تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی مظہر عباس انتقال کر گئے مظرہ عباس راں کو گذشتہ روز صحت کی خرابی پر پنجاب اسمبلی سے اپستال منتقل کیا گیا تھا-حکومت پاکستان کا رواں برس حج پر 40 ہزار روپے سبسڈی دینے پر غور سبسڈی کی منظوری کے بعد فی کس حج اخراجات 4 لاکھ 20 ہزار روپے ہو جائیں گے-خاتون کو شادی کی تقریب میں اپنے کزن نذیر احمد کو کھانے کی پلیٹ دینا مہنگا پڑ گیا شکی شوہر نے بیوی پر کاروکاری کا الزام دیا، بھائیوں کے ساتھ مل کر خاتون کو قتل کرنے کی کوشش ... مزید-اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی حمزہ شہباز نے نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا-امریکی گلوکار ایکون بھی پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کی حمایت میں سامنے آ گئے پاکستانی مہمند فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ایکون نے اپنے ویڈیو پیغام میں دنیا بھر کے پاکستانیوں ... مزید-سندھ سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہونے والا ہے ، فاطمہ بھٹو کو گورنر لگایا جائے گا پیپلزپارٹی سے متعلق سینئیر صحافی چوہدری غلام حسین نے بڑی خبر دے دی-وزیراعظم نے ندیم افضل چن کو اپنا ترجمان مقرر کرنے سے پہلے کیا ہدایت کی؟ وزیراعظم عمران خان نے مجھے ہدایت کی ہے کہ لہجے میں عاجزی و انکساری لاؤ متکبرانہ رویہ نہیں ہونا ... مزید-خان صاحب آپ سے ایک بات کرنی ہے میرا بچہ بیمار ہے لیکن اس کے لیے یہاں بیڈ موجود نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بے نظیر بھٹو شہید اسپتال انتظامیہ کو فوراََ روتے ہوئے باپ ... مزید-سپریم کورٹ آف پاکستان نے اٹھارہویں ترمیم سے متعلق محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا سپریم کورٹ نے اٹھارہویں ترمیم سے متعلق سندھ حکومت کی درخواست مسترد کر دی-پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی اتحادی اختر مینگل کا اپوزیشن کے اجلاس میں جا کر بیٹھنا موجودہ حکومت کے لیے سیاسی خطرہ ہے۔ عامر متین

GB News

گلگت بلتستان کے حوالے سے وعدے بھی یاد رکھیں

Share Button

تحریک انصاف کے رہنماعمران خان نے انتخابات جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ نیا پاکستان بنانے کا خواب پورا کرنے کا موقع ملا ہے اور ہماری حکومت میں کسی کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔اقتدار میں آنے کے بعد منشور پر عمل کرنے کا موقع آگیا،اس اہم موقع پر چاہتا ہوں کہ سارا پاکستان متحد ہو، اپنے تمام مخالفین کو معاف کرتا ہوں، ہماری حکومت میں کسی مخالف کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی، قانون کی بالادستی قائم کی جائے گی، ہمارا کوئی آدمی غلط کرے گا تو اسے پکڑیں گے، احتساب مجھ سے شروع ہوگا اس کے بعد میرے وزراء کا احتساب ہوگا،عوام سے وعدہ کرتا ہوں ان کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا، ان کا ٹیکس چوری نہیں ہوگا، نیب اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو مضبوط کریں گے، سرکاری اخراجات کم کریں گے، غریب ملک میں شاہانہ وزیراعظم ہاؤس زیب نہیں دیتا،ہماری حکومت وزیراعظم ہاؤس کا فیصلہ کرے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں دھاندلی کا الزام لگارہی ہیں، موجودہ الیکشن کمیشن نون لیگ اور پی پی پی نے بنایا ہے پی ٹی آئی نے نہیں، انہیں جس حلقے میں دھاندلی کا شبہ ہے، ہم پوری مدد کریں گے اور وہ سارے حلقے کھلوائیں گے اور تحقیقات کرائیں گے، اپوزیشن کے خدشات کو دور کریں گے، قوم دعا کرے کہ اللہ مجھے اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا کرے، قوم سے وعدہ کرتا ہوں گورننس نظام ٹھیک کرکے دکھاؤں گا جو عوام کی زندگی آسان بنائے گا، سادگی اختیار کروں گا’افغانستان سے ایسے تعلقات ہونے چاہئیں کہ سرحدیں کھلی ہوں، امریکا سے ایسے متوازن تعلقات چاہتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو، ایران سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، سعودی عرب نے بھی ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، مشرق وسطیٰ میں ثالث کا کردار ادا کریں گے’بھارت سے اچھے تعلقات میں برصغیر کی بہتری ہے، تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے، اس میں دونوں کا فائدہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں، دنیا میں کسی بھی جگہ فوج آبادی والے علاقوں میں جاتی ہے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، پاکستان اور بھارت کو مذاکرت کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہیے، بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کیلئے تیار ہیں’تحریک انصاف کے رہنما نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ماضی کے حکمران بھی ایسے ہی دلفریب وعدے کرتے اور نعرے لگاتے رہے ہیں لیکن عملا کچھ نہیں ہوا تحریک انصاف سے عوام کو بہت سی توقعات ہیں اسی لیے انہوں نے اس پر اعتماد کیا ہے اب اس اعتماد پر پورا اترنا تحریک انصاف کی ذمہ داری ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ پھر اس کا پہلا اور آخری الیکشن ثابت ہو گا’یاد رہے کہپہلی بار قوم نے ثابت کیا کہ وہ عالمی استعمار اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے غلام نہیں ہیں۔ اب عوام کو ہی اپنے وحدت ، اتحاد اور شعور کے ساتھ ان انتخابات کا بھرم رکھنا ہے۔ملت کو اپنے اتحاد سے اب یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم بین الاقومی سامراج کے دبائو کو قبول نہیں کرتے اور اپنے ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔پولنگ کے عمل کی سب سے اہم اور اطمینان بخش بات یہ تھی کہ بعض جگہوں پرخواتین شدید بارش کے باوجود بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنوں پر پہنچتی رہیں اورآٹھ بجتے ہی ووٹرز میں قابل لحاظ تعداد خواتین کی بھی نظر آنا شروع ہو گئی تھی ، بارش سے متاثرہ پولنگ کے عمل میں سستی کاعنصر بھی نمایاں رہا جسے پولنگ کے عملے نے آخری ایک گھنٹے میں تیزی کے ساتھ ووٹ بھگتا کر کافی بہتر کر دیا اور پولنگ سٹیشنوں پر مقررہ وقت تک پہنچ جانے والے افراد اپنے ووٹ کاسٹ کرنے میں کامیاب ہوگئے،اس دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان ،پاک فوج کے افسران و جوان ، پولنگ کاعملہ اس پر امن اور آزادانہ الیکشن کے انعقاد پر مبارکباد کامستحق ہے ، ملک بھر سے بھی اسی قسم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پاکستانی شہریوں نے آزادانہ طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے ، ان حالات میں سیاسی جماعتوں کے قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قوم کو ہیجان ، بے چینی اور اضطراب میں مبتلا کرنے سے گریز کریں اور الیکشن کے نتائج انکے حق میں ہوں یا خلاف انہیں کھلے دل کے ساتھ تسلیم کریں،پاکستان مزید انتشار اور فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا ملک سے محبت کا تقاضا ہے کہ الیکشن کے بعد نفرتوں کو ختم کرنے کی مہم چلائی جائے اور عوام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے مزید تقسیم کرنے سے گریز کیا جائے۔ہم جانتے ہیں کہ اس قوم کے پاس پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہیں ہے ، مہنگائی نے جینا محال کردیا ہے، قوم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے ہیں ،اسے دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ہے،اس قوم کے لیے صحت کا حصول مشکل ہے اس قوم کی مقدر میں اچھی تعلیم کیوں نہیں ہے؟یہ درست ہے کہ عمران نے قومی مفادات کے خلاف ہونے والے غلط فیصلوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا،عمران خان اس ملک میں ایمانداری اور سچائی کے فروغ کے لیے کام کررہاہے اور یہ ہی بات ان کے مخالفین سے برداشت نہیں ہورہی ہے۔کیونکہ مخالفین اپنی لوٹ ما رکو چھپانے کے لیے اس قوم کو جھوٹ کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے تھے ، مگر قوم نے خود ہی دیکھ لیا کہ جھوٹ کی سیاہی کے وہ سیاہ دھندلکے دھل چکے ہیں اب انہیں ہر طرف اجالاہی اجالا نظر آنے لگا ہے طاقتور مافیا کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا ہے،مگر ساری صورتحال کے ساتھ ساتھ قوم نے یہ بھی تہیہ کرلیا تھا کہ یہ ہی شخص ہماری بے رونق زندگیوں کو خوشیوں میں تبدیل کرسکتاہے اورہماری نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل فراہم کرسکتاہے اور پھرالیکشن کا دن قریب آگیا یعنی 25جولائی کا دن ایسے دن اس قوم کے مقدر میں درجنوں بار آچکے ہیں یہ دن قوموں کی تقدیر بدلنے کا دن کہلاتاہے ، پاکستان کی کروڑوں عوام کو پھر سے ایک موقع ملا کہ آؤ پھر سے اپنے لیڈروں کو چن لوتاکہ تم اپنے بہتر مستقبل کی ضمانت لینے کے لیے کسی ایک کے ہوجاؤ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح بھی ہوتا چلا گیا کہ عوام کا فیصلہ بھی اٹل ہے، اس سے قبل ہم نے دیکھا کہ ملک میں جاری انتخابی مہم خون سے رنگین رہی ہے بہت ہی عجیب وغریب صورتحال سے دوچار انتخابی مہم میں گزشتہ ادوار کی طرح گہما گہمی بھی کچھ کم رہی، انتخابی امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے بے پناہ پابندیوں کے باوجود زور آزمائی میں کسی قسم کی کوئی کسر تو نہ رہی مگر سڑکوں پر جو الیکشن کے زمانوں میں پوسٹروں اور بینروں کی بہاریں تھی اس کی شدت نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود لوگوں کا جوش خروش دیدنی تھا لوگوں نے اس بار ٹھان لی تھی کہ تبدیلی لائیں گے اس بار لازمی طور پر عمران خان کو ہی اس ملک کی باگ ڈور دینگے ، تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیراور انتخابی امیدوار اکرا م اللہ گنڈہ پور سمیت اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کی شہادت اور اس کے ساتھ بیس سے زائد اور بھی لوگوں کی شہادت نے قوم کو یقینی طورپر شک وشبہے میں ڈال دیاتھا،لیکن یہ مرحلہ بھی سر ہوا جہاں تک عمران خان کی تقریر کی بات ہے انہوں نے ملکی امور’بین الاقوامی تعلقات’معیشت’معاشرت’خارجہ پالیسی’احتساب پر تو بات کی ہے لیکن گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کے ضمن میں اپنے وعدوں کی بابت انہوں نے کوئی بات نہیں کی حالانکہ اس موقع پر انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس حوالے سے بھی اپنی حکومت کی پالیسی واضح کرتے تاکہ برسوں سے اپنے حقوق کے منتظر عوام کی امید بندھتی اور انہیں یہ حوصلہ ملتا کہ نئی حکومت کو ان کے مسائل کا احساس و ادراک ہے اسلئے انہیں چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان کے حوالے سے اپنے وعدوں کو فراموش کرنے کی بجائے ان پر عملدرآمد کا اہتمام کریں۔

Facebook Comments
Share Button