تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیر اعظم عمران خان کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری، سعودی حکام کی جانب سے روضہ رسولﷺ کے دروازے خصوصی طور پر کھول دیئے گئے-آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی چین کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل یانگ یوشیا سے ملاقات کی، دہشتگردی کے خاتمے، ہتھیاروں و سازوسامان کی ٹیکنالوجی اور ٹریننگ ... مزید-ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والی خاتون نے ٹرک چلانا شروع کر دیا ناگرپارکر سے تعلق رکھنے والی خاتون مالی مشکلات کی وجہ سے ڈاکٹر نہیں بن سکی تھی-موسمیاتی تغیرات کے اس دور میں بجلی پیدا کرنے کیلئے ایٹمی توانائی کا استعمال امید افزاء آپشن ہے، ہم پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے فروغ کیلئے آئی ... مزید-سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں، وزیراعظم عمران خان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،سعودی عرب اور پاکستان دنیا میں اسلام کی حقیقی ... مزید-کیا کل نواز شریف اور مریم نواز کی سزا معطل کی جا رہی ہے؟ نیب عدالت کو مطمئن نہیں کر پا رہی اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ معاملات کس طرف جا رہے ہیں،ملزمان کا پلڑہ بھاری نظر آ ... مزید-اسد عمر اور اسحاق ڈار میں کوئی فرق نہیں اسد عمر نے بھی اعدادو شمار کا ہیر پھیر کر کے اسحاق ڈار والے کام کیے-پی ٹی آئی نے جو منشور دیاتھا اور جو اعلانات کیے ، ان پر عملدرآمد حکومت کا امتحان ہے ‘سراج الحق عوام نے انہیں گیس ، بجلی اور پٹرول مہنگا کرنے کے لیے نہیں، سستا کرنے کے ... مزید-اہل بیت کی عظم قربانی درحقیقت پوری امت مسلمہ کے لئے درخشاں مثال ہے‘چوہدری محمد سرور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی ... مزید-وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے مختلف شعبوں کا معائنہ

GB News

انصاف کی فراہمی کا مکرر عزم

Share Button

 

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے عوام کھل کر اپنی تکالیف کا اظہار کریں ہم انصاف کیلئے بیٹھے ہیں’ بلاشبہ انصاف کی فراہمی معاشروں کی بقا کی ضامن ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ آج کا معاشرہ عدل وانصاف کا دامن چھوڑ کر جائز ناجائز خواہشات کی تکمیل میں کوشاں ہے اوریہ صورتحال معاشرے کے زوال کا باعث بن رہی ہے، مظلوم لوگ انصاف کیلئے در بدر پھر رہے ہیں ، جبکہ عدالتوں میں مقدمات کے انبار ہیں۔اس گمبھیر صورتحال میں معاشرے کی پہلی ضرورت سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ہے ، کیونکہ انصاف کی فراہمی میں سستی یا تاخیر کی وجہ سے ہی مسائل جنم لیتے ہیں اور افراد عدل کے ایوانوں سے مایوس ہوکر جدل کا راستہ اختیار کرتے ہیں جوریاست کیلئے کسی طور بھی موزوں نہیں۔جج صاحبان اسی وقت اپنا کام اطمینان اور سکون سے کر سکتے ہیں جب وہ مطمئن اور آسودہ ہوں، جج صاحبان اپنے اہل خانہ کو بھی مناسب وقت دیں اور اپنے طرز عمل ، کردار اور شخصیت سے یہ ثابت کریں کہ جج معاشرے کا باوقار طبقہ ہیں، اور وہ اپنے طرز معاشرت میں بھی ایسا معیار قائم کر سکتے ہیں جو دوسروں کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے سچ کہا ہے کہ ہمیں چاہیے ہم عدالتوں کے ساتھ اپنی فیملی معاملات میں بھی انصاف کریں تاکہ چائلڈ لیبر یا کسی بھی حوالے سے لوگ ہم پر انگلی نہ اٹھا سکیں، ہم جس علاقے محلے میں رہتے ہیں وہ ہماری پہچان ہونی چاہیے۔ صرف عدالت میں ہی نہیں بلکہ ہمارے اپنے گھروں میں بھی فیصلے انصاف کے مطابق ہونے چاہیں۔بلاشبہ عادل جج کو بڑامقام حاصل ہے ،سائلین کوایس ایم ایس کے ذریعے مقدمات کی معلومات فراہم کرنے کیلئے سہولت سنٹر کا قیام، ضلعی عدالتوں میں کال سنٹرز، ویڈیو لنک کورٹس اور مقدمات کی آٹومیشن کرنے کا فیصلہ، زیر التواء اور زیر سماعت مقدمات کو بروقت نمٹانے کیلئے کیس مینجمنٹ پلان ترتیب دینے کے فیصلے سمیت ان کے دیگر کئی اہم اور تاریخ ساز فیصلے عدالتی تاریخ میں مثال نہیں رکھتے۔انصاف کی فراہمی میں بہتری کی بدولت ہی عدلیہ کا وقار پہلے سے زیادہ بلند ہوسکتا ہے۔اسلام کے سیاسی نظام کی امتیازی خصوصیت فوری انصاف کی فراہمی ہے۔ پرامن اور آسودہ حال معاشرہ کے قیام کیلئے ہر نوع کے ظلم و ستم اور جبر و استحصال کا قلع قمع ناگزیر ہے۔آج پاکستان اور اس کے عوام لاتعداد سیاسی، معاشی، نفسیاتی عوارض سے دو چار ہیں۔ اس کا بنیادی سبب ناانصافی ہے۔کیا ایساملک اور معاشرہ اپنا وجود قائم رکھ سکتا ہے ؟یکساں تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولتیں فراہم نہ کرنا بھی ظلم اور ناانصافی کی ایک شکل ہے۔جس نظام میں مظلوموں کے دکھ درد سننے والا کوئی نہ ہو اس معاشرے میں سکون اور امن کیسے ہو سکتا ہے؟حکمران اور ریاستی ادارے اللہ کی زمین اور اس کے عطا کردہ وطن میں عدل و انصاف قائم کریں۔ اسی میں نجات، فلاح اور آسودگی ہے’دنیا بھر کے عدالتی نظام کی بنیاد عدل وانصاف پر استوار ہے جب کہ عدل بھی ایسا بلاتاخیر اور سستا جو شفاف ہو اور عدلیہ کی فراہمی انصاف کے مروجہ اقدار کاآئینہ دار ہو۔اس لیے عدالتی تاریخ کے ہر دور میں اس لازوال مقولے کی گونج سنائی دیتی رہی ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، ایک نامور روسی ادیب سولزے نتسن کا قول ہے کہ انصاف ضمیر ہے ، شخصی یا انفرادی نہیں بلکہ جو انسانیت کے ضمیر کی نمائندگی کرے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی نظام میں ایک مثبت شیک اپ ہو، عدالتی احتساب کی کوئی نظیر عوام کی نگاہوں کے سامنے آجائے، عدلیہ رونما ہونے والی غلط اموات کا جائزہ لے اور ممکنہ طور پر عدالتی اصلاح کے لیے جاری عمل کو مہمیز کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ ایک طرف پولیس کی فرسودہ تفتیش، کمزور پراسیکیوشن و چالان اور مصدقہ و حقیقی گواہوں کے بلا اکراہ بیانات ،ان کے عدالتوں میں آمد پر تحفظ کی ضمانت اور مقدمات کے عدالتی فیصلوں میں تاخیر کے ازالہ کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ پولیس سے لے کر چھوٹی عدالتوں تک بے انتہا پیچیدگیاں اور خامیاں موجود ہیں۔کتنا درد انگیز تناظر ہے کہ ایک عدالت نے سزائے موت دی اور دوسری عدالت نے بری کردیا تو معلوم ہواکہ قیدی ”قید ِحیات و بند ِغم ” سے ہی چھوٹ گیا یا جس نے اپنی عمر عزیزی کے کئی سال جرم بے گناہی میں گزارے تو اس کے اور اس کے اہل خانہ کے دلوں پر کیا گزری ہوگی۔ عدلیہ انصاف اور ظلم کے درمیان رونما ہونے والے واقعات کا نوٹس لے، سزا ان عمّال کو بھی ملنی چاہیے جن کی کوتاہی سے کسی کی جان جائے۔ بلاشبہ عدلیہ نے ججز کی تقرریوں میں بے ضابطگی کا سختی سے نوٹس لیا ہے، از خود نوٹسز سے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے، عوام عدلیہ کو ریاست کی آخری امید سمجھتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ عدلیہ صرف مختلف مقدمات کی جلد از جلد سماعت اور فیصلے تک ہی محدود نہ رہے بلکہ ان وجوہات پر بھی غور کرے کہ کیا وجہ ہے کہ مقدمات اتنی طوالت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر ان وجوہات کے ازالے کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں۔مقدمات کی طوالت کی ایک بڑی وجہ بہت ساری دیگر وجوہات کے علاوہ یہ ہے کہ مقدمہ کہیں کا ہوتا ہے اور اس کا فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔ عدالت ایک اور مقدمات ہزاروں۔ مسئلہ ملتان کااور فیصلہ ہو رہا ہے لاہور میں۔ ہونا یہ چاہیے کہ ہر یونین کونسل کے لیول پر ایک عدالت بنا دی جائے۔ یہ عدالت اس یونین کونسل کے مسائل کو یونین کونسل کی سطح پر ہی حل کرے۔ اس طرح سے لوگوں کو انصاف ان کے گھر کے نزدیک ہی مل جائے گا اور ان کو اپنے مقدمات کے لیے گھر سے بہت دور دھکے نہ کھانے پڑیں گے۔عدالتوں میں ججوں کی مدد کے لیے علاقے کے معززین جن میں اچھی کارکردگی اور شہرت رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ مثلاً ریٹائرڈ استاد، ڈاکٹر، وکیل، جج اور یونین کونسل کے ممبران پر مشتمل جیوری بنا دی جائے جو معاملات کو پرکھنے کے بعد فوری طور پر فیصلہ دے۔مزید یہ کہ جج صاحبان صرف اپنی عدالت تک محدود نہ رہیں۔ بلکہ جیسے ہی کوئی معاملہ ان کے نوٹس میں آئے وہ موقع پر پہنچ کر دیکھیں کہ کون قصور وار ہے اور کون بیگناہ۔یہ تب ہی ممکن ہے جب عدلیہ کی رسائی نچلے درجے تک ممکن بنائی جائے گی۔ اس کے لیے قانون سازی کیجئے۔ ضروری اقدامات کیجئے۔بلکہ ہر یونین کونسل کے لیول پر نئی عدلیہ کے ساتھ ساتھ ایک نیا سیکیورٹی سنٹر بنایا جائے جس کے اہلکار عدالت کے ماتحت ہوں۔ اس طرح سے ہم نہ صرف عدالت کو خود مختاری کی طرف لے جا ئیں گے بلکہ فوری انصاف کا بول بالا بھی ہو گا۔مزید شفافیت کے لیے عدالت کی کارروائی باقاعدہ ریکارڈ کی جائے وڈیو ریکارڈنگ۔ جس کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے۔ان اقدامات کے بعد لوگوں کے مسائل میں کمی آئے گی اور عدلیہ کے انصاف کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ظلم و ناانصافی کا یہ حال ہے کہ لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ان کو حکومتی سطح پر کوئی انصاف ملتا دکھائی نہیں دیتا جس کی وجہ سے عوام کی نظریں عدالت عظمیٰ پر لگی دکھائی دیتی ہیں۔ چیف جسٹس جہاں جاتے ہیں وہاں اداروں کی ناگفتہ بہ حالت دکھائی دیتی ہے ،عاجز اورمجبور عوام اپنی فریادیں لیکر چیف جسٹس سے انصاف کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، چیف جسٹس اس وقت جو کردار ادا کررہے ہیں وہ عوام کی امنگوں کا ترجمان اور حکومت کیلئے لمحہ فکریہ، کاش ہماری حکومت اپنے فرائض صحیح طرح سے انجام دیتی تو آج عوام کا معیار زندگی بلند ہوتا،تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر ہوتیں ، ملک میں امن و امان ہوتا اور لوگ عدم تحفظ کا شکار نہ ہوتے۔ہم امید کرتے ہیں کہ چیف جسٹس لوگوں کو انصاف فراہم کر کے ان کی مشکلات کے ازالے کو ممکن بنائیں گے۔

Facebook Comments
Share Button