تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پی ٹی اے نے پرانے موبائلوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس لگا دیا پاکستان ٹیلی کمیونیشن اتھارٹی نے تاجروں کو پابند کیا ہے کہ پرانے موبائل بیچنے سے پہلے انہیں اس پر ٹیکس ادا کرنا ... مزید-آئی جی سندھ نے شہری کے پولیس کیساتھ نامناسب رویے کا نوٹس لے لیا-نواز شریف کی ضمانت پر اظہار تشکر کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی-عدالتی حکم پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا، ڈاکٹر شہباز گل مریم نواز کی درخواست پر کارڈیالوجی سینٹر جیل کے اندر بنایا گیا تھا ۔ کارڈیالوجی سینٹر میں 21 ڈاکٹرزاور 21 ٹیکنیشن ... مزید-نواز شریف کو ان کی ضمانت پر رہائی کے عدالتی حکم کی اطلاع جیل میں دی گئی-شکر ہے عدالت نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی، وزیر اعظم لندن میں سیل لگی ہوئی تھی اور نواز شریف وہاں شاپنگ کرنے کے لیے مچل رہے تھے، عمران خان-تاریخی شاہی قلعہ میں واقعہ شیش محل کی سیاحت کے لئے سیاحوں پر 100 روپے مالیت کا ٹکٹ لاگو کر دیا گیا-لاہورہائی کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا-اللہ تعالیٰ کا شکر ہے نواز شریف کو رہائی ملی ،عدالتی فیصلے کو سراہتے ہیں،شہباز شریف-وفاقی جامعہ اردو کراچی میں طلباء گروپوں کے مابین تصادم، کھڑکیاں ،دروازے توڑ دیے گئے انتظامیہ جھگڑا رکوانے میں ناکام ، پولیس اور رینجرز طلب کر لی گئی

GB News

موبائل کارڈ پر ٹیکس معطل، عملدرآمد کیلئے دو دن کی مہلت

Share Button

چیف جسٹس پاکستان نے موبائل کمپنیز اور ایف بی آر کی جانب سے موبائل کارڈز پر وصول کیے جانیوالے ٹیکسز معطل کر تے ہوئے احکامات پر عمل کرنے کے لیے دو دن کی مہلت دیدی، چیف جسٹس نے ریمارکس د یئے کہ آج کل تو ریڑھی والا بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے، وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آگیا، ٹیکس دہندہ اور نادہندہ کے درمیان فرق واضح نہ کرنا امتیازی سلوک ہے، آئین کے تحت امتیازی پالیسی کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے ٹیکسوں کو معطل کرنے کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے دو دن کی مہلت دیدی۔سپریم کورٹ میں موبائل کارڈز پرٹیکس کٹوتی کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کل تو ریڑھی والا بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آگیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس دہندہ اور نادہندہ کے درمیان فرق واضح نہ کرنا امتیازی سلوک ہے اور آئین کے تحت امتیازی پالیسی کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔کیس کی سماعت کے موقع پر چیئرمین ایف بی آر بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ جو شخص ٹیکس نیٹ میں نہیں آتا اس سے ٹیکس کیسے وصول کیاجا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ موبائل کالز پر سروسز چارجز کی کٹوتی کمپنیز کا ذاتی عمل ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ 130ملین افراد موبائل استعمال کرتے ہیں جبکہ ملک بھر میں ٹیکس دینے والے افراد کی مجموعی تعداد 5 فیصد ہے۔اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ 5 فیصد لوگوں سے ٹیکس لینے کے لیے 130ملین پر موبائل ٹیکس کیسے لاگو ہوسکتا ہے؟اس موقع پر عدالت نے کیس کی مزید کارروائی عدالتی وقفہ کے باعث ملتوی کر دی۔

Facebook Comments
Share Button