تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیر اعظم عمران خان کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری، سعودی حکام کی جانب سے روضہ رسولﷺ کے دروازے خصوصی طور پر کھول دیئے گئے-آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی چین کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل یانگ یوشیا سے ملاقات کی، دہشتگردی کے خاتمے، ہتھیاروں و سازوسامان کی ٹیکنالوجی اور ٹریننگ ... مزید-ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی خاتون نے ٹرک چلانا شروع کر دیا ناگرپارکر سے تعلق رکھنے والی خاتون مالی مشکلات کی وجہ سے ڈاکٹر نہیں بن سکی تھی-موسمیاتی تغیرات کے اس دور میں بجلی پیدا کرنے کیلئے ایٹمی توانائی کا استعمال امید افزاء آپشن ہے، ہم پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے فروغ کیلئے آئی ... مزید-سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں، وزیراعظم عمران خان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،سعودی عرب اور پاکستان دنیا میں اسلام کی حقیقی ... مزید-کیا کل نواز شریف اور مریم نواز کی سزا معطل کی جا رہی ہے؟ نیب عدالت کو مطمئن نہیں کر پا رہی اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ معاملات کس طرف جا رہے ہیں،ملزمان کا پلڑہ بھاری نظر آ ... مزید-اسد عمر اور اسحاق ڈار میں کوئی فرق نہیں اسد عمر نے بھی اعدادو شمار کا ہیر پھیر کر کے اسحاق ڈار والے کام کیے-پی ٹی آئی نے جو منشور دیاتھا اور جو اعلانات کیے ، ان پر عملدرآمد حکومت کا امتحان ہے ‘سراج الحق عوام نے انہیں گیس ، بجلی اور پٹرول مہنگا کرنے کے لیے نہیں، سستا کرنے کے ... مزید-اہل بیت کی عظم قربانی درحقیقت پوری امت مسلمہ کے لئے درخشاں مثال ہے‘چوہدری محمد سرور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی ... مزید-وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے مختلف شعبوں کا معائنہ

GB News

ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے وزیراعلی کے مثبت اقدامات

Share Button

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ٹریفک پلان کے حوالے سے منصوبے کی منظوری دی جاچکی ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں بڑی شاہراہوں پر ڈائیورجنز ، روڈ لائننگ اور مختلف مقامات پر پیدل چلنے والوں کیلئے پل تعمیر کئے جائیں گے جس پر جلد از جلد سروے کا کام مکمل کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہامفاد عامہ کے منصوبوں میں غیرضروری تاخیر اور غفلت برتنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ٹریفک کی صورتحال کے سدھار کیلئے وزیراعلی کے اقدامات و احکامات قابل ستائش ہیں’ہمارے ہاں ٹریفک کا حال اتنا بگڑ چکا ہے کہ کسی سلجھے ہوئے ڈرائیور کے لیے یہاں کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنا تقریب ناممکن ہے۔ آپ کسی ڈرائیور سے کچھ دیر ٹریفک کے قواعد و ضوابط پر بات کر کے دیکھ لیں۔ مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ جہاں سڑکوں کا حال آہستہ آہستہ کافی بہتر ہوتا جا رہا ہے وہیں بے ہنگم ٹریفک کا رش بھی اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سڑک پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام ہونے لگا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ حادثات کی منحوس خبریں میڈیا کی بریکنگ نیوز نہ بنتی ہوں۔ سائیکل موٹر سائیکل، رکشہ تانگہ، گدھا گاڑی، ٹریکٹر، کار، بس اور بڑی بڑی ہیوی ٹریفک سبھی اپنی اپنی منزل پانے کے لیے انہی سڑکوں کا استعمال کر تے ہیں۔  اب تو ہر جگہ یہ مسئلہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شہروں کی بڑی آبادی ہونے کے باوجود سڑکوں کو شہری ضروریات کے مطابق اب بھی پورا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ٹریفک جام میں پھنسے لوگ روز ہی اس مصیبت سے دوچار رہتے ہیں۔ پھر سڑکوں پر آئے دن گاڑیوں کا خراب ہونا، ایکسیڈنٹ ہونا، گدھا گاڑیوں کی کم رفتار، سائیکل، موٹر سائیکل کا اچانگ سڑک کے بیچوں بیچ آجانا، پیدل چلنے والے حضرات کا اچانک تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے سے سڑک پار کرنا، سڑکوں پر آئے دن جلوس نکالنا وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے اور ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کا دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ اسی طرح ماحول میں پلوشن بھی اس ٹریفک کی وجہ سے اتنا بڑھ گیا ہے کہ کئی لوگوں کو گلے اور آنکھوں کی سوزش رہنے لگی ہے۔ بچے اس بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے نہ تو سکول سیفٹی کے ساتھ آجا سکتے ہیں اور نہ ہی باہر کھیل سکتے ہیں جو بچوں کی نشونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ رات کی ٹریفک میں ہیڈ لائٹز کا استعمال جو کہ باقی ساری دنیا میں ایک سنگین جرم ہے، وطنِ عزیز میں بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے جس سے سامنے سے آنے والی گاڑی کے ڈرائیور کی آنکھوں میں روشنی کی شدت سے ڈرائیور کیلئے گاڑی چلانا شدید خطرہ بن جاتا ہے۔ سڑکوں کا کہیں بہت بڑا ہونا اور کہیں اچانک بہت چھوٹا ہونا بھی ٹریفک کے حادثات کا باعث بن رہا ہے اکثر ہائی وے پر جمپس بنا کر ٹریفک کے لیے مزید خطرات پیدا کیے گئے ہیں۔ ہائی ویز کو شہروں کے بیچوں بیچ گزار کر شہروں کی فضا کو بے جا آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہروں میں بلاوجہ کا ٹریفک جام کیا گیا ہے اور شہریوں کی جانوں کو خواہ مخواہ خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ ہائی وے پر پڑے گڑھوں اور بارشوں یا سیوریج سے جمع ہونے والے پانی سے بے شمار حادثات ہو رہے ہیں۔سڑکوں پر اچانک جانوروں کا گزر بھی ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ بن رہا ہے سڑکوں پر مناسب لائٹ کا انتظام نہ ہونا اور سڑک کے ٹریکز پر لائنزکا نہ ہونا بھی حادثات کا باعث ہے۔ اوپر سے آئے دن سیاست دانوں کی آمدورفت پر سڑکوں کو اچانک بند کرنے سے ٹریفک جام ایک عام بات بنتی جا رہی ہے جس میں کئی بچے اسکول دیر میں پہنچتے ہیں یا گھر دیر سے پہنچتے ہیں۔ نوکریوں پر جانے والے حضرات بھی اپنے باس کے آ گے شرمسار ہوتے ہیں۔ کئی لوگ اسی قطار میں لگی ایمبولینس میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ تو دوسری طرف ڈاکٹر مریض کے آپریشن کے لیے بروقت ہسپتالوں میں نہیں پہنچ سکتے۔ اسی ٹریفک جام کی وجہ سے سڑکوں پر ڈاکوؤں اور لٹیروں نے بھی اپنا غنڈہ راج خوب چمکایا ہوا ہے۔ آئے دن ٹریفک کے بیچوں بیچ لوگوں کو پستول کی نوک پر لوٹا جا رہا ہے پر حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گاڑیوں کی مینٹنس، بریک فیل، گاڑیوں کی بریک لائٹس کا خراب ہونا، اگلی لائٹس کا خراب ہونا، سب ٹریفک کے حادثات کا باعث ہیں۔ہم بدقسمتی سے ایک ایسی قوم ہیں جو نقل بھی درست طریقے سے نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا ملک کوئی اچھوتا ملک نہیں ہے جہاں سڑکوں پر خراٹے لیتی ٹریفک پائی جاتی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں لوگ گاڑیاں چلاتے ہیں بلکہ بہت سے ممالک ہمارے ملک سے حجم میں بہت چھوٹے ہونے کے باوجود ہم سے زیادہ گاڑیوں چلا رہے ہیں لیکن وہاں ٹریفک کے حادثات کی شروع اور ٹریفک جام ہمارے ملک کی نسبت بہت کم ہے۔اور یہ مسئلہ کوئی مسئلہ کشمیر نہیں ہے جس کو حل کرنے کے لیے اقواِم متحدہ کی قراردادوں پر عمل کروانے پر ہی زور دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ مسئلہ پانی کی طرح کا ہے جو بارشوں کا ہونا یا نہ ہونا ذمہ دار ہوسکتا ہے اور ہم قدرت پر الزام عائد کر کے سبکدوش ہوجائیں۔ نہ ہی یہ مسئلہ بجلی کی طرح پیچیدہ ہے کہ چین کے بغیر حل ممکن نہیں۔اصل میں لوگ موومنٹ کی آزادی چاہتے ہیں لوگ گھر سے کام پر اور کام سے گھر انے کے لیے راستہ استعمال کرنا چاہتے ہیں جو ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔لیکن اس بے ہنگم ٹریفک نے لوگوں کی اس آزادی کو سلب کر رکھا ہے۔ بڑی اور چوڑی سڑکیں اس مسئلے کا حل کبھی نہیں ہو سکتیں بلکہ زیادہ راستے اور سڑکیں اس مسئلے کا حل ہیں شہروں کو ٹریفک پر تقسیم کرنا چاہیے۔ شہروں کے گرد رنگ روڈ بنائے جائیں تاکہ باہر سے آنے والے لوگوں کو پورا شہر کراس کرنے کے بجائے رنگ روڈ کے ذریعے اپنی منزل سے قریب ترین سمت سے شہر میں داخل اور خارج ہونے میں آسانی ہو شہر کے اندرون ٹریک سڑکیں ون وے زیادہ سے زیادہ بنائی جائیں تا کہ ایکسیڈنٹ کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے کیونکہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اکثر ایکسیڈنٹ ایک ٹریک سے دوسرے ٹریک پرآتے ہوئے ہوتے ہیں۔ موٹر سائیکل، سائیکل، گدھا گاڑی، کیلئے الگ سڑک بنانی چاہیے تاکہ حادثات کو مزید کم کیا جائے سائیکل اور موٹر سائیکل سوار کی کسی بھی گاڑی سے ٹکر کی صورت میں جسمانی نقصان زیادہ تر دو پہیوں کی سواری پر سوار حضرات کا ہی ہوتا ہے۔ انڈسٹری ایریازکیلئے رنگ روڈزکو یقینی بنایا جائے تاکہ کہ ہیوی ٹرانسپورٹ کا شہروں میں بے جا استعمال بند ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ سروس کا جال بچھایا جائے اور کراس مناسب رکھے جائیں تاکہ لوگ سکوٹروں اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔سیاست دانوں کی آمدو رفت پر ٹریفک بلاک کرنے کے کلچر کو ختم کیا جائے ۔ یہ مہذب ممالک کا شیوہ نہیں ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے راستے کو بھی الگ ٹریک دینا چاہیے اور اسی ٹریک کو ایمبولنس اور فائر بریگیڈ اور پولیس کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ سڑکوں کے ٹریک ایک گاڑی کی چوڑائی سے زیادہ نہیں ہونے چاہیں تاکہ کراسنگ کا امکان نہ رہے جس سے ایک ہی قطار میں چلنے سے اوورٹیک کرنے کے دوران ہونے والے حادثات کا خاتمہ ہو۔  مختلف سکولوں کے ٹائم میں تبدیلی کر کے اور بازاروں کی ٹائمنگ میں بھی کچھ تبدیلی کر کے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے عمر کی معیاد بیس سے پچیس سال کی جائے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر گاڑی ضبط کی جائے اور چلانے والے کو بھاری جرمانہ کیا جائے۔ ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

 

 

Facebook Comments
Share Button