تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعظم عمران خان نے پولیس افسر طاہر خان داوڑ کے اغواءاور قتل کی تحقیقات کا حکم دیدیا خیبرپختونخوا حکومت اور اسلام آباد پولیس مشترکہ تحقیقات کریں گی‘وفاقی دارالحکومت ... مزید-ایس پی طاہر داوڑ کی افغنستان حوالگی میں ان کے دوست سہولت کار ثابت ہوئے ملزم دوستوں نے جس وقت طاہر داوڑ کو غیر ملکی قوتوں کے حوالے کیا تو اُس وقت وہ نیم بیہوشی کی حالت میں ... مزید-امریکا کی سول اور فوجی قیادت افغان تنازع کے غیر عسکری حل پر یقین رکھتی ہے . ترجمان سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ افغانستان میں جاری جنگ میں 6 ہزار 3 سو 34 امریکی اور 1ہزار سے زیادہ اتحادی ... مزید-سندھ سے گرفتار خواجہ سعد رفیق کے پارٹنرقیصر امین بٹ کا سفری ریمانڈ سابق رکن اسمبلی نیب میں پیراگون کیس شروع ہونے کے بعد سے روپوش تھے-افغانستان نے ایس پی طاہر داوڑ کو قتل کر کے جنرل رزاق کا بدلہ لیا افغانستان میں قونصلیٹ کے اندر باقاعدہ ویڈیو موجود ہے جس میں شہید طاہر داوڑ پر تشدد کیا جا رہا ہے اور کہا ... مزید-سید علی گیلانی کا غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر اظہار تشویش نظر بندوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حریت چیئرمین-بھارتی تحقیقاتی ادارے نے خاتون کشمیری رہنمائوںکے خلاف 4ماہ 10دن کی نظربندی کے بعد فرد جرم عائدکردی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین ٹیوٹر، فیس بک، یو ٹیوب کے ... مزید-حقیقی زندگی کے ''ویر زارا'' جو اپنی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہندو خاتون اور پاکستانی شہری گذشتہ 24 سال سے دبئی میں مقیم خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں-صدیق الفاروق نواز شریف کے قدموں میں گر پڑے نواز شریف کی احتساب عدالت میں پشی کے موقع پر قائد سے ملتے ہوئے صدیق الفاروق گر پڑے، دیگر لوگوں نے سہارا دے کر اٹھایا-کیمرے کی آنکھ نے عدالت میں بیماری کے بہانے کرنے والے ڈاکٹر عاصم کو پارک میں پکڑ لیا لاٹھی کے سہارے عدالت میں پیش ہونے والے ڈاکٹر عاصم ویڈیو میں بلکل ہشاش بشاش نظر آئے،ویڈیو ... مزید

GB News

انتخابی منشور اور گلگت بلتستان

Share Button

تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں گلگت بلتستان کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے عوام کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو مثالی وقربانیوں کی تاریخ سے عبارت ہے ، ہم گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی و معاشی حقوق کی فراہمی یقینی بنائیں گے، انتخابی منشور میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے جن میں معاشی ترقی کا فقدان، اقتصادی راہداری منصوبے یعنی سی پیک میں محدود شرکت ، مرکزیت کی حامل نوکر شاہی اور پہلے ہی سے قدرے بے اختیار قانون ساز اسمبلی جیسے مسائل شامل ہیں۔ یہ مسائل گلگت بلتستان کے عوام کیلئے ان کی قدرتی اہلیت و قابلیت اور وسائل کے مناسب استعمال کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، انتخابی منشور میں وعدہ کیا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کو خودمختاری دے کر گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیار بنائیں گے ، سیاحت ، معدنیات اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے ذریعے خطے میں بڑی معاشی سرگرمی کی راہ ہموار کی جائے گی ،راہداری منصوبے میں مقامی آبادی کی شمولیت کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو منصوبے سے مستفید ہونے کے ٹھوس مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے،انتخابی منشور میں سیاحت فروغ دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے’گلگت بلتستان کی بہتری و ترقی کے حوالے سے تحریک انصاف نے اپنے منشور جو وعدے کیے ہیں انہیں حوصلہ افزاء قرار دیا جا سکتا ہے لیکن تقریبا تمام سیاسی پارٹیوں کے منشور اسی طرح خوشنما اور کبھی نہ پورے ہونے والے وعدوں پر مشتمل ہوتے ہیں کیونکہ کوئی ان سے اس ضمن میں استفسار نہیں کرتا’منشور کا اجرا کسی بھی انتخابی عمل کا اہم ترین اور بنیادی مرحلہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے جمہوریت پسند اسے رتّی بھر اہمیت دینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔حقیقی جمہوری معاشروں اور باشعور اقوام کی طرف دیکھیں تو ان کے لیے انتخابی پروگرام کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں نہ صرف جامع اور مفصل منشور عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے بلکہ امیدوار اپنے منشور کی وضاحت بھی کرتے ہیں، مگر ہمارا کلچر اس سے مختلف ہے۔انتخابی منشور کسی جماعت کی اہلیت اور اس کی منصوبہ سازی کی صلاحیت کا اظہار بھی ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ کوئی جماعت کس طرح مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کو حل کرسکتی ہے۔ انتخابی منشور اس بات کا بھی ثبوت ہوتا ہے کہ ووٹروں کے مسائل اور مطالبات کو کوئی جماعت کتنی اہمیت دیتی ہے اور وہ عوام کی امیدوں پر پورا کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔ اس کا طرزِ حکمرانی کیا ہوگا، اقتدار سنبھال کر کس حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھے گی، اس کے نزدیک اجتماعی ترقی اور خوش حالی کیا ہے۔ یہ منشور بتاتا ہے کہ کسی سیاسی قیادت کی نظر میں ملک اور عوام کے حقیقی مسائل کیا ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے اہداف کا بھی ذکر کرتی ہیں۔ ووٹر اسی منشور کی بنیاد پر بعد میں منتخب نمائندوں کا احتساب کرسکتا ہے۔انتخابات سے قبل اور بَروقت ایک جامع اور مفصل منشور کا اعلان اور زمینی حقائق کے مطابق ایسے وعدے جن کی مقررہ مدت میں تکمیل ممکن ہو، سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایسا منشور پیش کیا جائے جس کی بنیاد پر انتخابی امیدوار اعتماد سے ووٹر کے درمیان جائے اور اسے یقین ہو کہ اس کی جماعت کا منشور محض فریب اور جھوٹ کا پلندہ نہیں بلکہ قیادت نے وعدوں کو عملی شکل دینے کیلئے ضروری وسائل اور طریقہ کار بھی طے کر لیا ہے۔ منشور میں خارجہ و داخلہ امور، اقتصادی پالیسی پر واضح اور تفصیلی موقف پیش کیا جاتا ہے جب کہ مختلف شعبوں میں اصلاحات اور اجتماعی ترقی و خوش حالی سے متعلق نکات لازمی ہوتے ہیں۔ تاہم کوئی بھی جماعت یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ملک کو قرضوں سے کیسے نجات دلائے گی اور کیا اقتدار میں آکر مزید قرضہ لے گی؟دوسری طرف زراعت کا شعبہ اصلاحات اور توجہ چاہتا ہے، پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کی آمدن کا بڑا انحصار زرعی اجناس پر ہے۔ ہمارے کاشت کار زرعی پانی اور پیداوار بڑھانے کے لیے سہولیات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسی طرح جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی نظام اپنی بدترین صورت میں آج بھی موجود ہے، جس کا خاتمہ کئی دوسرے مسائل اور تباہی کا راستہ روک سکتا ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، نئے تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کا قیام بھی ناگزیر ہے، لیکن سیاسی جماعتوں نے اس پر کوئی جامع اور قابلِ عمل پروگرام نہیں دیا۔ کرپشن ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن کسی بڑی سیاسی جماعت کا اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اور جامع پروگرام سامنے نہیں آیا۔ایک عام تاثر تو یہی ہے کہ عوام جذباتی وابستگی اور جلسوں میں دھواں دھار تقاریر اور پْرجوش نعروں کے علاوہ ہوا کا رخ دیکھ کر ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ سیاسی طور پر باشعور افراد بھی اکثر اسی کے زیرِ اثر ووٹ ڈالتے ہیں۔ یہاں مفادات کا ذکر نہیں، ورنہ مالی و سیاسی فائدے بھی لوگوں کی سیاسی رائے اور انتخاب بدلنے کا سبب بنتے ہیں۔بہت سے ووٹرز ایسے بھی ہیں، جو ایک سیاسی جماعت سے جڑے ہیں، تو چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹتے یا شاذ ہی اپنی سیاسی رائے بدلتے ہیں۔دیہات میں جاگیرداروں کا کسی پارٹی یا انتخابی اتحاد کی طرف جھکاؤ اور حمایت اہم ہوتی ہے، جب کہ بہت سے حلقوں میں منشور اور سیاسی جماعت سے قطع نظر کم برے’امیدوار کا انتخاب ترجیح رہتا ہے لیکن سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو آگاہی اور شعور دیں کہ انہیں انتخابی منشور کا جائزہ لے کر ووٹ جیسی امانت کا استعمال کرنا چاہیے۔ووٹروں کو یہ اندازہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں اقتصادی اور سماجی مسائل کو جاننے اور سمجھنے کی کتنی صلاحیت ہے اور کوئی پارٹی مسائل کو حل کرنے کا کیا طریقہ اپنائے گی اور کیا منصوبہ بندی کرے گی۔ اسی طرح سابق حکمراں جماعت کے نمائندوں سے انتخابی مہم کے دوران عوام کو پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے پچھلے دور میں جو انتخابی وعدے پورے نہیں کیے اس کی کیا وجہ ہے۔ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں اور دیہات کے ووٹرز کی اکثریت ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے شعور اور آگاہی نہیں رکھتی۔ان کی اکثریت برادری اور قبائلی نظام کی بنیاد پر ووٹ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہی نمائندہ ایک مرتبہ پھر ان کی ترجمانی کے لیے اسمبلی میں پہنچ جاتا ہے جس نے پانچ برس کے دوران ان سے کوئی رابطہ نہیں رکھا اور اپنے حلقے کا رخ نہیں کیا تھا۔ بدقسمتی سے عوام کی اکثریت اپنے ووٹ کی اہمیت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے آگاہی نہیں رکھتی۔ گائوں، دیہات ہی نہیں بلکہ شہروں میں بسنے والے ووٹرز بھی نعروں اور وعدوں سے آسانی سے بہل جاتے ہیں۔ تاہم اس بار متعدد حلقوں میں اہم اور بااثر امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم کے دوران لوگوں کے چبھتے ہوئے سوالات اور احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کی ویڈیوز گردش میں ہیں اور ان کے اس طرزِ عمل نے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو پریشان کر دیا ہے۔ اگر پڑھا لکھا طبقہ خصوصاً نوجوان ووٹر اپنے حلقوں میں قدم رکھنے والے پرانے چہروں سے ان کے دورِ حکومت میں اپنے انتخابی حلقے میں کیے گئے کاموں سے متعلق سوالات کریں تو توقع کی جاسکتی ہے کہ اس بار امیدوار اپنے حلقوں کے عوام کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔جہاں تک تحریک انصاف کے منشور کا تعلق ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کس حد تک اپنے وعدوں کو پورا کرے گی کیونکہ ماضی کے تلخ تجربات سیاسی جماعتوں کے بیان کردہ منشوروں کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔

Facebook Comments
Share Button