تازہ ترین

Marquee xml rss feed

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطے تحریک لبیک کے 322 رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا-سپریم کورٹ کا علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے جمع کروانے کا حکم-چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا تھر کا دورہ چیف جسٹس کے دورے کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آ گئے-خواجہ سعد رفیق ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں پیشی سابق وزیر ریلوے کو نیب اور پولیس کی تحویل میں عدالت میں لایا گیا-سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی تین رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ خالد داد لک ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک رکن بھی شامل ... مزید-لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب‘نون لیگ اور تحریک انصاف میں مقابلہ پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے سے 5 بجے تک جاری رہے گی-نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت‘فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی جواب الجواب دے رہے ہیں‘حسن، حسین کی پیش دستاویزات کو انڈورس ... مزید-صدر مملکت عارف علوی کی عمرہ کی ادائیگی صدر مملکت کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھولا گیا-گوگل پر احمق (Idiot) لکھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویردیکھیں کمپنی نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر مبینہ الزام کو مسترد کردیا-آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

GB News

نیب ریفرنسز،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث مقدمے سے الگ ہوگئے

Share Button

سینئر وکیل خواجہ حارث اور ان کی ٹیم نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحد گی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ہفتوں میں مکمل کرنے سے متعلق میرے موقف کو تسلیم نہیں کیا، ڈکٹیشن بھی دی کہ ایک ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کریں، مجھے عدالتی اوقات کے بعد بھی کام کرنے کی ڈکٹیشن دی گئی،ہفتے اور اتوار کو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا، ایسے حالات میں کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ پیر کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے عدالت سے وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست دائرکردی۔ خواجہ حارث نے موقف اختیارکیا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنسزنمٹانے کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا، ہفتے اوراتوارکو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا، سپریم کورٹ نے میرے موقف کوتسلیم نہیں کیا، دبا ئو میں کام نہیں کرسکتا، ایک ماہ میں عدالت انصاف نہیں کرسکتی ہے۔خواجہ حارث کے وکالت نامہ واپس لینے کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نوازشریف کوروسٹرم پربلایا اوراستفسار کیا کہ آپ کے وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا ہے، اب کس کو وکیل رکھیں گے، خواجہ صاحب کو راضی کرلیں جس پرنوازشریف نے کہا کہ اس حوالے سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔واضح رہے کہ خواجہ حارث تقریبا 9 ماہ کے بعد نواز شریف کے نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہوئے ہیں۔خواجہ حارث کے اس فیصلے کے بعد نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز بظاہر تعطل کاشکار ہوگئے ہیں اور جب تک سابق وزیراعظم کوئی اور وکیل ہائر نہیں کریں گے، کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔

Facebook Comments
Share Button