تازہ ترین

Marquee xml rss feed

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطے تحریک لبیک کے 322 رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا-سپریم کورٹ کا علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے جمع کروانے کا حکم-چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا تھر کا دورہ چیف جسٹس کے دورے کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آ گئے-خواجہ سعد رفیق ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں پیشی سابق وزیر ریلوے کو نیب اور پولیس کی تحویل میں عدالت میں لایا گیا-سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی تین رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ خالد داد لک ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک رکن بھی شامل ... مزید-لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب‘نون لیگ اور تحریک انصاف میں مقابلہ پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے سے 5 بجے تک جاری رہے گی-نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت‘فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی جواب الجواب دے رہے ہیں‘حسن، حسین کی پیش دستاویزات کو انڈورس ... مزید-صدر مملکت عارف علوی کی عمرہ کی ادائیگی صدر مملکت کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھولا گیا-گوگل پر احمق (Idiot) لکھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویردیکھیں کمپنی نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر مبینہ الزام کو مسترد کردیا-آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

GB News

عدلیہ عوام کا خون چوسنے کی اجازت نہ دے

Share Button

نگران حکومت نے عوام کو پہلا بدترین جھٹکادیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ساتھ بڑا اضافہ کردیا،پٹرول کی قیمت میں چار روپے سے زائد فی لیٹر اضافہ کردیا، نئی قیمت 91 روپے 96 پیسے مقرر کر دی گئی۔نگران حکومت نے عید سے قبل عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا’ڈیزل کی قیمت 6 روپے 55 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر کے نئی قیمت 105 روپے 31 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہی وقت میں کئے جانے والا سب سے بڑا اضافہ ہے ۔ یہ قیمتیں 12 جون سے 30 جون تک کیلئے بڑھائی گئی ہیں۔یکم جولائی سے نئی قیمتیں مقرر کی جائیںگی،سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اضافے کا فیصلہ نگران حکومت پر چھوڑ دیاتھااور نگران حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیاہے۔پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بے محابا اضافہ عوام کے ساتھ بدترین زیادتی ہے حالانکہپاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کیا جائے، اوگرا کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کو رد کیا جائے ،پٹرولیم مصنوعات پر200 تک پٹرولیم لیوی عائد ہونے سے عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو جائے گا۔فیول کی قیمتوں میں پچھلے چند ماہ کے دوران بار بار اضافے سے صنعت و تجارت سے وابستہ تمام شعبہ جات پہلے ہی بری طرح متاثر ہیں ،عوام پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز ادا کر رہی ہے ،حکومت پٹرولیم مصنوعات کی مد میں اصل قیمت پر70فیصد تک ٹیکس وصول کر رہی ہے جو دنیا بھر میں انتہائی بلند سطح کی شرح رکھنے والے چند ملکوں میں سے ایک ہے اس کے باوجود قیمتوں میں بتدریج اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے۔حکومت اگر حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی بجائے ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی شرح کم کرے، غیر پیداواری اخراجات میں کمی لائی جائے تاکہ پیداواری لاگت اور مہنگائی کم ہو سکے۔ فیول کی قیمتین بڑھنے سے بجلی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے اورمہنگی بجلی ،مہنگی پیداوار کا باعث ہے جس سے ملک میں ہوشربا مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔جس کی وجہ سے صنعتکاروں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ حکومت کے ریونیو میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔یوں تو کہنے کو ہماری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے بلندبانگ دعوے کرتی ہیں۔ عام شہری کی فلاح و بہبود کیلئے اربوں کھربوں روپے کے منصوبے پیش کئے جاتے ہیں۔ مگر عام آدمی پر جس چیز کی گرانی کے براہ راست اثرات سب سے زیادہ پڑتے ہیں ان کو مزید مہنگے سے مہنگا کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی۔ اس وقت پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50 روپے 27 پیسے فی لٹر ہے جبکہ صارفین کیلئے موجودہ قیمت تقریبا93 روپے ۔ اس طرح حکومت ہر لٹر پر 36 روپے 24 پیسے ٹیکسوں کی مد میں وصول کر رہی ہے۔ ڈیزل ایکس ریفائنری قیمت 55 روپے 9 پیسے ہے جب کہ صارفین 95 روپے 83 پیسے فی لٹر خریدتے ہیں یوں حکومت فی لٹر 40 روپے 74 پیسے زیادہ وصول کر رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پٹرول پر اصل قیمت سے 68 فیصد زیادہ وصول کر رہی ہے جب کہ ڈیزل پر 74 فی صد لٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو عوام پر ظلم ہے اور یہ اضافہ بھی کوئی مقررہ نہیں ہرپندرہ دن یا مہینے بعد اس میں ردوبدل ہوتا ہے جو عموماً اضافہ ہی کی صورت میں ہوتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا براہ راست اثر زندگی کے تمام شعبوں اور استعمال کی تمام اشیاء پر پڑتا ہے یوں ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے بڑھ کر عوام کے ساتھ زیادتی اور کیا ہو گی۔ اتنا اضافی بوجھ کوئی بھی عوام دوست حکومت اپنے عوام پر نہیں ڈالتی جتنا بوجھ ہماری عوام دوست حکومتیں عوام پر ڈالتی ہیں۔ حکمرانوں کو فی الواقع عوام سے محبت ہے تو انہیں پٹرول پر عائد بے تحاشا ناروا ٹیکسوں میں کمی کرنا ہو گی تاکہ اسکی قیمت میں کمی ہو اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے۔کچھ عرصہ قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پڑولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسز کے اطلاق کانوٹس لیتے ہوئے وزارت پٹرولیم، وزارت خزانہ، ایف بی آر اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے تحریری جواب طلب کیاتھا۔پٹرول ایک ایسی چیز ہے جس کا روز مرہ کی قیمتوں پر انحصار ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فرانزک آڈٹ کروائیں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پٹرولیم مصنوعات پر ہوشرباء ٹیکسزکے اطلاق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا ہے، جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں سیلز ٹیکس لگا دیا جاتا ہے، جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی تو ٹیکس لگ جاتا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ قیمتیں 100 ڈالر سے 50 ڈالر پر آجائیں حکومت قیمتیں کم نہیں کرتی، پٹرولیم مصنوعات پرکس قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے، عالمی مارکیٹ اور پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہمارے یہاں ریجن سے کم ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوں تو عوام کو ریلیف نہیں ملتا، بھارت سے قیمتوں کا موازنہ نہ کریں، چارٹ بنا کر دیں کہ پٹرولیم مصنوعات پر کتنے قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے، آئل کمپنی اور ڈیلر کا مارجن کتنا ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پٹرولیم پر کسٹم ڈیوٹی، لیوی اور سیل ٹیکس کا اطلاق ہوتا ہے، پٹرول پر 11.5فیصد ٹیکس لگتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ شاید پٹرولیم پرڈھاکہ ریلیف فنڈز لگا ہے، متعلقہ وزارت اور ادارے، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے حوالے سے تحریری جواب داخل کریں۔اسے وطنِ عزیز کی بدقسمتی کہیں یا ملک کو چلانے والوں کی نا اہلی کہ دنیا جہاں کے وسائل و اسباب میسر ہونے کے باوجود پاکستان آج تک اْس مقام تک نہیں پہنچ سکا کہ جہاں ترقی پانے کے بعد حقیقت میں اسے ہونا چاہیے تھا۔ قانون اور نظام محض کاغذوں میں پایا جاتا ہے، معاملات جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کی طرح چل رہے ہیں۔ بہرحال، کاروبارِ مملکت تو چلانے ہیں اور اس کے لیے کثیر سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے جو دنیا بھر میں حکومتیں زیادہ تر ٹیکس کے ذریعے پورے کرتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں ٹیکس کا ایک یکساں نظام لاگو ہوتا جس میں دولت مند افراد پر ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی اور معاشرے کے نچلے طبقات پر کم دباؤ ڈالا جاتا۔ لیکن تیسری دنیا کے تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی الٹی گنگا ہی بہہ رہی ہے۔ یہاں سرمایہ دار ہو یا جاگیردار، ٹیکس کے معاملے میں اْس کو یا تو کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے یا پھر ایسے چور دروازے چھوڑ دیے جاتے ہیں،جن سے بااثر شخص باآسانی نکل جاتا ہے۔ اس کے برعکس چھوٹی مچھلی یعنی عام آدمی ٹیکس کے اس جال میں بری طرح پھنس جاتا ہے۔حیرت ہے نگران بھی عوام کو خون چوسنے والوں کی بات مان کر عوام پر بوجھ ڈالنے سے گریز نہیں کرتے حالانکہ انہیں تھوڑا سا عرصہ رہنا ہے حکومتی تحویل کے اداروں کو ریونیو جنریشن کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اس لیے عدلیہ کو چاہیے کہ وہ حکومت کو پابند کرے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات پر ہر قسم کے ٹیکس ختم کر کے محض دو تین روپے فی لٹر منافع لے اس سے زیادہ اسے عوام کو خون چوسنے کی اجازت نہ دی جائے۔

Facebook Comments
Share Button