اقدامات کرے تاکہ یہ خواتین بھی تعلیم حاصل کر سکیں اور آئندہ آنے والے وقت میں آنے والی نسلوں اور ان کی بہترین نشوونما کر سکیں نیز اپنی صلاحیتوں کو بھی استعمال میں لاسکیں۔گزشتہ چند سال میں ہمارے ہاں خواتین میں تعلیم کے حصول کا شعور اجاگر ہوا ہے جس کی وجہ سے اب پہلے کی نسبت کافی تعداد میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم حاصل کررہی ہیں خواتین گھر کے سربراہ کی ناگہانی موت کی صورت میں یا اس کے کام کاج کے قابل نہ رہنے کی بناء پر گھر کا نظام چلانے کی ذمہ داری بھی بخوبی سنبھالتی ہیں، اس کے علاوہ آج کے اس دور میں جب مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے اور ایک کمانے والا اور دس کھانے والے ہیں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لئے خواتین بھی مردوں کے ساتھ کام کریں اور یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں کیونکہ بغیر تعلیم کے وہ کسی بھی قسم کی عمدہ نوکری حاصل نہیں کر سکتیں، اس لئے ہر خاتون کو تعلیم جتنی بھی ہو سکے ضرور دینی چاہئے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں اپنے پاؤں پر خود کھڑی ہو سکیں اور کسی دوسرے پر بوجھ نہ بنیں۔لیکن ان تمام باتوں کا مقصد ایک عورت کی وہ آزادی نہیں جس میں وہ سڑکوں پہ بے حیائی کی تصویر بن کر پھرتی رہیں۔ اسلام اور معاشرہ کسی صورت اس تعلیم کا حامی نہیں ہے۔خواتین یہاں باعزت طریقے سے اعلی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔علامہ اقبال تعلیم نسواں کو تمدن کی جڑ قرار دیتے ہیں، اس لئے اس کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے ہیںعورت ہر معاشرے کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا کہ مرد۔ تب ہی ترقی یافتہ سے لے کر ترقی پذیر معاشروں تک عورتوں کو اپنے جائز مقام اور مردوں کے مساوی حقوق کے لیے جدو جہد کرنا پڑ رہی ہے۔مشرق ہو یا مغرب، خواتین کا مقام وہاں کی معاشرتی اقدار اور روایات کے مطابق ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ دور میں دونوں ہی طرح کے معاشروں میں خواتین کے روایتی کردار میں تبدیلی آئی ہے۔ خواتین اب اپنی روایتی ذمہ داریاں پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا بڑھتا رجحان ہے۔ عورتوں کی تعلیم کی اہمیت کا شعور اب دنیا کے قدامت پسند معاشروں میں بھی اجاگر ہونے لگا ہے ۔تعلیم کے حصول کے لئے خواتین کو یکساں مواقع کی فراہم ہونے چاہئیں۔ تعلیم یافتہ خواتین قومی ترقی کے فروغ میں اہم کردار کی حامل ہیں۔ یہ امر ضروری ہے کہ خواتین تعلیم حاصل کریں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قومی ترقی کی رفتار تیز ہو کیونکہ تیز رفتار ترقی کیلئے خواتین کو اپنا مو ثر کردار اداکر سکتی ہیں ہے۔ صنفی امتیاز کے خاتمے اور یکساں حقوق کی فراہمی سے ہی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے، ملک کی نصف سے زائد آبادی کو ترقی کے دھارے سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ قومی ترقی کے مقاصد کے حصول کیلئے مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہے

Facebook Comments
Share Button