تازہ ترین

Marquee xml rss feed

خیبرپختونخواہ میں ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان خیبرپختونخوا حکومت نے 4 ارب روپے کی بچت کے لیے صوبے میں 6 ہزار 500 ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیاکرلیا-حکومت ملک میں کاروبار ی لاگت کم کرنے اور کاروباری طبقے کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کر کے کاروبار کو آسان بنانے کے حوالے سے ملکی رینکنگ بہتر کرنے کیلئے پر عزم ہے، حکومت کاروبار ... مزید-اسلام آباد ،صرف آئی ایم ایف پر انحصار کرنے کی بجائے متبادل حل پر بھی کا م کر رہے ہیں،اسدعمر وال سٹریٹ جنرل کے انکشافات کی تحقیقات ہونی چاہیئے، اچھے فیصلے کروں یا برے ... مزید-ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب کا وزیر اعلی پنجاب سیکرٹریٹ کا بجٹ بڑھانے کی ترددید پچھلی حکومت کی جانب سے اس مد میں خرچ کئیے جانے والی رقم 802 ملین تھی جبکہ ہم نے جو رقم اس مد میں ... مزید-پاک پتن دربار اراضی قبضہ کیس،نواز شریف سمیت دیگر فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری، آئندہ سماعت پرعدالت کو اراضی کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے ،سپریم کورٹ-سابقہ حکومتوں نے جس انداز میں سرکاری وسائل اور عوام کے پیسوں کا استعمال کیا اور ملک کو جس دلدل میں دھکیلا ہے اس کی مثال نہیں ملتی، آج ملک تیس ٹریلین کا مقروض ہو چکا ہے۔ ... مزید-چترال میں کیلاش قبائل کی حدود میں تجاوزات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت،کیلاش قبائل کے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ نہ کیا جائے، انہیں مکمل آزادی اور حقوق ملنے چاہئیں،کیلاش ... مزید-سپریم کورٹ نے لاہورکے سول اور کنٹونمنٹ علاقوں میں لگائے گئے تمام بڑے بل بورڈز اور ہورڈنگز ڈیڑھ ماہ کے اندر ہٹانے کا حکم جاری کر دیا، پبلک پراپرٹی پر کسی کوبھی بورڈ لگانے ... مزید-کے الیکٹرک بکا ہی نہیں تھا اس لئے کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،خواجہ آصف-سپریم کورٹ کے فیصلے سے سعدیہ عباسی اور ہارون اختر تاحیات نا اہل نہیں ہوئے :آئینی ماہر بیرسٹر علی ظفر

GB News

شرپسندوں کے خلاف سرچ آپریشن اور یوم شہداء پولیس

Share Button

دیامر میں سرکاری سکولوں کو جلائے جانے کے واقعے کے بعدضلعی پولیس نے ضلع دیامر کی تحصیل تانگیرمیں شرپسندوں کے خلاف سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس کے دوران تانگیر ریمی کے ایک گھر میں روپوش شدت پسندوں اور پولیس کے مابین جھڑپ ہوئی۔جھڑپ میں گھر میں روپوش انتہائی اہم دہشت گردمارا گیا۔دہشت گردکی شناخت شفیق کی نام سے ہوئی جو افغانستان سے تربیت یافتہ تھا ،پولیس نے دہشت گرد کو انجام تک پہنچانے کے بعد تانگیر کے مختلف علاقوں میں آپریشن کا دائرہ کار بڑھا دیا اور جگہ جگہ ناکہ بندی کرکے سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے ادھر چھ سے زائد شدت پسندوں نے پہاڑیوں پر چڑھ داریل اور چلاس کے درمیان چلنے والی سرکاری گاڑیوں کو نشانہ بنایا،شدت پسندوں نے کئی گھنٹوں تک داریل روڈ کو یرغمال بنائے رکھادہشت گرد کسی بھی سرکاری گاڑی کو گزرتے ہوئے دیکھ کر فائر کھول دیتے ہیں۔دیامر کی تحصیل تانگیر کو شتیال سے ملانے والی سڑک پر بھی لرک ککیون داس کے مقام پر بھی شدت پسندوں کا مکمل قبضہ ہے’داریل تحصیل ہیڈ کوارٹر میں ایک اعلی سطح کا اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی کے تحت آپریشن پر غور کیا جارہا ہے۔داریل ،تانگیر اور چلاس کے عوام نے دہشت گردوں کے خلاف متفقہ طور پر قراردادیں پیش کی ہیں اور داریل تانگیر کے رہائشی علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا بھی اعلان کیا ہے۔اس صورتحال کے تناظر میں فورس کمانڈر ناردرن ایریاز میجرجنرل ثاقب محمود ملک نے آئی جی گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی کیساتھ ڈسٹرکٹ چلاس کا دورہ کیا۔ اورآپریشن کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا’کمانڈر کے مطابق مشکل گھڑی میں عوام انکے ساتھ ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ عوام شانہ بشانہ شرپسندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں انہوں نے شہید عارف حسین کے لئے دعا ئے مغفرت کی اور کہا کہ شہید ایک بہادر سپاہی تھا اور بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔تانگیر میں سیشن جج گلگت کی گاڑی پر بھی دہشت گردوں نے فائرنگ کی اورسیشن جج ملک عنایت الرحمن بال بال بچ گئے مگر دہشت گرد فائرنگ کرنے کے بعد آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ سیشن جج ملک عنایت الرحمن کا کہنا ہے دو کلومیٹر تک مختلف مقامات سے گاڑی پر فائرنگ کی گئی ۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے امن وا مان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میںامن جرگہ کی جانب سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیساتھ تعاون کوخوش آئند قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ دیامر کے تمام متاثرہ سکول جلد تعمیر کئے جائیں گے۔ علم دشمن عناصر کی سوچ کو شکست دی جائے گی۔ تعلیمی اداروں کی مناسب سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے یوم شہداء پولیس کے دن گلگت بلتستان پولیس کے بہادر پولیس جوانوں کی تعریف کی’دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن ان کی بیخ کنی تک جاری رہنا چاہیے تاکہ علاقے سے شرپسندوں کا خاتمہ ہو اور وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں’تعلیمی اداروں کو جلائے جانا انتہائی قبیح فعل ہے جس کی ہر جانب سے مذمت کی جا رہی ہے’علم دشمنی پر مبنی یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد قدامت پسندانہ سوچ کے حامل ہیںاور وہ خطے کی بچیوں کو علم کی دولت سے محروم کرنا چاہتے ہیں’یہ مٹھی بھر عناصر کبھی اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے جہاں تک یوم شہدائے پولیس کا تعلق ہے بلاشبہ ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں’ وطن کی ناموس کیلئے مر مٹنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے رہنا، زندہ قوموں کا ہی شیوہ ہوتا ہے۔ کوئی قوم بھی اْس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک وہ اپنے نظریے اور اپنی دھرتی کی ناموس کی ہر ایک شے سے بڑھ کر حفاظت نہیں کرتی۔ قومیں یقینی طور پر کبھی بھی کسی سے شکست نہیں کھا سکتیں جب تک وہ اپنی تاریخ کو اپنائے رکھتی ہیں۔ دْنیا کی ہر قوم پر کٹھن وقت ضرور آتا ہے لیکن زندہ قومیں اپنے اتحاد و یکجہتی اور بے مثال جذبے سے لبریز ہو کر تاریخ میں اپنے مقدس لہو سے ایسے نقوش چھوڑتی ہیں جنہیں صدیاں بھی ختم کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ایسی قوم کی صفوں میں یقینی طور پر ایسے لوگ ضرور موجود ہوتے ہیں جو بہادری وجرات کی لازوال اسلامی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ملک کے سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی اور مادرِ وطن کے دفاع کیلئے اپنا لہو بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ افواجِ پاکستان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی قوم کے یہ جری سپوت بے لوث جذبے سے سرشارمحض معمولی تنخواہوں کے عوض اپنے گھروں اور گھر والوں سے دور اپنے فرائض ِمنصبی سر انجام دیتے ہیں۔یوم شہداء پولیس کا دن منانے کا مقصدمحکمہ پولیس کے ان بہادروں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے عوام کی جان و مال کی خاطر جام شہادت نوش کیا ،شہادتوں کا یہ سلسلہ بہت طویل ہے’چار اگست 2010 کو پشاور میں آئی جی ایف سی صفوت غیور کو شہید کیا گیا جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی جس کے بعد ملک بھر میں پولیس افسران اور جوانوں کی شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پچھلے سال چار اگست کو قومی سطح پر پہلی بار قومی سطح پر یوم شہداء پولیس منایا گیا تاکہ قوم کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے ان بہادر پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے، ساتھ ہی پولیس کے شہدا کے لواحقین کو یہ احساس بھی دلایا جاسکے کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ پوری قوم کی ہمدردی موجود ہے۔ صفوت غیور شہید کے علاوہ ایس ایس پی چودھری اسلم کو کراچی میں شہید کیا گیا جبکہ 2013 میں کوئٹہ شہر میں دہشتگردوں نے ڈی آئی جی فیاض سنبل کو شہید کیا۔ پچھلے برس ڈی آئی جی حامد شکیل بلوچستان میں دہشت گردی کا نشانہ بنے، اس سے قبل ایس ایس پی قلعہ عبداللہ ساجد مہمند، ایس پی قائد آباد کوئٹہ مبارک شاہ ، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر عمر الرحمن، انسپکٹر عبدالسلام بنگلزئی بھی ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں میں شہید ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں چار خودکش دھماکوں سمیت بارہ حملوں میں 41 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ پنجاب میں بھی پولیس افسران و اہلکاروں کو دہشتگردوں نے شہید کیا جن میں ڈی آئی جی کیپٹن احمد مبین شہید اور زاہد محمود گوندل شہید، عصمت اللہ شہید اور امین شہید سمیت دیگر کئی نام شامل ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس افسران اور جوانوں کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا۔بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم شہدائے پولیس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دہشتگردی کو شکست دینے میں پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ شہداء ہمارے اصل ہیرو ہیں انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔پولیس سمیت دیگر تمام فورسز ملک و قوم کی محافظ ہیں لہذا پوری قوم کو پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یوم شہداء پولیس منانا چاہیے۔ پولیس کے شہداء ہماری قوم اور ہمارے ملک کے ہیرو ہیں ہم سب اپنے ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں، ان ہیروز کی قربانیوں کو تاقیامت یاد رکھا جائے گا جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں امن و امان اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ یوم شہداء پولیس منانا ایک احسن اقدام ہے جس کا مقصد نہ صرف پولیس کے ان افسروں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اس ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے اور قانون کی بالادستی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا بلکہ پولیس شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی ہے۔ دہشت گردی میں پولیس کے محکمے نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا لیکن ان کا جذبہ ہمیشہ بلند رہا ہے۔ہمیںپولیس کی ان عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے جو پولیس اہلکاروں نے ملک میں امن کی خاطر دی ہیں۔یوم شہدائے پولیس پر اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ صرف پولیس فورس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہداء ہیں اور ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھولے نہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے ہمیں ان کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے۔ نیشنل پولیس بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث عناصر سے لڑتے ہوئے ڈی آئی جی سے کانسٹیبل تک مختلف رینک کے ہزاروں پولیس افسران نے شہادت کے رتبے پر فائز ہوکر بہادری کی ایک نئی داستان رقم اور محکمہ پولیس کی توقیر میں اضافہ کیا ۔بلاشبہ شہریوں کے ساتھ جب کوئی حادثہ یا نا خوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو مشکل کی اس گھڑی میں وہ پولیس کو ہی اپنی مدد کے لیے پکارتے ہیں، کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پولیس ان کی مدد کو ضرورپہنچے گی۔ پولیس اہلکار چوبیس گھنٹے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر ہرطرح کے حالات میں مدد کو پہنچتے ہیں، موسم کی شدت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خاص طور پر موسم گرما میں پچاس ڈگری درجہ حرارت میں بھی باوردی کانسٹیبل بلٹ پروف جیکٹ اور بھاری بھرکم گن اٹھائے فرائض کی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن پولیس فورس کی بات کرتے وقت عوام کے ذہن میں فوراً منفی تاثر ابھرتا ہے ہر کوئی پولیس پر تنقید کرتا نظر آتا ہے، لیکن ان شکایات کے برعکس اگر پولیس کے اوقات کار کی طوالت اور ذمہ داریوں کو دیکھا جائے تو ہر ذی شعور کو اس بات کا ادراک ہے کہ پولیس جتنی سخت اور طویل ڈیوٹی دیتی ہے کسی اور محکمے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

Facebook Comments
Share Button