GB News

نائجیریا کے خلاف اہم میچ میں فتح نے ارجنٹینا کے شائقین کی امیدیں دوبارہ جگادی

Share Button

دنیائے فٹبال کے بے تاج بادشاہ لائنل میسی ارجنٹائن کو عالمی چیمپئن بنوانے میں ناکام دکھائی دے رہے تھے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ان کا سحر ٹوٹ رہا ہے۔

تاہم ایسے موقع پر جب میسی شدید تنقید کی زد میں تھے، نائجیریا کے خلاف اہم میچ میں فتح نے ارجنٹینا کے شائقین کی امیدیں دوبارہ جگادی ہیں۔

2018 ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچز میں میسی اور ان کی ٹیم حریف ٹیموں کے سامنے بے بس نظر آئی۔

پہلے میچ میں آئس لینڈ کے خلاف ٹیم کی باڈی لینگویج تبدیل ہونے اور لائنل میسی کا پینالٹی مس کرنے کی وجہ مقابلہ 1-1سے ڈرا پر ہوا۔

میسی کی ٹیم کودوسرے میچ میں کروشیا کےخلاف0-3 سے اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم تیسرے میچ میں نائجیریا کو دو کے مقابلے میں ایک گول سے ہراکر میسی کی ارجنٹینا اگلے راؤنڈ میں جانے میں کامیاب رہی۔

ایک میچ ڈرا اور ایک میں شکست کے بعد ارجنٹینا کا اگلے راؤنڈ میں کوالیفائی کرنا مشکل دکھائی دے رہا تھا تاہم تیسرے میچ کی فتح نے اس کی یہ مشکل آسان کردی۔

یاد رہے کہ 1958 میں چیکوسلوواکیا نے ارجنٹائن کو 1-6 سے بدترین شکست دی تھی اور 1974 ورلڈ کپ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ارجنٹیناکی ٹیم عالمی کپ میں فاتحانہ آغاز نہ کرسکی۔

سپر اسٹار لائنل میسی تیسری بار میگا ایونٹ میں ارجنٹائن کی کپتانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ان کی ہمیشہ سے یہ بدقسمتی رہی کہ وہ ملکی سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ میسی کا ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ بہتر کومبنیشن نہ بننا ہے۔ میسی اس وقت سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور ان پر تنقید کے نشتر برسائے جارہے ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی ٹیم کی ناکامی کاذمہ دار فرد واحد کو ٹہرایا نہیں جاسکتا۔

میرا نہیں خیال کہ صرف اسٹارز کھلاڑی میسی، رونالڈو، نیمار، محمد صلاح، رومیلو لاکاکویا کوئی بھی کھلاڑی انفرادی پرفارمنس کی بدولت اپنی اپنی ٹیموں کو عالمی چیمپئن بنواسکتے ہیں۔

دنیا کے بہترین فٹبالر لائنل میسی کی میگا ایونٹ میں اب تک وہ پرفارمنس دیکھنے کونہیں ملی جو ان کی لیگ میچز میں ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر فٹبالرز پورے سیزن میں لیگز ہی کھیلتے ہیں اس وجہ سے کلب کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی ذہنی ہم آہنگی زیادہ ہوتی ہے۔

جیسے کہ بارسلونا کلب کی فتوحات میں میسی، نیمار اور لوئس سوریز ’’ٹرائیکا‘‘ کا کردار میں بہت اہم ہے۔

میسی ہسپانوی کلب بارسلونا کو 8بار اسپینش لالیگا چیمپئن شپ، پانچ بارکوپاڈی ریل، چار بار یوئیفا چیمپئنز لیگ ،تین بار یوئیفا سپر کپ اورتین بار فیفا کلب ورلڈ کپ جتواچکے ہیں لیکن قومی ٹیم کوابھی تک عالمی اعزاز دلانےمیں ناکام ہیں۔

لیگ میچز میں 30سالہ میسی کی پرفارمنس کو داد دیے بغیر کوئی رہ ہی نہیں سکتا۔ ان کی شاندار پرفارمنس کی وجہ سے ہی ان کا موازنہ پرتگالی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سے کیا جاتا ہے۔

رونالڈو میگا ایونٹ میں اسپین کےخلاف میچ میں ہیٹ ٹرک اور مراکش کےخلاف مجموعی طور پر 4 گول کرچکے ہیں لیکن اگر ہم ماضی کی طرف جھانکیں تو 2014 ورلڈ کپ میں پرتگالی ٹیم کی پوزیشن ارجنٹائن کی طرح تھی۔

رونالڈو کی ٹیم کا سفر گروپ اسٹیج پر ہی ختم ہوگیا تھا۔ پرتگال نے صرف گھانا کےخلاف ایک کامیابی حٓاصل کی تھی اور رونالڈو ایونٹ میں صرف ایک گول کرسکے۔

ارجنٹائن دو بار 1978 اور 1986 ورلڈ کپ چیمپئن بن چکا ہےاور دونوں بار ٹیم کو عالمی چیمپئن بنوانے والے ڈیاگو میراڈونا کا کردار بہت اہم تھا۔

ڈیاگومیراڈونا نے 1986 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں پہلا گول ہاتھ سے کیا تھا ۔ میرا ڈونا کے اس گول کو’’THE HAND OF GOD‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

لائنل میسی اور میراڈونا کے درمیان یکساں کھیل کے اسٹائل کی وجہ سے میسی کو’’ نیومیراڈونا‘‘کا خطاب دیا گیا۔ میسی کی قومی ٹیم میں شمولیت کے بعد ارجنٹائن کے شائقین نے ان سے توقعات وابستہ کرلی ہیں۔

2018ورلڈ کپ 30سالہ لائنل میسی کیلئے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ورلڈ کپ ان کے کیرئیر کا آخری ورلڈ کپ ہوگا۔

وہ روس میں ہونے والے میگا ایونٹ کے آغاز سے قبل اعلان کرچکےہیں کہ وہ 2018ورلڈ کپ کے بعد انٹرنیشنل فٹبال سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔

انہوں نے 2016 کوپا امریکا کپ کے فائنل میں چلی کے خلاف میچ میں شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ وہ چلی کے خلاف میچ میں پینالٹی ککس ضائع کرنے پر دلبرداشتہ ہوگئے تھے تاہم انہوں نےدو ماہ بعد اپنے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

لائنل میسی24 جون 1987کوارجنٹائن کے شہرروساریومیں پیدا ہوئے ۔ان کے والد جارج میسی اسٹیل فیکٹری میں منیجراور فٹبالر تھے۔میسی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ فٹ بال کے پیدائشی کھلاڑی ہیں تو غلط نہ ہوگا۔

انہوں نے4برس کی عمر میں مقامی فٹ بال کلب گرینڈولی میں اس کھیل کی تربیت کے لیے داخلہ لیا، جب وہ 6سال کے ہوئے تو ان کے والد نے ان کا داخلہ روسیو کلب نیوویلز اولڈ بوائز میں کروایا۔میسی کے والد ان داخلہ بارسلوناکے فٹ بال کلب میں کرانے کے خواہش مند تھے، اس لیے 2000میں انہیں اسپین بھیج دیا۔

2001 میں وہ ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونایوتھ ٹیم سے وابستہ ہوئے اورتاحال اسی ٹیم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے 2006 میں ورلڈ کپ میں ارجنٹائن ٹیم کی طرف ڈیبیو کرتے ہوئے پہلا گول سربیا کے خلاف داغا تھا۔ وہ 2011 سےٹیم کے قیادت کررہےہیں۔ لائنل میسی 2009 میں پلیئر آف دی ایئر اور 2010، 2011 اور 2012 میں مسلسل تین دفعہ’’ بیلن ڈی اور ‘‘ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

میسی نے ورلڈ کپ کوالیفائینگ راؤنڈ میں ٹیم کومیگا ایونٹ میں رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

خیال رہے کہ ارجینٹنا کو کوالیفائنگ راؤنڈ میں حریف ٹیموں کے خلاف سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا اور ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ارجنٹینا ورلڈ کپ میں شرکت کرنے سے محروم رہے گی لیکن یہ لائنل میسی ہی تھےجنہوں نے آخری میچ میں ایکواڈور کے خلاف ہیٹ ٹرک اسکور کرکے ٹیم کوشکست سے بچایا ۔

لائنل میسی 2014 ورلڈ کپ کے بہترین فٹبالر قرار پائے تھے۔انہوں نے راؤنڈ میچز میں بوسنیا و ہرزیگووینا، ایران اور نائیجریا کےخلاف ارجنٹائن کو کامیابی کے شاہراہ پر گامزن کیا تھا لیکن فیصلہ کن معرکے میں جرمنی کے ہاتھوں 0-1سے ارجنٹائن کی ناکامی کے بعد ان کا خواب ادھورا ہی رہا۔وہ 126میچز میں 64گول کرچکے ہیں۔

نائجیریا کو شکست دے کر ارجنیٹنا نے پری کوارٹر فائنلز کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ارجنٹیا جیت کے اس تسلسل کو برقرار رکھ پاتی ہے یا پھر میسی ایک مرتبہ پھر ارجنٹینا کو ورلڈ کپ جتوانے میں ناکام رہیں گے۔

Facebook Comments
Share Button