تازہ ترین

Marquee xml rss feed

ایشیاءکپ،پاکستان کی بھارت سےشکست،شائقین کرکٹ مایوس کھلاڑیوں کی ٹریننگ میں”اعصابی تناؤ کی مضبوطی“ پرتوجہ اولین ترجیح ہونی چاہیے، ہار جیت کھیل کا حصہ لیکن ہارا تو لڑ ... مزید-ایرانی سیکیورٹی فورس نے پاک ایران سرحد تفتان کے قریب مزید 149 پاکستانی لیویز فورس کے حوالے کر دیئے-پی ٹی آئی کا جیل سےرہائی کےبعد نوازشریف سے بڑا مطالبہ نوازشریف قوم کا پیسا واپس لے آئیں ہماری لڑائی ختم ہوجائے گی، نوازشریف سے ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔وفاقی وزیراطلاعات ... مزید-جعلی وزیر اعظم عمران خان کی جعلی حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے ‘ شاہد خاقان عباسی این اے 124کی سیٹ پر شاہد خاقان عباسی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرا کے یہ امانت نواز شریف ... مزید-اے این پی رہنماء کی متنازع ایشو پرعمران خان کی حمایت افغانی اور بنگلادیشی لوگوں کوشہریت کا حق آئین دیتا ہے، وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں حقائق پرمبنی بات کی ہے، افغان ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب سے گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور اور بین الصوبائی ہم آہنگی پر تبادلہ خیال-پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن(پنجاب) کے سالانہ انتخابات ، آواز گروپ نے میدان مار لیا-پنجاب میں بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب کی پیشین گوئی کے پیش نظرتمام پیشگی انتظامات مکمل کئے جائیں، متعلقہ محکمے ایمرجنسی پلان مرتب کریں،وزیراعلیٰ پنجاب کی کابینہ سب کمیٹی ... مزید-پاکستان کو اس کی اصل منزل سے ہٹانے والے ملک و قوم کے مجرم ہیں،کپتان نے پاکستان کو اس کی منزل کی طرف رواں دواں کر دیا، نئے پاکستان میں کمز ور اور غریب کو بھی ان کا حق ملے گا، ... مزید-وزیراعلیٰ کی اہلیہ اور صاحبزادیوں کی لاہو ر میں ایس او ایس ویلج آمد ، ایس اوایس ویلج میں مقیم بچوں کے ساتھ گھل مل گئیں، گیمز کھیلی او رگپ شپ لگائی ،مجھے یہاں آ کر دلی ... مزید

GB News

دیامر بھا شا ڈیم کی تعمیرنوملک کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے،حفیظ الرحمان

Share Button

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ دیامر بھا شا ڈیم کی تعمیرنوملک کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ بین الصوبائی تنازعات کو حل کرنے کے بعدہی ڈیم کی تعمیریقینی ہوگی۔ چندوں سے ڈیمزتعمیر نہیں کئے جاتے۔ دیامربھاشاڈیم کی سنگ بنیاد پہلی مرتبہ 2006 میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے رکھی اس کے بعد 2010 میں (ECC) سے منظوری کے بعد اس زمانے کی حکومت نے متاثرین ڈیم کے ساتھ ایک معاہدہ کیاگیا۔جس کے دو سے تین سالوں میں لینڈ ریکوزیشن سمیت تمام متنازعات کا حل طے پانا لازمی قرار دیا گیا۔ لیکن اس زمانے کی حکومت فنڈ فراہم نہ کر سکی جس وجہ سے لینڈ ریکوزیشن کا مرحلہ تعطل کا شکار رہا۔جب 2014 میں ملک کے وزیر اعظم نواز شریف تھے انہوں نے اس ڈیم کی تعمیر کو سنجیدہ لیتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے پہلے مرحلے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ صوبائی حکومت نے چھ مہینے قلیل عرصے میں 90 فیصد لینڈ ریکوزیشن مکمل کی اورزمینوں کے مقامی مالکان کو 52 ارب کی ادئیگی بھی کر دی۔دیامر بھاشا ڈیم کے پہلے مرحلے کو دو حکومتوں کے گزر جانے کے بعد بھی پانچ فیصد کا م نہ ہو سکا۔ لیکن ہماری حکومت نے اس مرحلے کو انتہائی محدود وقت میں شفاف طریقہ سے مکمل کیا۔لیکن دیامر بھاشا ڈیم کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے پہلے اس دور کی کے پی حکومت مداخلت سے ہر بن اور تھور کے علاقوں میں ہماری حدود پر دھاوا بول دیا گیا جس کی وجہ سے دو قبائل میں ہونے والے خونی تصادم سے نصف درجن سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ بین الصوبائی حدود تنازعے کے بعد دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر کا دوسرا مرحلہ جمود کا شکار ہو گیا۔ کیونکہ گلگت بلتستان قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کسی بھی قسم کا ممبر نہیں ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہئے کہ وہ چندوں کی بجائے بنیادی ضروری اور تکنیکی رکاوٹیں دور کرنے میں کردار ادا کریں جو ڈیم کی تعمیر کے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ہیں۔سابق وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو آرڈر 2018 کے نام پر ایک با اختیار ہمہ جہت پیکج دیا تھا جس میں پہلی بار گلگت بلتستان کو قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں بطور مبصر نمائندگی دی گئی لیکن بد قسمتی سے سپریم اپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے گزشتہ دنوں آرڈر 2018 کو معطل کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے جس پر وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا ہے۔ کیونکہ آرڈر 2018 وفاق کا عطا کردہ ہے۔ اور صوبائی حکومت نہ تو سپریم اپلیٹ کورٹ میں اس تنا ظر میں فریق ہے اور نہ ہی پیٹیشنر۔لہٰذا چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کو ان قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہربن،تھور کے حدود تنازعے کو خش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے بھی وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔تا کہ ملک بھر میں جاری ڈیم بناؤ شعوری مہم حقیقی معنوں میں کامیاب ہو سکے۔چندہ مہم سے ڈیمز نہیں بن سکتے۔ صوبائی حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے تعاون سے گزشتہ تین سالوں میں تیز ترین تعمیر و ترقی کے ایجنڈے کو فروغ دیا۔

Facebook Comments
Share Button